اب میں مدرسہ میں نہیں پڑھاؤنگا  مولانامحمدمصورعالم ندوی استاذمدرسہ اسلامیہ گیاری ارریہ,بہار

44

 


ارریہ(توصیف عالم مصوریہ)
دوستو!یہ کوئی افسانہ یاکہانی نہیں, آج کا ایک حقیقی واقعہ ہےجومیں آپ سےشئرکرنےجارہاہوں.
آج مورخہ2020-12-16 صبح کاواقعہ ہے,جب میں مدسہ کےلئے گھرسےنکلاتومیری ملاقات ایک نہایت ہی متواضع ومتشرع اورشریف النفس آدمی سےہوئی,وہ پیدل ہی ایک طالبعلم کےہمراہ سائیکل لئےجس پرپیچھےپندرہ بیس کلوکےقریب دھان تھاوصولی کرتاہواکہیں سےآرہاتھا,میری جب ان پرنظرپڑی تووہ قدرےخفت کےاحساس کےساتھ منھ پھیرلیااوریہ تاثردینےکی کوشش کی کہ انہوں نےمجھےنہیں دیکھاہے,پھرمیں نےانکوبہت ہی پرتپاک اورحوصلہ بخش سلام کیااورقریب جاکرخبرخیریت معلوم کی توپتہ چلاکہ بندہ حافظ وقاری ہونےکےساتھ ساتھ ایک جیدعالم دین بھی ہے اور ایک نظامیہ مدرسہ کامدرس ہے.اسکےبعدانہوں نےآگےجودردناک باتیں بتائیں اگر ادنیٰ درجہ میں بھی اہمارےاندر کوئی دینی شعوراورایمانی غیرت باقی رہ گئی ہےتوہمارےرونگٹےکھڑےکردینےکےلئےکافی ہیں.
انہوں بتایاکہ حضرت! لاک ڈاؤن کےبعدمدرسہ جوبندہواہےابتک گھربیٹھاہوں.5000روپئےتنخواہ تھی,مدرسہ والوں نےکوروناکی تعطیل کےدوران نصف تنخواہ دینے کی بات کی تھی لیکن دس مہینےہوگئےاسکاابتک کوئی سراغ نہیں ہے,ابھی ہفتہ روزقبل جب میں نےمدرسہ والوں سےکچھ پیسوں کامطالبہ کیاتوانتظامیہ نےصاف منع کردیابلکہ لاکھوں میں کھیلنےوالےسکریٹری مدرسہ نےملاقات تک سےانکارکردیااورخبربھیجوادی کہ مولوی صاحب سےکہ دوکہ نصف تنخواہ کی بات طےہوئی تھی اگرچاہیئےتودھان کی وصولی کرکےلےلیں.اتنابیان کرنےکےبعدوہ صاحب نمدیدہ ہوگئےاورکہا:مولانا! میں اتنےمضبوط گھرسےنہیں ہوں کہ کچھ نہ بھی کروں توچل جائےگا,اس اگھن کےمہینےمیں بھی گھرمیں راشن نہیں ہے,کڑاکےکی سردی پڑرہی ہے اور بچوں کےپاس گرم کپڑےنہیں ہیں,جاؤں توکہاں جاؤں؟کیاکروں؟کسکےسامنےہاتھ پھیلاؤں؟مجھےبالکل سمجھ میں نہیں آرہاہے,مجبوراً چندہ کررہاہوں,دھان کی وصولی بھی برائےنام ہی ہورہی ہے,کوئی ایک کلودھان دےرہاہےتوکوئی دوکلواورکوئی تین کلو.کسی نے پانچ کلودےدیاتووہ اس اندازسےپیش آتاہےکہ سمجھیےانہوں نےمجھ پربہت بڑااحسان کردیا, لوگوں کی کڑوی کسیلی باتوں کوبھی برداشت کرناپڑتی ہے,حالات بہت ہی ناگفتہ بہ ہیں,کچھ قرض اترجائے اورتھوڑابہت خرچ نکل آئےاسکےلئےدھان کی وصولی کرلےرہاہوں,لیکن مولانا!میں نےٹھان لیاہےکہ "اب میں مدرسہ میں نہیں پڑھاؤنگا” "سائیکل پرکپڑےکی فیری کرنے یاآٹورکشہ اورٹیمپووغیرہ چلانےکاارادہ ہے,دعاءکردیں کہ اللہ کوئی انتظام فرمادے…………اسکےبعدوہ حافظ صاحب کہیئےکہ قاری صاحب کہیئے,کہ مولاناصاحب کہیئے,مجھ سےرخصت ہوگئے.
وہ توچلےگئےلیکن انکےجومسائل اورمسائل کےنتیجہ میں پیداشدہ انکے جوعزائم تھےانہوں نےمجھکواندرسےجھنجھوڑکررکھدیا,میری نگاہوں کےسامنےاسی وقت سے بس وہی آدمی ہے اوردل میں بس ایک ہی سوال باربارپیداہورہاہےکہ کیاوہ آدمی حافظ و قاری اورعالم ہوکرآٹورکشہ اورٹیمپوچلائےگا؟کیاوہ مدرسہ چھوڑکرکپڑوں کی فیری کریگا؟
کیاوہ آدمی حافظ و قاری اورعالم ہوکرآٹورکشہ اورٹیمپوچلائےگا؟کیاوہ مدرسہ چھوڑکرکپڑوں کی فیری کریگا؟ہائےاللہ یہ کیاہوگیا؟وہ یہ کام کرے,بےشک وشبہ کرےاوریقیناً کرے,اورسب جائزکام بھی کرےاسمیں کوئی گناہ نہیں ہےلیکن سوال یہ ہےکہ کیاوہ امت کبھی فلاح پاسکتی ہےجسکوخیرامت ہونےپرتونازہولیکن اسکےحفاظ ,قراءاورعلماءنان شبینہ کےمحتاج ہوں؟وہ امت کیسےفلاح پاسکتی ہےجو(اعمال چاہےجوبھی ہوں) سابقہ سبھی امتوں سےپہلےجنت میں جانےکادعویٰ توکرتی ہولیکن اسکی نگاہوں میں علماءوحفاظ کی یہ قدرہوکہ جب وہ فاقہ کشی یاکسی مصیبت میں مبتلاہوجائیں توبجائےانکی پرسان حالی کےانکااستہزاءکریں اور خودعیش کی زندگی گذاریں اورانکوصبرکی تلقین کریں؟ہم کیوں کرفلاح پاسکتےہیں جبکہ ہمارے علماء بھکاریوں کی مانند سڑکوں اورگلی کوچوں میں پھررہےہوں, ایک گھرکےسات سات چکر لگارہےہوں لیکن ہم خیرامت ہوکربھی تماشائی بنےیہ سب کچھ دیکھ اوربرداشت کرہے ہوں,بلکہ ہم انکےساتھ اہانت آمیزرویہ بھی اپنارہے ہوں.
یادرکھیےیہی حفاظ وقراءاورعلماءہمارےسربھی اورسروں کےدستاربھی ہیں,اگرہم نےانکی قدرنہ کی توپھرہماری ظاہری طورپربھی اورباطنی طورپربھی کوئی حیثیت اوروقعت باقی نہیں رہ جائےگی,یہ حفاظ وقراءاورعلماء امت کا وہ طبقہ ہیں کہ اگرہم نےانکی پگڑی اچھالنےکی کوشش توہماری پگڑی خودبخوداچھل کرگرجائےگی اورجب گرنےلگےگی تودنیاکی کوئی طاقت پھراسکوسنبھال نہیں سکتی ہے,خیرامت کی خیریت اگرمربوط ہےتو اسی طبقہ سےہے,ہرطرف شرکی فضاءاورماحول میں بھی خیرکی کوئی امیداورکرن اگرکہیں سےاورکسی طبقہ سےباقی ہےتویہی مدارس ومکاتیب اوراسی طبقہ سےہے,اسلئےخداراارزانی وقحط سالی کےاس دورمیں اگرباری تعالیٰ نےہمیں کچھ عزت,شہرت,دولت اورمقام و مرتبہ سےنوازاہےتوہم محتاجوں اورضرورتمندوں کی بالخصوص خدامِ مدارس ومکاتیب اورائمہ مساجدومؤذنین کی خبرگیری, دلجوئی اورمشکل کشائی کواپنی سعادت اورفریضہ سمجھیں,ابھی سردی کاموسم ہے ,اپنی معلومات کی حدتک حسب وسعت انکےلئےاورانکےبال بچوں کےلئےگرم کپڑےاورراشن کاانتظام کروائیں,کھیتی باڑی کرنےوالےحضرات کوشش کریں کہ عشرہ کےطورپرنکالےگئےاجناس کو مدرسہ میں لےجاکرخود پہونچائیں ,اگرکوئی مدسہ والا ہمارےدروازہ اورگھر تک پہونچ بھی جاتاہے توانکےعزت نفس کاخیال پوراپواررکھیں,اگرہم انکو کچھ دےنہیں سکتےہیں توکم سےکم دو میٹھےبول ہی بول دیں,رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کاپاک ارشاد ہے”الکلمۃ الطیبۃ صدقۃ” بھلی کہنابھی صدقہ ہے”
"تبسمك في وجه أخيك صدقة”
(آپکااپنےبھائی کےسامنےمسکرادینابھی آپکےلئے صدقہ ہے.