‘بلیک واٹرز’ کے کانٹریکٹرز کو صدارتی معافی دینے پر عراق میں غم و غصہ

16

کمرۂ عدالت میں موجود لوگوں نے نو سالہ مسکراتے بچے کی تصویریں اٹھا رکھی تھیں جب بچے کا والد چار امریکی حکومتی کانٹریکٹرز کے لیے سزا کی استدعا کر رہا تھا۔

ان چار کانٹریکٹرز کو اس بلا اشتعال فائرنگ کا مجرم قرار دیا جا چکا تھا جس میں ایک بچے سمیت درجن سے زیادہ عراقی شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

محمد کنانی الرزاق نے 2015 میں سزا کے تعین والی ایک جذباتی سماعت میں ایک امریکی جج سے سوال کیا تھا کہ "ان مجرموں اور دہشت گردوں میں کیا فرق ہے؟۔”

ان چار کانٹریکٹرز نکولس سلیٹن، ایوان لبرٹی، پال سلو اور ڈسٹن ہیرڈ کو اقدامِ قتل، بلااشتعال فائرنگ اور دیگر الزامات کے تحت 30 سال تک قید کی سزائیں دی گئیں تھیں۔

ستمبر 2007 میں بغداد کے ایک مصروف چوراہے پر امریکی سفارت کاروں کی سیکیورٹی پر مامور سیکیورٹی ایجنسی ‘بلیک واٹرز’ کے اہلکاروں کی عام شہریوں پر فائرنگ پر بین الاقوامی سطح پر احتجاج سامنے آیا تھا۔

بلیک واٹرز کے گارڈز کو 30 سال تک قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔

اس واقعے کے بعد عراق میں امریکی آپریشن کی ساکھ پر بھی سوال اٹھے تھے جب عراق کی جنگ اپنے عروج پر تھی۔ فوجی علاقوں میں پرائیویٹ کانٹریکٹرز کے استعمال پر بھی حکومت دفاعی پوزیشن میں آ گئی تھی۔

اس دباؤ کے نتیجے میں کئی سال تک واشنگٹن میں مقدمے کی سماعت جاری رہی تاہم اس کا انجام منگل کو اچانک اس وقت ہو گیا جب صدر ٹرمپ نے قصور وار قرار پانے والے چار کانٹریکٹرز کے لیے صدارتی معافی کا اعلان کر دیا۔

ٹرمپ کے اس اقدام کو انسانی حقوق کے سرگرم کارکن اور بعض عراقی انصاف کا قتل قرار دے رہے ہیں۔

یہ خبر عراقی قیادت کے لیے ایک نازک موقع پر سامنے آئی ہے جب عراقی دھڑے ملک سے امریکی فوج کے مکمل انخلا پر زور دے رہے ہیں جب کہ حکومت کا اصرار ہے کہ یہ انخلا مرحلہ وار ہونا چاہیے۔

بغداد کے ایک شہری صالح عابد کا کہنا ہے کہ بدنام زمانہ ‘بلیک واٹرز’ کمپنی نے نصور اسکوائر پر عراقیوں کو سرِعام قتل کیا اور اب یہ خبر مل رہی ہے کہ امریکہ کے صدر نے ان سب کو معاف کر دیا ہے۔ لگتا ہے اُنہیں عراقی خون کی کوئی پراہ نہیں۔

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے بھی بدھ کو صدر ٹرمپ کے اس اقدام پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔

یہ صدارتی معافی ایسے موقع پر دی گئی ہے جب عراق سے امریکی فوج کے انخلا پر زور دیا جا رہا ہے۔

 

یہ صدارتی معافی ایسے موقع پر دی گئی ہے جب عراق سے امریکی فوج کے انخلا پر زور دیا جا رہا ہے۔

ادارے کا کہنا تھا کہ "یہ اقدام مستقبل میں اس طرح کے جرائم کے لیے دیگر افراد کی بھی حوصلہ افزائی کرے گا۔”

عراق کی وزارتِ خارجہ نے بھی کہا ہے کہ صدارتی معافی میں جرم کی سنگینی کا خیال نہیں رکھا گیا۔ وزارت نے کہا ہے کہ وہ امریکہ سے مطالبہ کریں گے کہ وہ اس فیصلے پر نظرِ ثانی کرے۔

کانٹریکٹرز کے حامیوں کا مؤقف

کانٹریکٹرز کے وکیل جو دس سال تک یہ مقدمہ لڑتے رہے ہیں، صدراتی معافی پر مختلف رائے رکھتے ہیں۔

وہ طویل عرصے تک زور دیتے آئے ہیں کہ فائرنگ کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کچھ جنگجوؤں نے کانٹریکٹرز پر حملے کی کوشش کی اور اپنے دفاع میں اُنہوں نے فائرنگ کی۔

ان کے بقول اس مقدمے سے متعلق پہلی فردِ جرم ایک جج نے خارج کر دی تھی اور یہ مقدمہ جو کانٹریکٹرز کی سزا پر ختم ہوا، اس میں شواہد کے بغیر ایک جھوٹی گواہی کو بنیاد بنایا گیا۔

کانٹریکٹرز کے وکیل برائن ہیبرلگ کا کہنا ہے کہ پاول سلو اور ان کے ساتھی ایک منٹ بھی جیل میں گزارنے کے حق دار نہیں ہیں۔

اگرچہ فائرنگ کے عوامل پر بہت بحث ہوتی رہی ہے لیکن سولہ ستمبر دو ہزار سات کے اس واقعے پر کوئی سوال نہیں جو اس کے بعد رونما ہوا جب کانٹریکٹرز سے کہا گیا کہ وہ کار بم دھماکے کے بعد امریکی سفارت کار کے لیے محفوظ راستہ نکالیں۔

یہ عراق، امریکہ تعلقات میں کشیدگی کا دور تھا اور اس سے پہلے ابو غریب جیل میں قیدیوں پر تشدد کا اسکینڈل سامنے آ چکا تھا۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے کانٹریکٹرز کے لیے معافی کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ اس اقدام کے امریکہ اور عراق کے سفارتی اور دفاعی تعلقات پر ممکنہ طور پر برے اثرات مرتب ہوں گے۔ وہ بھی ایسے میں جب عراق اپنے ملک میں امریکی فوجی کی موجودگی کا جائزہ لے رہا ہے۔