!کرسمس: کتنی حقیقت، کتنا فسانہ

37

تحریر: راشدامین القاسمی متعلم: المعہد الاسلامی حیدرآباد

یوں تو اس دار فانی میں بہت ساری قومیں وجود پذیر ہوئیں جن کے خاص طرزہائے زندگی، اقوال و اعمال، افکار و کردار اور نمایاں خد و خال کی وجہ بنو آدم نے ایک مثال و نظیر کی حیثیت سے یاد رکھا۔ ان میں کچھ قومیں وہ ہیں جن کے نقش قدم پر چلنا، ان کے اخلاق و اعمال کو مشعل راہ بنانا باعث فخر و سعادت سمجھا جاتا ہے۔ مگر کچھ قومیں ایسی بھی ہیں جن کی بداخلاقی و بدکرداری رہتی دنیا کے لئے وجہ عبرت اور قابل مذمت و ملامت بن گئی۔

ایسے ہی چند قوموں کا ذکر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں کیا ہے۔ ان ہی میں سے ایک نمایاں قوم ”عیسائی“ ہے۔ جس قوم نے بغض و عناد اور تمرد و سرکشی کے دام فریب کا اسیر ہوکر اس نبی کو سولی پر چڑھا دیا جسے خداوند تعالیٰ نے قوم کی راست گیری و دست گیری اور رہبری ورہنمائی کے لئے مبعوث فرمایا تھا۔ جنہوں نے خواہشات نفسانی اور ذاتی مفاد کی خاطر نور و ہدایت سے لبریز کلام الٰہی (انجیل) میں تحریف و ترمیم کیا اور پھر اس کتاب میں آیات الٰہی پر انسانی کلمات غالب آگئیں۔ جنہوں نے کج فہمی اور خواب غفلت میں محبوس ہوکر نوشتۂ مُنزّل اور زندگی گزارنے کا طریقۂ مُفصّل گم کردیا۔ ان کے لئے یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ اپنے نبی کی سیرت و کردار اور احوال و آثار کو محفوظ رکھ پاتے۔ گردش فلک کی ستمگری کہیں یا بنو آدم کا تغافل و تکاسل، رفتہ رفتہ آپ (عیسی) علیہ السلام کی حیات با برکات اور تعلیمات و افکار عنقاء و معدوم ہوتی چلی گئیں۔ اور مرور ایام نے وہ المناک و غمناک دن بھی دکھائے کہ ایک جلیل القدر اور رفیع الذکر پیغمبر جسے باری تعالیٰ نے دنیائے رنگ و بو کے لئے زندہ و تابندہ مثال بنا کر ”روح اللہ“ کے لقب سے نوازا، اس ذات عالی کی خلقت و آفرینش کا دن تو کیا تاریخ بھی کسی کو یاد نہ رہا۔

 

تاریخ ولادت کی تعیین اور کرسمس کا پس منظر:

سال گزرتے گئے صدیاں بیتتی گئیں مگر چونکہ کوئی ایسا شخص موجود نہ تھا جسے تاریخ میلاد کا علم ہو اس لئے نہ تو کسی شخص کو اس دن سے واسطہ تھا اور نہ ہی ولادت مسیح کے نام پر کوئی جشن و تقریب منعقد کیا جاتا تھا۔ اچانک حضرت مسیحؑ کی یوم پیدائش منانے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اور اس اچانک بپا ہونے والے ”حادثۂ فاجعہ“ کا پس منظر کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ چوتھی صدی کے شروع ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ شہر روم میں مشعلیں بنانے والے ایک کاریگر نے ایک ایسا مشعل بنائی جس میں تیل ڈالنے کی ضرورت نہیں پڑتی ٹھی۔ ایک بار جب اسے روشن کردیا جاتا تو اور وہ مشعل گھنٹوں اپنے نور سے لوگوں کو مستفید کرتی رہتی۔ یہی وہ مشعل تھی جو بعد میں ”موم بتی“ یا ”کینڈل“ سے متعارف ہوئی۔ چونکہ یہ مشعل ایک نادر و نایاب اور بے نظیر ایجاد تھی، اسی لئے اس مشعل کو امراء و رؤسا کے ہاں شرف قبولیت حاصل ہوئی اور کاریگر کو خوب داد و تحسین سے نوازا گیا۔ اب تک یہ مشعل صرف شاہی درباروں اور -رؤسا کے محلوں تک محدود و مقید تھا۔ عام لوگ نہ تو اسے خرید سکتے تھے اور نہ اسے استعمال کر سکتے تھے۔ لیکن وہ گاریگر شاہی درباروں اور امراء سے حاصل ہونے والے تحائف و ہدایا پر قناعت کرنے پر راضی نہ تھا۔ وہ اس تجارت میں مزید ترقی و ترویج کا طلبگار تھا۔ اس کاریگر کے حلقۂ احباب میں شہر روم کا ایک پادری بھی تھا۔ کاریگر نے اپنے پادری دوست سے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو پادری نے اسے سمجھایا کہ اس دنیا کا یہ رواج ہے جو چیز مذہب سے مربوط و متصل ہو جاتی اسے چہار دانگ عالم میں تلقی بالقبول حاصل ہو جاتی ہے۔ لہذا! تم کوئی تدبیر سوچو کہ مشعل کا رشتہ گرجا گھر سے قائم ہو جائے۔ اور پھر دیکھو! کیسے تماری ایجاد ہر کس و نا کس کی زندگی کا جزو لا ینفک بن جاتی ہے۔

کاریگر چند دنوں تک مختلف تدابیر و تراکیب پر غور و خوض کرتا رہا۔ ایک دن وہ پادری اس کی دکان پر آیا۔ کاریگر نے اس سے کچھ سرگوشی کی۔ پادری کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔ وہ اتوار کا دن تھا اور تاریخ تھی ۲۵ دسمبر۔ پادری نے حاضرین کے سامنے یہ اعلان کیا کہ آج سورج غروب ہونے کے بعد تمام لوگ گرجا گھر آجائیں۔ آج ایک ایسی دعا کی جائے گی جو مکمل ہونے سے پہلے ہی قبول کر لی جائے گی۔ لوگوں نے حیرت بھری نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھا۔ لیکن چونکہ پادری کو معاشرے میں عزت و حرمت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، تو کسی نے کچھ کہنے کی جرأت و جسارت نہ کی۔ چنانچہ شام ہوتے ہی غروب آفتاب کے بعد سارے لوگ گرجا گھر میں حاضر تھے۔ جب اندھیرے کا کالا سایا ہر سو پھیل گیا تو پادری نے تمام حاضرین کے سامنے ایک ایک موم بتی جلا کر رکھ دی۔ اور لوگوں کو آنکھ بند کر کے دعا کرنے کے لیے کہا۔ یہ دعا گھنٹوں چلی۔ دعا ختم ہونے کے بعد جب لوگ واپس ہونے لگے تو ہر شخص کے لبوں پہ اس دعا کی مقبولیت کے چرچے تھے۔ یہ ٣٣٦ء ۲۵/ دسمبر تھا۔ عیسائی دنیا کا پہلا کرسمس۔ اور پھر ایک ”خدا ترس“ بزرگ ”سیتھیا کاڈایونیس اکسیگز“ نامی راہب کو جو کہ ایک نجومی بھی تھا، تاریخ کی تعیین و تحقیق کرنے کے لئے مقرر کیا گیا۔ اس راہب نے حضرت مسیح علیہ السلام کی ولادت ۲۵ دسمبر متعین کی کیونکہ آپؑ کی بعثت سے پانچ صدی پہلے سے ۲۵ دسمبر مقدس تاریخ سمجھی جاتی تھی۔ بہت سے دیوتاؤں کا اس تاریخ پر یا اس سے دو دن بعد پیدا ہونا تسلیم کیا جا چکا تھا۔ آفتاب پرست قوم اس دن کو متبرک و مقدس سمجھتی تھی اور اس دن عبادت میں گزارتی تھی۔ چنانچہ راہب نے آفتاب پرست قوم میں عیسائیت کو مقبول بنانے کے لئے حضرت عیسیؑ کی ولادت ۲۵ دسمبر کو متعین کردیا۔

۲۵/دسمبر کو ولادتِ مسیحؑ کے طور پر مقرر کرنے کا باقاعدہ آغاز بالکل غیر واضح اور بے بنیاد ہے۔ پہلی وجہ تو ہے کہ خود عیسائیوں کے درمیان اس قدر اختلاف رائے اور متضاد روایتیں ہیں کہ کسی ایک نتیجہ پر حتمی اور یقینی طور پر پہنچنا ممکن نہیں ہے۔ رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کلیسائی اسے ۲۵ دسمبر کو، مشرقی ارتھوڈوکس کلیسیا ٦ جنوری کو اور ارمینیہ کلیسیا ۱۹ جنوری کو مناتی ہے۔ عہد نامہ جدید میں اس بارے میں کوئی اشارہ نہیں ملتا۔ اس دن کی بنیاد کے متعلق ایک ہمہ گیر وضاحت یہ ہے کہ ۲۵ دسمبر در حقیقت پاگان (مشرک)روم کے تہوار یعنی نا مغلوب ہونے والے سورج دیوتا کا یومِ پیدائش کی عیسائی شکل تھی،جو کہ رومن سلطنت میں ایک مشہور مقدس دن تھا، جسے سورج دیوتا کی حیاتِ نوکی علامت کے طور پر انقلابِ شمسی کے دوران منایا جاتا تھا۔ (انسائیکلوپیڈیا آف برٹینکا، ڈیلکس ایڈیشن، شکاگو، کرسمس، ۲۰۰۹)

نیز قرآن مجید میں سورۂ مریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت مریم علیہا السلام کو دردِ زہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ہدایت کی کہ کھجوروں کے تنوں کو ہلائیں تا کہ ان پر تازہ پکی کھجوریں گریں اور وہ اس کو کھائیں اور چشمے کا پانی پی کر قوت حاصل کریں۔ اب فلسطین میں موسمِ گرما کے وسط یعنی جولائی، اگست میں ہی کھجوریں ہوتی ہیں ، اس سے بھی یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی ولادت جولائی یا اگست کے کسی دن میں ہوئی تھی اور ۲۵/دسمبر کی تاریخ غلط ہے۔ (مذاہبِ عالم کا تقابلی مطالعہ)

 

کرسمس ٹری:

کرسمس کے دوران ”کرسمس ٹری“ کا تصور بھی جرمنی کا پیدا کردہ ہے۔ مسیحی لوگ اپنی پرانی ثقافتی روایات کے مطابق کرسمس کے دن حضرت مریم علیہا السلام، حضرت عیسیٰ اور جبرائیل علیہما السلام کا کردار مختلف اداکاروں کے ذریعے ایک ڈرامے کی شکل میں پیش کرتے تھے۔ اس میں تمام واقعہ دہرایا جاتا تھا جو مریم کے ساتھ حضرت مسیحؑ کی ولادت کے ضمن میں پیش آیا۔ اس واقعے کے دوران درخت کو مریم علیہا السلام کا ساتھی بنا کر پیش کیا جاتا اور دکھایا جاتا کہ وہ اپنی تنہائی و بے بسی اور اداسی کی یہ ساری مدت اس ایک درخت کے پاس بیٹھ کر گزار دیتی ہیں۔ چونکہ یہ درخت بھی اسٹیج پر سجایا جاتا تھا اور ڈرامے کے اختتام پر لوگ اس درخت کی ٹہنیاں تبرک کے طور پر ساتھ لے جاتے اور اپنے گھروں میں ایسی جگہ لگا دیتے جہاں اُن کی نظریں اُن پر پڑتی رہیں۔ یہ رسم آہستہ آہستہ ’کرسمس ٹری‘ کی شکل اختیار کر گئی اور لوگوں نے اپنے اپنے گھروں میں ہی کرسمس ٹری بنانے اور سجانے شروع کر دیے، اس ارتقائی عمل کے دوران کسی ستم ظریف نے اس پر بچوں کے لیے تحائف بھی لٹکا دیے جس پر یہ تحائف بھی کرسمس ٹری کا حصہ بن گئے۔ کرسمس ٹری کی بدعت ایک عرصہ تک جرمنی تک ہی میں محدود تھی۔ ١٨٤٧ءکو برطانوی ملکہ وکٹوریہ کا خاوند جرمن گیا اور اسے کرسمس کا تہوار جرمنی میں منانا پڑا تو اس نے پہلی مرتبہ لوگوں کو کرسمس ٹری بناتے اور سجاتے دیکھا تو اسے یہ اچھا لگا لہٰذا وہ واپسی میں ایک ٹری ساتھ لے آیا۔ ١٨٤٨ءمیں پہلی مرتبہ لندن میں کرسمس ٹری بنوایا گیا۔ یہ ایک دیوہیکل کرسمس ٹری تھا جو شاہی محل کے باہر ایستادہ کیا گیا تھا۔ ۲۵ دسمبر ١٨٤٨ءکو لاکھوں لوگ یہ درخت دیکھنے کیلئے لندن آئے اور اسے دیکھ کر گھنٹوں تالیاں بجاتے رہے۔ اس دن سے لے کر آج تک تقریباً تمام ممالک میں کرسمس ٹری ہر مسیحی گھر میں بنایا جاتا ہے۔ (ایوری مینز انسائیکلوپیڈیا ، نیو ایڈیشن ۱۹۵۸ء)

 

کرسمس کے موقع پر ہونے والے جرائم و نقصانات: کرسمس کا آغاز اس غرض سے ہوا تھا کہ لوگوں میں مذہبی رجحان پیدا کیا جائے یا یہ کہہ سکتے ہیں کہ ابتدا میں یہ ایک ایسی بدعت تھی جس کی واحد فضول خرچی موم بتیاں تھیں، لیکن پھر کرسمس ٹری آیا، پھر موسیقی، پھر ڈانس اور آخر میں شراب بھی اس میں شامل ہو گئی۔ شراب کے داخل ہونے کی دیر تھی کہ یہ تہوار عیاشی کی شکل اختیار کر گیا۔ صرف برطانیہ کا یہ حال ہے کہ ہر سال کرسمس پر ۷/ارب ۳۰/کروڑ پاؤنڈ کی شراب پی جاتی ہے۔ ۲۵/دسمبر ۲۰۰۵ء کو برطانیہ میں جھگڑوں، لڑائی ، مار کٹائی کے دس لاکھ واقعات سامنے آئے۔ شراب نوشی کی بنا پر ۲۵دسمبر ۲۰۰۲ء کو آبرو ریزی اور زیادتی کے ۱۹ہزار کیس درج ہوئے۔ ایک سروے کے مطابق برطانیہ کے ہر ۷ میں سے ایک نوجوان نے کرسمس پر شراب نوشی کے بعد بدکاری کا ارتکاب کیا۔ امریکہ کی حالت اس سے بھی گئی گزری ہے ۔ امریکہ میں کرسمس کے موقع پر ٹریفک کے قوانین کی اتنی خلاف ورزیاں ہوتی ہیں کہ پورے سال نہیں ہوتیں۔ ۲۵دسمبر کو ہر شہری کے منہ سے شراب کی بُو آتی ہے ۔ شراب کے اخراجات چودہ ارب ڈالر تک پہنچ جاتے ہیں ۔ صرف اٹلانٹک سٹی کے جوا خانوں میں اس روز ۱۰؍ارب ڈالر کا جوا ہوتا ہے۔ لڑائی مار کٹائی کے واقعات کی چھ لاکھ رپورٹیں درج ہوتی ہیں۔ ۲۵دسمبر ۲۰۰۵ء کو کرسمس کے روزکثرتِ شراب نوشی کی وجہ سے حادثوں کے دوران اڑھائی ہزار امریکی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ پانچ لاکھ خواتین اپنے بوائے فرینڈز اور خاوندوں سے پٹیں۔ اب تو یورپ میں بھی ایسے قوانین بن رہے ہیں جن کے ذریعے شہریوں کو یہ تلقین کی جاتی ہے کہ وہ کرسمس کی عبادت کے لیے اپنے قریب ترین چرچ میں جائیں، شراب نوشی کے بعد اپنی گلی سے باہر نہ نکلیں ۔ خواتین بھی اس خراب حالت میں اپنے بواے فرینڈز اور خاوندوں سے دور رہیں۔ مذکورہ بالا اعداد و شمار ٢٠٠٤ء اور ۲۰۰۵ء کے ہیں۔چنانچہ کرسمس جسے ایک جلیل القدر نبی کی یوم میلاد کی حیثیت سے شروع کیا گیا تھا اس موقع پر جس قدر شراب نوشی، قمار بازی، عیاشی، فحاشی، بے حیائی، بداخلاقی، بدکرداری، قتل وقتال، عورتوں کے ساتھ دست درازی، ان کی آبرو ریزی و عصمت دری اور اس طرح کے متعدد جرائم کا جس قدر مظاہرہ کیا جاتا ہے کہ بعض اوقات ان کی تعداد سال بھر ہونے والے جرائم کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ یہ ساری حرکتیں اپنے عروج پر ہیں جن کا انسداد و تدارک تقریباً نا ممکن ہے کیونکہ اب کرسمس محض ایک مذہبی یا ثقافتی تقریب نہیں رہ گیا، بلکہ یہ عالمی تجارت کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ جسے ہر سال ملٹی نیشنل کمپنیاں اسپانسر کر کے کروڑوں افراد سے اربوں ڈالر وصول کرتی ہیں۔ جن کی ہر ایک نقل و حرکت کا مقصد صرف اور صرف پیسہ کمانا اور سرمایہ جمع کرنا ہے، جس کے حصول کے لئے قوموں کو آگ کی بھٹی میں جھونکنا ان کی جبلت و فطرت بن چکی ہے۔ بد قسمتی سے کرسمس ان ہی ظالم و سفاک ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن چکا ہے۔

 

کرسمس اور اسلامی نقطۂ نظر:

امت مسلمہ کو اس رب ذوالجلال کے حمد و ثناء اور تعریف و توصیف میں ہمیشہ رطب اللسان ہونا چاہئے جس نے ایسا دین اور مذہب عطا فرمایا جو گردش زمانہ اور مرور ایام کے بعد بھی ہر طرح کی قطع و برید اور حذف و اضافے سے محفوظ و مامون اپنی اصل شکل و ہیئت میں آج بھی سامنے من و عن موجود ہے۔ اگر چہ ہمارے اندر عقیدہ و اعمال کی خرابی آتی رہی لیکن اصل اور صحیح قرآن و حدیث کی تعلیمات ہمیشہ پیش کی گئیں۔ ہمارے ارد گرد بدعات و رسومات نے اپنے سر نکالے لیکن حق و صداقت کے متوالوں نے اور خلوص و للہیت کے شیدائیوں نے ان انسانی ذہن کی پیداوار اختراعات و خرافات کو قرآن و سنت کی تعلیمات تلے روند ڈالا۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ ہے اور یہ ساری تدبیریں اور انتظام کرتا ہے۔ اسلام سے پہلے آنے والا دین برحق ”نصرانیت“ زبردست تحریف و ترمیم اور انسانی کاٹ چھانٹ اور تراش و خراش شکار ہوا ہے۔ اس دین الٰہی کی ایک بھی منزل تعلیم و عقیدہ اپنی اصل ہیئت میں باقی نہیں رہی۔ چنانچہ ہر قدم پر خدائے واحد کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔

غیرمسلموں کے مذہبی تہواروں کے موقع پران کو مبارک باد دینے کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ چوں کہ یہ تہوار مشرکانہ اعتقادات پر مبنی ہوتے ہیں اور مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارے لیے شرک سے برأت اور بے تعلقی کا اظہارضرروی ہے۔ کرسمس کی مبارک باد دیناگویا ان کے نقطۂ نظرکی تائید ہے؛ اس لیے کرسمس کی مبارکباد دینا جائزنہیں۔ اگر اس سے ان کی دین کی تعظیم مقصود ہو تو کفر کا اندیشہ ہے۔ اور اگر کرسمس کے موقع پر صراحتاً کوئی شرکیہ جملہ بول دے تو اس کے شرک ہونے میں تو کوئی شک نہیں ہوگا۔بائبل کی تعلیم کے مطابق ایسے تہوار منانا جائز نہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے یہود و نصاریٰ کی مشابہت سے منع فرمایا۔ ایسے تہوار پر مبارک باد دینا حرام ہے۔ خاص مذہبی تہوار پر کسی غیر مسلم کو کوئی تحفہ دینا جائز نہیں۔ عیسائیوں کی نقالی میں رسول اللّٰہ ﷺ کا میلادمنانا بدعت بھی ہے اور غیر مسلموں کی مشابہت بھی۔