دیوبند:(سمیر چودھری)

علاقہ کی مشہور و معروف دینی درسگاہ جامعہ ناشرالعلوم پانڈولی(ناگل ) کے مہتمم مولانامحمد ابراہیم قاسمی آج طویل علالت کے سبب بعد نماز مغرب اپنے مالکِ حقیقی سے جاملے،اناّ للہ و انا الیہ راجعون۔ ان کے انتقال کی خبر سے علاقہ کا ماحول مغموم ہوگیا اور نامو رعلماء کرام و ارباب مدارس اور سماجی، سیاسی شخصیات نے مولانامرحوم کے انتقال پرگہرے رنج و الم کا اظہار کرتے ہوئے تعزیت مسنونہ پیش کی۔ مرحوم مولانا محمد ابراہیم قاسمی کی عمر تقریباً 65 سال تھی اور وہ شیخ الحدیث مولانا سید انظر شاہ مسعودی کشمیریؒ کے شاگرد رشید تھے،خانوادہ شاہی سے خصوصی محبت و انسیت رکھتے تھے۔مرحوم گزشتہ تقریباً چالیس سال سے جامعہ ناشرالعلوم پانڈولی میں علمی و ینی خدمات انجام دے رہے تھے ،مرحوم کو علاقہ میں نہایت قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھاجاتاتھا اور مرحوم کا علمی، اصلاحی اور تربیتی فیض پورے علاقہ میں پہنچ رہاتھا۔ آ ج ان کے انتقال سے دیوبند، سہارنپور اور پانڈولی سمیت اطراف کا ماحول غمگین ہوگیا۔ پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ بچے اور بچیاں ہیں۔خبر لکھے جانے تک مرحوم کی تدفین نہیں ہوئی تھی۔ان کے انتقال پر نامور علماءکرام نے تعزیت مسنونہ پیش کرتے ہوئے رنج و غم کااظہار کیا اور ان کے انتقال کو عظیم علمی و ملی خسارہ قرار دیا۔ مرحوم کے انتقال پر دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی،دارالعلوم وقف دیوبند کے مہتمم مولانامحمد سفیان قاسمی، شیخ الحدیث مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی،نائب مہتمم مولاناشکیب قاسمی،نامور عالم دین مولانا ندیم الواجدی،دارالعلوم وقف دیوبند کے استاذ حدیث مولانا نسیم اختر شاہ قیصر، مولانا حسین احمد پانڈولی، مولانا عبدالقیوم ،حافظ ظریف احمد، مولانا محمد اصغر، قاری ممتا ز احمد قاسمی،مولانا مرتضیٰ،مولانا اسجد اور جامع مسجد سہارنپور کے منیجر مولانا فرید مظاہری نے گہرے رنج و الم کااظہار کرتے ہوئے مرحوم کے لئے مغفرت کی دعاءکی۔