غریب علمائے کرام کی حالت زار پرخصوصی توجہ امت کی اہم ذمہ داری.

25

غریب علمائے کرام کی حالت زار پرخصوصی توجہ امت کی اہم ذمہ داری.

بامروت لوگ پرانے نوکروں کو بھی سخت حالات میں فاقہ کشی کرنے کے لئے نہیں چھوڑتے مگر ہمارے حضرت مہتمم صاحب, جناب ناظم صاحب اور کہیں عزت مآب سکریٹری صاحب اپنے برسوں پرانے ماتحت علماء قراء وحفاظ کرام کو فاقہ کشی کرنے اور سردی گرمی میں بے یار ومددگار مع اہل وعیال اذیتوں سے جوجھنے کے لئے چھوڑچکے ہیں اور پوری بے شرمی کے ساتھ ان کی طرف سے آنکھیں بند کر اطمینان سے سیر وتفریح کررہے ہیں… اپنے گرم کمروں میں کرسی توڑ دانشوری فرمارہے ہیں…سردی کے حلوے اور گرم کپڑوں کی کوالٹی پر خوش گپیاں چلارہے ہیں… نظم ونثر اور تحریر وتقریر سے قوم کی اصلاح وتربیت کا نیک کام انجام دے رہے ہیں………………..ایسے ہی سفاک لوگوں کو میں "برہمن مولوی” کہتاہوں تو بعض بزرگوں کو انتہائی ناگوار خاطر محسوس ہوتا ہے.
آپ کی خفگی اپنی جگہ مگر یہ حقیقت بھی سمجھ لیجیے کہ کافی تعداد میں غریب علماء چھوٹے چھوٹے بزنس میں جاچکے ہیں باقی جو ہیں ان میں بھی بہت سے حضرات آئندہ مدرسے میں دین خدمت کے سوال پر تذبذب میں ہیں.لہذا اب آپ کو پہلے کی بہ نسبت کم استعداد بلکہ مزید کم استعداد اساتذہ ملیں گے!!!!!! پھر اسی طرح ایک دن شاندار عمارتیں تو کھڑی ہوں گی مگر سینکڑوں ہونہار طلبہ کی جگہ محض چندہ حلال کرنے کے لئے بیس تیس ٹائم پاس قسم کے وہ لڑکے رہ جائیں گے جن کو نہ اسم وفعل کی تعریف پتہ ہوگی نہ کلام اللہ یاد ہوگا, سال بسال قوالی کے طور پر سبق پورا کریں گے پھر ڈگری لے کر علمائےکرام کی شان میں عموماً اور اپنے اساتذہ کی عزت پر خصوصاً بٹہ لگائیں گے.اسی کو دوسرے الفاظ میں مدرسے کی ویرانی کہا جاتا ہے.

یہ تو "خدام مدارس” کا "خدام دین” کے تئیں سفاکی کی بات ہوئی اب ذرا ملی قیادت کے خودساختہ سرداروں کی بے حسی بھی ملاحظہ فرمائیں: تو سیاست سے دوری کا دعویٰ کرکے سب سے زیادہ سیاست کرنے والی تنظیمیں جو علماء ہی کے نام ونسبت پر قائم ہوئیں اور پلی بڑھیں ہیں. آج وہ علماء پر اتنے سخت حالات کے باوجود ہنگامی طور پر علماء کے لئے راحت رسانی اور ٹھوس امدادی قدم اٹھانے کے بجائے صرف اپنے دائرۂ ملکیت و اختیار کو وسعت دینے میں لگی ہوئی ہیں: کہیں صحیح کیلنڈر کو دوبارہ صحیح کرنے کی ضد ہے…. تو کہیں فاقہ کشی دور کرنے کے بجائے نماز جنازہ کی درستگی کا تربیتی پروگرام, …کہیں ایک ہی مقام پر اپنے اپنے دارالقضاء کھول کر سب کو قاضی بننے کی للک ہے تو ….کہیں سیاسی بازی گروں سے قربت کی بے قراری میں سوشل ڈسٹنسنگ کی بےاہتمامی کا مسابقہ, مگر غریب خدام دین کا مسئلہ دور دور تک ان کے ترجیحی مینو میں نہیں ہے. اناللہ……..

مجھے حیرت ہوتی ہے جب کچھ مردہ دل لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ اپنی خوشحالی کے باوجود اپنے مدرسے میں برسوں سے انتہائی قلیل تنخواہ پر قرآن وحدیث پڑھانے والے غریب علماء حفاظ کو عملاََ فارغ کرچکے ہیں اور فیس بک کی دنیا میں بڑی اونچی باتیں کرتے ہیں, کبھی سامنا ہوجائے تو برجستہ عارفانہ اشعار بھی سناتے ہیں,محبت و انسانیت کی باتیں کرتے ہیں, قوم وملت کی زبوں حالی پر ٹسوے بہانے کا ناٹک کرتے ہیں.آخر کہاں سے لاتے ہیں اتنی ڈھٹائی, بس شرمی, خود غرضی اور سفاکی. فالی اللہ المشتکی والیہ المستعان.

ایسے حالات میں عوام کو چاہئے کہ اپنے آس پاس کے مدارس کے اساتذہ و علماء کرام کی خصوصی ذاتی مدد کریں اور جب کوئی مدرسے کی رسید لے کر آپ کے پاس آئے تو مدرسے کی رسید کٹوائیں یا نہ کٹوائیں اس آنے والے مدرس کو ہدیہ ضرور دیں پھر چاہے آپ کا ارادہ ان کی حالت کے مناسب زکوٰۃ کی ہوتو وہ بھی ادا ہوجائے گی زبان سے کچھ کہنے کی حاجت نہیں.
دین کی اہمیت کے پیش نظر غریب علمائے کرام کی حفاظت اور ان کی خدمت مسلمانوں کیلئے عام انسانی یا اخلاقی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ خاص اسلامی فریضہ اور اہم ذمہ داری بھی ہے تاکہ ایک جماعت ہمیشہ فکر معاش سے بے پرواہ ہوکر فقہ فی الدین یعنی دین کی گہری فہم و بصیرت حاصل کرے اور امت کو خدا رسول کی مرضی بتائے. وَلْتَکُنْ مِّنکُمْ طَائِفِۃُُ لِّیَتَفَقَّھُوْا فِی الدِّین.

حسین احمد ھمدم
6200781496