اویسی مسلمانوں کاوفادار ہےغدارنہیں!

47

محترم قارئین کرام! 

آج کل میرےوطن عزیزہندوستان میں سیاسی سرگرمیاں زورو شور پہ ہیں،جب بھی بات سیاست پہ آتی ہےتو پہلی سیاست مسلمانوں پہ ہوتی ہے،جیسے یہ قوم کسی فاتحے میں رکھی گئی مٹھائی کی طرح ہے،جو ہر سیاسی پارٹی اپنےآپ کو سیکیولر کہتی ہے، وہ مسلمانوں، دلیتوں، اورپچھڑوں کے ووٹ کاحق جتلاتی ہے، مگر جب کبھی مسلمانوں، دلیتوں، پچھڑوں پرظلم وستم کے پہاڑ گرائے جائے تواس وقت کسی کو بھی مسلمانوں، دلیتوں، پچھڑوں، کی پرواہ نہیں ہوتی، کوئی بھی سچےدل سے مسلمانوں، دلیتوں، پچھڑوں کی حق تلفی کےخلاف کھڑا نہیں ہوتا، اگر ہوتا بھی ہے تو صرف رسمً،کیونکہ آج کھڑا نہ ہوا تو بےنقاب ہوجائیں گے، آگے اور بھی ایلکشنس ہونگےاس وقت مسلمان، دلت، پچھڑے ہوئے لوگ، ہمیں اپنےجوتوں کی ٹھوکروں سےاڑادینگے، مگراس دورمیں سچے دل سے مسلمانوں، دلیتوں، پچھڑوں پہ ہوئےظلم وستم اور حق تلفی کےخلاف جوکھڑا ہوا ہے، وہ
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کےسربراہ آعظم نقیب ملت جناب بیرسٹر اسدالدین اویسی صاحب اور انکےجانشین ہیں، جو ہر محاذ پر مسلمانوں، دلیتوں، پچھڑوں، مظلوموں کی رہنمائی کرتے ہوئے نظرآتے ہیں، مگرمخالفین مجلس اتحاد المسلمین، جومسلمانوں، دلیتوں، پچھڑوں، کی ووٹوں کواپنی جاگیر سمجھ بیٹھےہیں،خاص کرکانگریس جو ستر سالوں سے پورے قوم ہند کو لوٹا ہے وہ مجلس کےتعلق سےیہ غلوکرتےہیں، کہ مجلس کی وجہ سےبی جےپی کو فائدہ پہونچتاہے،مجلس بی جےپی کوفائدہ پہونچانےکےلیئےایلکشن لڑتی ہے، مگرمخالفین اس الزام کولگاتو دیتی ہےمگراس کےکوئی دلائیل موجود نہیں،مگرہم جب بات کرتےہیں دلائیل کےساتھ کرتےہیں، مدھیہ پردیش میں کانگریس کےبائیس نومنتخب امیدوار بی جےپی میں شامل ہوئےجس کی وجہ سےکانگریس کوکرسی سےدستبردار ہوناپڑا، وہ کانگریس کے نومنتخب امیدوار تھے، مجلس اتحاد المسلمین کےنہیں،
اور راجستھان، گجرات میں بی جےپی کانگریس کےامیدوارخرید رہی ہے، کانگریسی امیدوارکسی نوعمر بچےکی پیمپرکی قیمت میں بک رہےہیں، اورالزام اویسی پہ!
میں کہتاہوں آج بی جےپی یہاں تک پہونچی ہےیہ کانگریس کی مہربانی ہے، کانگریس نےبی جےپی کواپنی کوک سے1951 میں جنم دیابھارتیہ جن سنگھ کےطورپر، پھر 1977 میں نام تبدیل کرجنتاپارٹی رکھ دیا، پھر 1980 میں اس پارٹی کی کمان اٹل بہاری واجپائی اور بابری مسجد کو شہید کرنے والا قاتل آعظم لال کرشنااڈوانی نےسنبھالا، یہ نام بدلنےکی رسم ورواج آج کانہیں یہ برسوں سےچلی آرہی ہے جوآج بھگواآتنکوادی یوگی آدتیہ ناتھ کررہاہے،
بہرحال کانگریس نےپال پوس کےبی جےپی کوبڑا کیا، مگرتربیت دینابھول گیا، آج جب لڑکاستر سال کاہوگیا،(میں لڑکا اس لیئے کہ رہاہوں کہ راہول گاندھی پچاس برس کےہونےکےبعد بھی ابھی جوان ہیں،)پھربھی عقل نہ آئی،اور لڑکا نالائق نکل آیاتو، ذمہ داراویسی ہوگیا، واہ دوغلو تم نےاسی طرح سترسالوں سےقوم ہند کو دھوکے میں رکھا،سترسالوں سےقوم ہندسےغداری کرتےرہے، اور ہم نےتمہیں برداشت بھی کیا، مگراب ہمیں نہ تمہاری ضرورت اورنہ تمہاری ناجائزاولادوں کی ضرورت ہے، کیونکہ اب ہماری ماؤں نےتم جیسےقاتلوں، ظالموں، سےلڑنے کےلیئے جانباز مجاہدوں کوجنم دیاہے،جوتمہاری، اورتمہاری اولادوں کی سازشوں کوناکام بنانےمیں اہم کردار اداکررہاہے، بہت لےلیاووٹ تم نےڈراکرمسلمانوں کو، ان شاءاللہ اب ہم نہ ڈرنےوالےہیں نہ جھکنےوالےہیں، بہت ہوگیاکھیل تمہاری گندی سیاست کا، بہت دیکھ لیا تمہارے بندر کو ناچتےہوئے، اب ہم نچائیں گےاور تم دیکھوگے، بہت بن کےتماشائی ہم تمہیں دیکھتےرہے، اب ہماری باری ہے، تم نےبی جےپی کاڈر دکھادکھا کراپنا الّو سیدھا کرتےرہے، اب ہم تمہارےبہکاوےمیں آنےوالےنہیں، اب ہم تمہاری مکھن ملائی والی گفتگو سےپگھلنےوالےنہیں، اب ہم کردارحسین اداکرنےلگےہیں، اب ہم ٹیپوسلطان کےجانشین بننےلگےہیں، اب ہمیں نقیب ملت نےبولنےکاسلیقہ سکھادیاہے، حق نہ ملنےپرچھننےکا ہنر بتا دیاہے، ظالموں کو زیرکرنےکی قوت آچکی ہے، اب ہم خواب غفلت سے بیدار ہوچکے ہیں یہ کہتےہوئے۔۔جومیرےامام کہ گئےہیں۔

سوناجنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے۔۔
سونےوالوجاگتےرہیو چوروں کی رکھوالی ہے۔۔

اب ہمیں لٹنےکاخوف نہیں، اور نہ کسی کمزور کولٹنےدیں گے، کیوں کہ اب ہم کارواں کاسپہ سالار اسدالدین اویسی ہے، گلیوں کی سڑکوں سےسانسد کی چاردیواری تک کوئی کمزوروں کی آواز ہے وہ نقیب ملت اسدالدین اویسی ہے، اب سیاست بدل رہی ہے، اب سیاسی نظام بدل رہاہے، توہمیں بھی بدلنےکی ضرورت ہے، اغیاراپنے قائد کو مضبوط کرنے لگےہیں، اور ہم مسلمان انتشار میں بٹےہوئےہیں، اغیار اپنے قائد کوتسلیم کرچکاہے، مگرمسلمان قوم اپنےقائد منتخب کرنےمیں تاخیرکیوں کررہی ہے؟ یہ تاخیرقوم مسلم کےلیئےکہیں وبال نہ بن جائے، کب تک کانگریس، بی جےپی، ٹی آر یس، ٹی ایم سی، آرجےڈی، جےڈی یو، کی غلامی کرتےرہیں گے، اب ہماری قیادت باہیں پھیلاکےکھڑی ہیں ہمیں اپنی آغوش میں لینے کےلیئے، بس محبت سےاس میں سمانےکی ضرورت ہے، ہماری قیادت کی محفل ہماری منتظرہیں بس منتظَر بن کےمحفل میں آنےکی ضرورت ہے، ہماری قیادت پکارکرکہ رہی آؤ ہمارا دامن بہت وسیع ہےبس اس میں محبت کےمکان تعمیرکرنےکی ضرورت ہے، مخالف کہتےتھے، اویسی نے بی ایس پی سے اتحاد کرلیا، اویسی غدار ہے!
مایاوتی نے370 کی حمایت کی، مایاوتی نے این ار سی، سی ائےائے کی حمایت کی، اور ایسوں سےاویسی نےاتحاد کرلیا!
محترم مخالفین اویسی نےاتحاد کیاہے، یہ اتحاد ٹوٹ بھی سکتی ہے، اگر ہم مسلمانوں کےحقوق پورےنہ ہوئےتو، یہی توہماراپلس پوئینٹ ہے!
ہمارےپاس تعداد نہیں جو ہم سرکاربناسکے، اگرآپ کاساتھ رہاتوہر صوبےمیں پتنگ آسمانوں میں اڑتی نظرآئیں گی، مگر ابھی تعداد کی کمی ہے، اور ویسےبھی اویسی مایاوتی سےاتحادکرےتوغدار!
اور کانگریس راجستھان میں اس دور کا سڑا ہوا بدبودار پھوڑا کینسرکی لاعلاج بیماری کاہمسایہ بی جےپی سےاتحادکرےتووہ وفادار!
ٹی ار یس، بی جےپی کی حمایت کرےتو وفادار!

واہ رےمیرےقوم مسلم اتنی منافقت آکہاں سےگئی ہےآپ کے اندر، چلیئےایسی باتیں اغیار کرےتوسمجھ آتی ہے، مگرآپ ایک ہی نبی کاکلمہ پڑھنےوالےہیں اورتہمت بھی اپنےہی بھائی پہ! آپ کانگریس اوردوسرےسیکیولرجماعتوں کی مکھن ملائی والی گفتگو سےلطف اندوز تو ہوسکتے ہیں کچھ دیرکےلیئے، مگرآنےوالی نسلیں جب اویسی کوپڑھےگی اور آپ کےکردارکودیکھےگی کہ آپ نےجتنا مسلم قیادت کونقصان پہونچایا، آنےوالی نسلیں لعنت بھیجےگی کہ ایک انمول ہیرےکومیرے آبا و اجداد نےاپنےپیروں تلےکچل کرغلامی کی زنجیروں سےخودکوجکڑےرکھا، اگرآنےوالی نسلوں میں خودکوفخرکےطورپہ زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو کچھ ایساکرناہوگا جوآنےوالی نسلیں آپ پہ فخرکریں، جس طرح آج ہم حضرت شیرمیسور، حضرت فضل حق خیرآبادی، پہ فخرکرتےہیں، کیوں کرتےہیں اس لیئےکرتےہیں ان مجاہدوں نےکسی فاسق وفاجرکی اطاعت نہیں کی، کسی ظالم وقاتل کےآگےسرکوجھکنےنہیں دیا، کالےپانی کی سزامنظورکرلی، مگرمنہ سےنکلےہوئےکلمےجوفتوؤں کےطورپہ تھاواپس نہیں لیا، ہندتوا ائیڈولوجی کے ویر ساورکر کی طرح معافی نامہ نہیں لکھابلکہ پھانسی پہ چڑھناپسندفرمایا، مگرانگریزوں کےسامنےجھکناگوارانہیں کیا، ایسےبےخوف بےباک اسلاف کی نمائندگی آج ہندوستان میں کوئی اورنہیں ہمارےقائد بیرسٹر اسدالدین اویسی کررہےہیں، اگرہےکوئی مثال میرے قائد کا تو لےآئیں میدان عمل میں ہم انہیں سرخم تسلیم کرلیں گے،اگر مسلمانوں آپ مثلِ اسد نہ لاسکےتوخدارا اس قیادت کومنظورکرلیں، یہی ہماری نمائندگی کررہےہیں اور آگے بھی کرتےرہیں گے، بس اس قیادت کومضبوط آپ اور ہم کلمہ گو مسلمان ہی کرسکتےہیں، کوئی غیرہماری مدد تب تک ہی کرےگاجب تک اس کوہماری ضرورت ہے، جب ہماری اس کوضرورت نہیں ہوگی، وہ ہمیں اس طرح سےنکال پھیکےگاجس طرح آٹےسےبال نکالےجاتےہیں!
آجائیں ایک پلیٹ فارم پر، آئیں ہم ایک ہی باپ کی اولادیں ہیں، ہماری بھائی بھائی میں رنجشیں ہوئی ہونگیں، اس کوخداورسول کےلیئےدل سےنکال پھینکتےہیں اورمتحدہوجاتےہیں!
کیونکہ

سیاست کا مہکتا گلاب اویسی ہے
ہر فرد کی سیاسی خواب اویسی ہے

سب رہےخاموش ایوان باطل میں۔مگرجوبولا
وہ شیر دل مرد مجاہد جناب اویسی ہے

پڑھا جو بھی شوق سے وہ پڑھتا گیا
ایسا دلکش، سیاست کا باب اویسی ہے

نہ داغ دامن پہ،نہ اٹھائے کوئی کردارپہ انگلی
ایسی کھلی کتاب و نصاب اویسی ہے

کھونا نہیں فردین سنبھال رکھ اسے
سیاست میں کیونکہ،گوہر نایاب اویسی ہے

ازقلم
واثق علی فردین رشیدی
بائیسی پورنیہ بہار