جمعیت علماء روتہٹ حلقہ نمبر 4کی میٹنگ بحسن خوبی اختتام پذیر!

47

جمعیت علماء روتہٹ حلقہ نمبر 4کی میٹنگ بحسن خوبی اختتام پذیر!
انوارالحق قاسمی
جمعیت علماء نیپال کا ممبر خود بھی بنیں اور اپنے متعلقین کو بھی بنوائیں؛کیوں کہ کسی بھی تنظیم کے استحکام اور دائرۂ کار میں توسیع کے لئے افراد کی ضرورت ہوتی ہے،جس جماعت میں افراد زیادہ ہوتے ہیں،وہ جماعت پوری مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھتی ہے اور ملک کے قوم وملت کے فلاح و بہبود کے لئے پورے استحکام کے ساتھ کام کرتی ہے اور ساتھ ساتھ برسراقتدار حکومت ایسی مضبوط تنظیم اور جماعت کی بڑا احترام کرتی ہے،کیوں کہ اس سے قوم ملت میں اتحاد پیدا ہوتا ہے،جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :-(ترجمہ)اللہ کی رسی کو سارے لوگ مضبوطی کے ساتھ پکڑلو اور آپس میں پھوٹ مت ڈالو_اس کے علاوہ اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان والوں سے کہا ہے کہ اے لوگو !تم اللہ کی مانو ! اللہ کے رسول کو مانو ! اور تم اپنے امیر کی بات مانو! جو ان تین باتوں کو مانتے ہیں ،حقیقت میں یہی لوگ ایمان والے ہےہیں اس کے علاوہ ہمارے نبی تو یہاں تک فرمایا ہے کہ اپنے امیر کی نگرانی میں رات گزارنا بھی جزو ایمان ہے،اس لئے اس جمعیۃ علماء نیپال کے سرپرستوں کو اپنا امیر تسلیم کرتے ہوئے اپنی قوم وملت کی بہتری اور اپنی ایک امتیازی شناخت کے لئے جمعیۃ کی اس پہل کو سراہتے ہوئے اس ممبر سازی مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرانے کے لئے زیادہ سے زیادہ لوگ اس کا حصہ بنیں اور خالص للہیت کے لئے جمعیۃ علماء نیپال کا ممبر بنیں،کیوں کہ اس ممبرسازی مہم کا مقصد مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق کو عام کرنا ہے۔ تاکہ جمعیۃ علماء نیپال مضبوط ہوسکے_
ممبر سازی مہم کو ضلع روتہٹ حلقہ نمبر 4کےاطراف واکناف اور گرد ونواح میں تیز سے تیز تر اور مزید سرگرم کرنے کےلیےآج بتاریخ 21/دسمبر بروز پیر کوحلقہ نمبر 4/کی میٹنگ بعد نماز ظہر مدرسہ ندئے ملت/ بھسہا میں منعقد ہوئی ،جس کی صدارت حضرت اقدس مولاناشوکت علی صاحب قاسمی مدنی نے فرمائی۔
نظامت کے فرائض ملک نیپال کے نامور عالم دین حضرت مولانا محمد اسلم جمالی صاحب قاسمی بحسن خوبی انجام دیے۔
اور حضرت مولانامحمد خیرالدین صاحب مظاہری نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا، اور محبت واحترام کے حسین جذبات کے ساتھ مہمانوں کااستقبال کیا،اور کہا:کہ ہم بےحد ممنون و مشکور ہیں آپ تمام مہمانان عظام کا کہ آپ نے اپنی تمام تر مصروفیات کوبالائے طاق رکھ کر،جمعیت کی ایک آواز پرحاضر ہوئےہیں،اهلا وسهلا مرحبا .خوش آمدید، خوش آمدید۔
مجلس کاآغاز حضرت مولانا قاری محمد اسرارالحق صاحب قاسمی،ثانی سدیس(ناظم تعلیمات:جامعہ عربیہ دارالعلوم /جینگڑیا ونائب ناظم معہد ام حبیبہ للبنات)کی تلاوت قرآن سے ہوا،بعدہ شان رسالت میں عزیزم محمد تابش نے نذرانہ عقیدت پیش کیا ۔
پھر میٹنگ اپنے مقصد کی طرف رواں دواں ہوگئی۔
اور جمعیت علماء نیپال کےسکریٹری اور عظیم شخصیت حضرت مولانا قاری حنیف عالم صاحب قاسمی ،مدنی نے جمعیت کی مختصر خدمات پرروشنی ڈالتےہوئےفرمایا :کہ جمعیت ملک نیپال کی قومی، ملی ،سماجی تنظیم ہے،اور واضح رہے کہ یہ کوئی سیاسی تنظیم نہیں ہے؛مگر سیاست سے پیچھے بھی نہیں ہے، اورگفتگو کوبرقرار رکھتے ہوئے حضرت نے فرمایا :کہ لوگ کہتے ہیں :کہ جمعیت کام کرتی ہے یانہیں،اس کاہمیں کوئی پتہ نہیں، تو حضرت نے اس قول و اعتراض کےجواب میں کہا کہ جمعیت خوب کام کررہی ہے،اس میں کوئی دورائے نہیں ہے ؛البتہ "جمعیت علماء نیپال "سیاسی تنظیموں کی طرح نہیں ہے، کہ یہ بھی اپنی خدمات سے عوام کوباخبر کرنے کےلیے ہنگامہ آرائی اورتوڑ پھوڑ کرے؛کیوں کہ یہ سب ہماری تنظیم کےلیے شرعاوعقلا نامناسب ہے۔
ہماری تنظیم تو قرآن و احادیث کی روشنی میں اور سلف صالحین کے بتائےہوئے طریقوں کے مطابق بہت عمدہ کارنامہ انجام دےرہی ہے اور- انشاءاللہ العزیز -دیتی رہےگی۔
حضرت نے دوران گفتگو کہا: کہ "جمعیت علماء نیپال” لاک ڈاؤن کےزمانہ میں بھی غریب ومحتاج علماء کرام کی ہرممکن تعاون کی ہے، نیزحضرت نے کہا:کہ اس وقت کوذرایادکیجئے کہ جس وقت "سرہا”میں آگ لگی تھی ،جس کی لپیٹ میں تقریبا چارسو مکانات آکر خاکستر ہوگئی تھیں، اس موقع سے بھی جمعیت بلاتفریق مسلک وملت لوگوں کی مدد کی تھی۔
اسی طرح 2018ء میں طوفان اورہلاکت خیز سیلاب کے موقع سے "کوسی ندی” سے متصل اور قریب واقع گاؤں میں مقیم افراد کی جمعیت نے تین ٹرک مال کےذریعہ مدد کی تھی، اور بھی جمعیت کی بےشمار خدمات ہیں، کہاں تک میں شمار کراؤں۔
جمعیت علماء نیپال کےمرکزی ممبر حضرت مولانا محمد عزرائیل صاحب مظاہری نے سامعین سے مخاطب ہوکر کہا:کہ اب تک جمعیت کی طرف سے جوکوتاہیاں ہوئی ہیں، انہیں بھول جائیں اور ایک نئے امنگ وجذبہ کے ساتھ جم کر کام کریں-ان شاء اللہ -جمعیت ضرور ترقی کرےگی اور تنقیدی مزاج ہرگز نہ بنائیں!اس سے نقصان ہی ہے فائدہ نہیں ۔
اور مزید دیگر شرکاء نےمثلا:حضرت مولانامحمد جواد عالم صاحب مظاہری،حضرت مولانا محمد طیب صاحب، حضرت مولانا ومفتی امجد صاحب قاسمی،حضرت مولانا محمد درخشید انور صاحب، حضرت قاری شہاب الدین صاحب، حضرت مولانا ابواللیث صاحب سراجی، حضرت قاری بشیر صاحب، حضرت مولانا کلیم اللہ صاحب، مولاناخیر اللہ صاحب مظاہری،حضرت مولاناامجدصاحب قاسمی بسرام پوری ،حضرت مولانا قاری صابر صاحب، حضرت مولانا شمس الزمان صاحب قاسمی ، حضرت مولانا مجیب الرحمٰن صاحب قاسمی،حضرت قاری عبد الماجد صاحب،قاری سمیع اللہ صاحب عرفانی ،حضرت مولانا نبیل صاحب، حضرت قاری منیرالدین صاحب عرفانی اپنے قیمتی مشوروں سے سامعین کونوازا۔
اورپھر میٹنگ بحسن خوبی اختتام پذیر ہوئی ۔