غزل از: شیبا کوثر آرہ بہار انڈیا

11

دٙردِ دل کو نہیں ممکن ہے بھلانا دل کا

خوب وہ جانیں ہیں کیسا ہے لبھانا دل کا

 

ایک تصویر فقط راج کرے ہے دل پر

بس وہی ہم نے سنھبالا ہے خزانہ دل کا

 

ہم کو آیا نہ کبھی حال چھپانا دل کا

آنکھ نے کھول دیا سارا فسانہ دل کا

 

اور ہر کام جہاں بھر کا کیا کرتے ہیں

نہیں ہم جانیں تو بس ایک دکھانا دل کا

 

چشم نم سے میں بجھا تی ہوں امید وں کے چراغ

یاد آتا ہے مجھے جب بھی زمانہ دل کا

 

ہم اگر جانا چاہیں بھی تو کہاں جائیں گے

اب تو فقط ایک ہی رہتا ہے ٹھکا نہ دل کا

 

دل کی دھڑکن میں یہ شور بپا ہے کوثر

کوئی سیکھے میری جاناں سے دل سے ملانا دل کا