مکرمی:غزوء ہند کا اکثر شدت پسند علمائے کرام غلط استعمال کرتے ہیں۔غزوہء ہندکے استعمال مسلمانوں کو بھڑکانے اور خونریزی کے لئے کیاجاتا ہے۔ غزوہ ہندو کا مقصد بر صغیر پاک وہند پر مسلمانوں کی حکمرانی قائم کرنا ہے۔ ۷۱۲ میں محمد بن قاسم کی آمد کے بعد غزو ء ہند دھندلا گیا کیونکہ کچھ عسکریت پسند تنظیموں نے اس حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے ہندوستان میں حملہ کرنے کے لیے بھیجا تھا۔حدیث میں کہا گیا ہے کہ مقدس جنگ کے زریعے بر صغیر پاک وہند میں اسلام کو عام کرنا اور اس کا دفاع کرنا ہے۔ہند کی تعریف پیچیدہ ہے ساتویں صدی میں اس کا مطلب ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش اور بہت سے دوسرے ہمسایہ ممالک تھے آج اس تعریف کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا پاکستان اور دیگر ممالک کی عسکریت پسند تنظیمیں جذباتی اور ذہنی بنیادوں پر بھارت کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں اس کے لیے، وہ ان پڑھ نوجوانوں کو بھڑکانے کے لئے آنلائن ٹولز استعمال کر رہا ہے دوسری طرف، یہ تنظیمیں اپنے ملک میں عدم استحکام کی وجہ بنی ہوئی ہیں۔ہندوستانی مسلمان ہندوستان میں بہت کھلے ہیں اور دل و جان سے ہندوستانی قانون پر یقین رکھتے ہیں اسلامی نظریہ نہ صرف قرآن مجید اور ترازو میں ہے ،بلکہ ہر ایک سے آسان اور آسان تر ہر چیز کو سمجھنا ہے اسی طرح غزوہ ہند کو اپنی تاریخ، منطق اور فہم کے مطابق تجزیہ کرنا چاہیے اسلامی آئین کے مطابق، صرف مفتی اعظم ہی عجمہ کے ذریعہ عصری صورتحال کا جواز پیش کر سکتے ہیں لہذا آج کے مطابق وہ گاجوہ ہند کی تفصیل دے سکتا ہے ہندوستان کے تمام مسلمانوں کو اپنے زہن میں مذہبی اور آئینی مضامین پر عمل کرنا چاہیے تاکہ ہندوستان اور پر تشدد اور تنظیموں میں امن و سکون خشحالی رہے وہ ہندوستان میں تباہی اور عدم استحکام لانا چاہتے ہیں،وہ مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں ۔