دینی مدارس مسلمانوں کے لئے ریڑھ کی ہڈی اور مساجد شعائر اسلامی ہیں ، مفتی رضوان قاسمی

95

بیرول11 / دسمبر ( شمیم احمد رحمانی ) دین صرف جاننے کا نام نہیں بلکہ ماننے کا نام ہے ورنہ ہملوگوں سے بہتر دین کو خواجہ ابو طالب جانتے تھے مگر ان کی نجات نہیں ہوگی اسلئے دنیا کی سب سے بڑی دولت ایمان اور آخرت کی سب سے بڑی دولت نجات ہے ان دونوں چیزوں کو سامنے رکھ کر اگر ہم مسلمان اپنی زندگی گزاریں گے تو انشاء اللہ دنیا و آخرت دونوں کی کامیابی یقینی ہے مذکورہ باتیں یہاں نماز جمعہ سے قبل اکھتوارہ کی جامع مسجد میں درد مندانہ خطاب کرتے ہوئے مرکزی جمیعت علماء سیمانچل کے صدر جید عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد رضوان عالم قاسمی استاذ مدرسہ رحمانیہ افضلہ سوپول بیرول دربھنگہ نے کہی انہوں جاری اپنے فکرمندانہ خطاب میں کہا کہ پکے سچے مسلمان کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ ہر بالغ مرد و عورت پنجگانہ نماز کے عادی بنیں لڑائی جھگڑے ، غیبت اور جھوٹ سے دور رہکر اتحاد ،،آپس میں سلام کرنے کے رواج اور بھائی چارہ کو فروغ دیں اس وقت مسلم معاشرے کے ہر طبقے میں نکمے ، چاپلوسوں ، لڑائی جھگڑا کے ماہروں جھوٹ اور دروغ گوئی کرنے والوں کا دور دورہ ہے اگر غور کریں گے تو آپ کو احساس ہوگا کہ مسلم معاشرے کو غیروں سے زیادہ اپنے اندر کے ایسے ہی لوگ نقصان پہونچا رہے ہیں ان سے ہوشیار رہیں جید عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد رضوان عالم قاسمی نے کہا کہ اس وقت ملک اور صوبہ میں کورونا کی وجہ سے مدارس بند ہیں حالات معمول پر آنے تک چھوٹے چھوٹے بچوں کی مادری زبان میں بہتر دینی تعلیم و تربیت کا حکومت کی گائیڈ لائن کے مطابق نظام چلانے پر زور دیں ، دینی مدارس مسلم معاشرے کیلئے ریڑھ کی ہڈی اور مساجد مسلم معاشرے کی پہچان ہیں ان دونوں کی بقاء ، ترقی و آبادی پر دھیان دیں بعد نماز جمعہ جید عالم دین مفتی محمد رضوان عالم قاسمی نے متولی جامع مسجد اکھتوارہ حافظ محمد عبداللہ رحمانی ، امام مسجد حافظ محمد ادریس نعمانی، مولانا محمد اقبال اشاعتی ، حافظ محمد ابو طالب رحمانی وغیرہ کے ہمراہ دوسری منزل پر جاری کاموں کو دیکھا اور مدرسہ تعلیم القرآن اکھتوارہ کے جائے وقوع کا معائنہ کرتے ہوئے مسرت کا اظہار کیا ساتھ ہی علاقہ کے مسلمانوں سے جامع مسجد اکھتوارہ کے دوسری منزل کی ڈھلائی اور تعمیری مراحل کی تکمیل میں بھر پور حصہ لینے کی اپیل کی واضح رہے کہ موضع اکھتوارہ علاقہ بیرول سوپول کی بہت بڑی غیر مسلم آبادی ہے اس میں تقریبا سواسو گھر کی مسلم آبادی میں مالی اعتبار سے بیشتر لوگ غریب و پسماندہ ہیں