امیر المجاہدین اور ناموس رسالت

40

امیر المجاہدین اور ناموس رسالت
السلامُ علیکم و رحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ

کروں ترےنام پہ جاں فدا،نہ بس اک جاں دوجہاں فدا۔
دوجہاں سےبھی نہیں جی بھرا،کروں کیاکروڑوں جہاں نہیں۔

امیر المجاہدین شیخ الحدیث استاذ العلماء حضرت علامہ ومولانا حافظ وقاری خادم حسین رضوی نوراللہ مرقدہ 22 جون 1966 کو پاکستان کےپنڈی ضلع اٹک گاؤں نکا توت میں کتم عدم سےمنصئہ شہود پر جلوہ افروز ہوئے،آپ نے دنیاوی تعلیم چار کلاس تک مکمل فرمائی،پھر جون 1974 میں آپ نے اٹک سےجہلم کادینی تعلیم کی حصول کےلیئےرخت سفرباندھا،آپ نے وہاں دومدرسوں سےقرآن پاک کےمکمل حافظ بنے،ایک مدرسےسے آپ نے12 سپارےمکمل کیئے اور پھر دوسرےمدرسےسے18 سپارےمکمل ہونےکےبعدتقریباً بارہ سال کی عمر میں آپ کےسرپہ دستار حفظ رکھی گئی،اس کےبعد آپ نےدینہ کاسفر کیایہ پاکستان ضلع گجرات کاایک قصبہ ہے،پھر وہاں آپ نےدوسال علم قرآت سیکھا،بعدہ آپ لاہور تشریف لےآئے،پھرآپ اعلی حضرت عظیم البرکت مجدد دین و ملّت امام احمد رضا خان بریلوی،اورعلامہ اقبال،اور اقبال کےمرشد مولاناروم علیہ الرحمہ کےبڑےشیدائی تھے،ان کوپڑھنا شروع کیا،مگرآپ نےزیادہ اقبال کوپڑھا،یہی وجہ ہےکہ آپ اپنےبیانوں میں کثیرتعدادمیں اشعار اقبال پڑھاکرتے،آپ اردو،فارسی،اورپنجابی میں بڑےمہارت رکھتے،آپ اسی طرح معمولات زندگی میں مشغول ہوگئے،مگراک دن قدرت نےایساکرشمہ دکھایاکہ ایک حادثےمیں جان توبچی مگردونوں پیروں سےمعذورہوگئے،لیکن یہ بھی حکمت خداوندی تھی کہ جب معذور حالت میں اس قدر رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تعالیٰ عَلَی٘ہ وَسَلَّم وصحابئہ کرام رضوان اللہِ علیھم اجمعین کی عظمت پہ پہرہ دیا،کہ ہالینڈ کاگستاخ قبلہ کی گرفتاری پہ مسرت کااظہارکرے،ایوان کفر میں قبلہ کی رحلت پہ مسرت وشادماںی کےگیت گائےجائے،اگراللہ دونوں پیروں کوسلامت رکھتاتو باطلوں،لبرلوں،اور سیکیولروں، کےقلعےاکھاڑپھینکتے،شایداسی لیئے یہ حادثہ پیش آیاکہ جذبات کوقابورکھ سکے،آپ اپنےوالدین کےبڑےچہیتےتھے،آپ کو آپ کےوالدین سےبےپناہ محبت نصیب ہوئی،مگر 2008 میں ایک موت کی آندھی نے آپ کےسرسےآپ کےوالدماجد کاسائیباں اڑالےگئی،آپ نے اپنےوالد سے وفارکھی،اور اپنےوالدکواپنےلیئے زندہ رکھاآپ اپنےوالد کی تقلیدکرتےہوئےاسی تیل کوسرکےلیئےاستعمال کرتےجوآپ کےوالدماجداستعمال کیاکرتےتھے،پھرآپ کےوالدمحترم کاغم ابھی تازہ ہی تھاکہ موت نےوالدہ کوبھی اپنی آغوش میں لیئے روانہ ہو گئی،اور آپ اسی حالت معذوری میں اپنی والدہ ماجدہ کونمی آنکھوں سےالوداع کہا،اور آپ یتیم الطرفین ہوگئے،مگرآپ نےاپنےوالدین کو اپنےیادوں میں اس طرح زندہ رکھاکہ،آپکی والدہ کا جو تقیہ کلام تھا جو پنجابی میں ہے(پیڑاں ہورتےپھکیاں ہور)اسکامطلب درد اورہے دوائیاں اور،یہ کلام قبلہ صاحب اکثر اپنےبیانوں میں استمعال فرماتےرہے،آپ کےوالدماجدآپ سےاس قدرمحبت کرتےکہ آپ سےکوئی بلندآوازسےگفتگوکرتاتوآپ کےوالدکوناگوارگزرتا،
اور آپ کی گردن مبارک پرآپ کےوالدماجدمحترم جناب لعل خان صاحب بارہاچومتےرہتے،اورچومےبھی کیوں نہ آپ کےوالدماجدکویہ ضرورکشف ہواہوگاکہ اللہ نےجس ذات کومیرےصُلب سےتخلیق فرمائی وہ اِسی گردن کواک دن ناموس رسالت صلیٰ اللہ علیہ وسلم پہ قربان کرنےکےلیئےحاضرکردےگا،اور یہی ہواکہ زمانےنےدیکھاقبلہ امیر المجاہدین نےناموس رسالت صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی دہلیزکےایسےچوکیداربنے،کہ وقت کےحکومت کی قلعےاکھڑگئے،اور یہودی نواز حکومت کوگھٹنےٹیکنےپہ مجبورکردیا،قبلہ ہرچیزبرداشت کرسکتےتھےمگرناموس رسالت میں بڑےحساس تھے،وہ معاملہ ختم نبوت پراگرمگرکی بات سننا پسند نہیں کرتے،قبلہ اسی شعر کودہراتےجو ایک صدی پہلےمرےامام کہ گئے،
انہیں جانا انہیں مانا نہ رکھاغیرسےکام،
اب کئی دنوں سےیہ نعرےٹھنڈےپڑگئےہیں،ان نعروں میں وہ روانی وہ جوانی نظر نہیں آرہی ہے جوقوت جو دبدبہ جوانقلاب باباجی کی آواز سےآتی تھی،نعرہ وہی،انداز وہی،مگر آواز بدلنےسےان نعروں کی کیفیت تبدیل ہوگئی،
اور ایسےہی کئی انقلابی نعروں سےسوئےہوئےامت کوبیدارکر خودآرام کی نیندسوگئے،مگرامت باباجی کےاحسان فراموش نہیں کرےگی،کیوں کہ باباجی گئےہیں ضرورمگرکائنات کواپنا جانشین عطافرماگئےہیں،جب ایک خادم تھا اب توبچہ بچہ خادم نظر آرہاہے،قبلہ باباجی اس طرح ناموس رسالت پہ حساس تھےکہ،
مَن٘ سَبَّ نَبِیًّا فَااق٘تُلُوہ
جو نبی کےبارےمیں بکواس کرےاس کوکاٹ کےرکھ دو،
باباجی لبرل اور سیکولروں کی مخالفت کرتےتھے،
ناموس رسالت کہ مسئلےمیں لبرلوں کی،سیکیولروں کی،یہ دلیلیں ہوتی ہیں،کہ بڑھیاکچڑاپھیکتی تھی مگر سرکارنےانکومعاف فرمادیا،
مگرعشاق کی ایک ہی دلیل ہوتی ہیں،
مَن٘ سَبَّ نَبِیًّا فَااق٘تُلُوہ
جو نبی کےبارےمیں بکواس کرےاس کوکاٹ کےرکھ دو
ایک مرتبہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح اپنےہاتھ میں ایک انسانی سرلیئےسرکارکی بارگاہ حاضرہوئےسرکار نےفرمایایہ کس کاسرہے صحابی نےعرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ میرےباپ کا سر ہے سرکارنےفرمایاکیوں قتل کیا صحابی نےعرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ میرے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تعالیٰ عَلَی٘ہ وَسَلَّم کی شان بےنیاز میں خباثت بک رہا تھا،یارسول اللہ میں نے سمجھایا مگرنہ سمجھا،یارسول اللہ میری غیرتِ ایمانی نےمجھےجھنجھوڑکےرکھ دیا،مجھےگوارانہ ہواکہ میرےسامنےمیرےمحبوب کی کوئی گستاخی کرےمیں خاموش رہوں،یارسول اللہ میں نےقتل کردیا،
نبی اپنی جگہ سےاٹھےاور صحابی کےپیشانی کوبوسہ دیا،
لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُولَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ،
باباجی اس کےقائل تھے،
امیدہےقوم اسی پرثابت قدم رہےگی،
انشاءاللہ عزوجل
تجھےترےبعدتحقیق کررہی ہےدنیا
تجھےڈھونڈرہےہیں اب یہ زمانےوالے

ازقلم
واثق علی فردین رشیدی
تاراباڑی بائسی پورنیہ انڈیا