ایل پی جی گیس سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ سے عام آدمی مزید پریشان ہوگا۔ ویمن انڈیا موؤمنٹ

17

ایل پی جی گیس سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ سے عام آدمی مزید پریشان ہوگا۔ ویمن انڈیا موؤمنٹ

نئی دہلی۔(روزنامہ نوائے ملت)۔ویمن انڈیا موؤمنٹ (WIM) نے ہندوستان کے بڑے شہروں میں غیر سبسڈی والے ایل پی جی سلنڈروں کی قیمتوں میں اضافے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عام عوام مخالف حکومت کیلئے شرم کی بات ہے۔ اس ضمن میں ویمن انڈیا موؤمنٹ کی قومی صدر محترمہ مہرالنساء خان نے اپنے اخباری بیان میں ایل پی جی سلنڈروں کی قیمتوں میں اضافے کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ عام آدمی کی پریشانیوں سے بے نیاز ہے۔مسنر خان نے اس معاملے پر حکومت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ منافع کی متلاشی بی جے پی حکومت عام آدمی کے بجٹ پر حملہ کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اچھے دن میں ایل پی جی گیس کی قیمت میں پچھلے پندرہ دنوں میں دو بار سو روپئے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس سے نہ صرف خاندانوں کے ماہانہ بجٹ بگڑا ہے بلکہ متوسط طبقے، غریبوں اور نچلے متوسط طبقے کیلئے بھی ایک بہت بڑی پریشانی لیکر آیا ہے۔ جس سے انہیں گیس سلنڈر خریدنے میں انتہائی مشکل پیش آرہی ہے۔ اس حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا ہے۔ وہاں کثیر ٹیکس لگ رہا ہے۔ اس حکومت نے اب تک اپنے دور اور اس سے پہلے کے دور حکومت میں ایکسائز ڈیوٹی میں لگ بھگ ایک درجن بار اضافہ کیا ہے اور اس سے لگ بھگ 22لاکھ کروڑ روپئے کمائے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ حکومت عام آدمی کو کچھ راحت پہنچائے، کیونکہ عام آدمی آج معاشی سست روی، بے روزگاری اور تنخواہ کی کمی کی وجہ سے پریشان ہے۔ مسنر خان نے مزید کہا ہے کہ مرکزی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر 103فیصد ایکسائز ڈیوٹی اور ریاستی حکومت نے فی لیٹر 38فیصد عائد کیا ہے۔ لگ بھگ پانچ کروڑ صارفین کو مسلسل آٹھ مہینوں نے ان کے بینک کھاتوں میں کوئی سبسڈی نہیں ملی ہے۔ لہذا، ویمن انڈیا موؤمنٹ امید کرتی ہے کہ حکومت عام آدمی کی ضروریات، غریب لوگوں کی ضروریات اور خواتین کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں اضافے کو واپس لے، کیونکہ 100روپئے فی سلنڈر بہت زیادہ اضافہ ہے۔ ویمن انڈیا موؤمنٹ کی قومی صدر مہرالنساء خان نے حکومت سے رعایت کرنے کو کہا ہے اور کہا ہے ایسا تب ہی ہوگا جب مرکز ایل پی جی سلنڈروں کی قیمتوں میں اضافے کو واپس لے۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ رواں سال مئی کے بعد سے زیادہ تر پکوان گیس صارفین کو سبسڈی نہیں ملی ہے کیونکہ تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں کمی اور گھریلو ریفل قیمت میں اضافے کے امتزاج سے سبسڈی اور مارکیٹ کی قیمتوں میں برابری آتی ہے۔