یہ خیر ہمیشہ باقی ریے
بابری مسجد شہید ہوگئی،اس معاملے میں انصاف بھی شہید ہوا ہے ،لیکن آج بھی اس مسجد کی تختی چینخ چینخ کر انصاف کی دہائی دیتی ہے،اور اپنے باقی رہنے کا اعلان بھی کرتی ہے،اس مسجد کی تعمیر سبھی جانتے ہیں کہ میر باقی نے بابر بادشاہ کی یاد میں سن ۱۵۲۸عیسوی میں کی ہے،مگر یہ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ بابری مسجد کی تعمیر کے بعد جو کتبہ اس میں لگا ہوا تھا یہاں بھی پہلے انصاف ہی کی دہائی دی گئی ہے،پوری تختی پر کندہ عبارت ملاحظہ کیجیئے "بحکم شہنشاہ بابر جس کا انصاف چرخ گردوں تک وسیع ہے،نیک دل میرباقی نے فرشتوں کے اس آشیاں کو تعمیر کرایا،یہ خیر ہمیشہ باقی رہے اور اس کی تاریخ "بودخیرباقی”یعنی ۹۳۵ھ ہے”
آج ہی کی تاریخ مورخہ چھ دسمبر کو مسجد شہید کردی گئی ،اور پھر جب مورخہ ۹/نومبر ۲۰۱۹ءکو اس کا فیصلہ تقریبا اٹھائیس سال بعد آیا اسمیں بھی انصاف کو شہید کردیا گیا ہے،اس موقع پر پورا ملک نے بیک زبان یہی کہا ہےکہ "یہ ایک نرنیئ ہےمگر نیائی نہیں ہے”
آج یہ مسجد کی عمارت موجود نہیں ہے،مگر مسجد تو دراصل وہ زمین بھی ہے جس پر مسجد کی عمارت موجود رہی ہے،عمارت ہٹادینے سے بھی وہ باقی رہتی ہے،مسجد کسی مندر کی زمین پر نہیں بنائی جاسکتی ہے اور نہ کسی غیر کی ملکیت پر تعمیر کی جاسکتی ہے،کسی دوسرے کی زمین پر قبضہ کرکے کسی حال میں مسجد نہیں بنائی جاسکتی ہے،شریعت اسلامیہ یہ حق نہ کسی بادشاہ کو دیتی ہے اور نہ کسی فرد کو یہ حق حاصل ہوتا ہے،بلکہ غصبا کوئی زمین پر تعمیر کی جانے والی مسجد وہ مسجد کے حکم میں نہیں ہے،اسی اہتمام کا خیال بابری مسجد کی تعمیر میں بھی کیا گیا ہے،جس کی گواہی اس عبارت سے مل رہی ہے،اس مسجد کو خیر سے تعبیر کیا گیا ہے،اور مسجد تو سراپا خیرہی خیرہے، جو ہمیشہ ہمیش کے لئے قائم کی جاتی ہےاور وہ باقی بھی رہتی ہے،یہی وجہ ہے کہ میر باقی نے نے اسے خیر کے ہی نام سے موسوم کیا ہے ،اور اسے باقی رہنے کے لئے خالص زمین پر تعمیر کیا ہے،اس کی تاریخ تعمیر کو سن میں انہیں الفاظ میں کندہ بھی کرادیا ہے، جس بابر بادشاہ پر مندر توڑ کر مسجد تعمیر کرنے کا بے بنیاد الزام رکھا گیا تھا،نہ وہ کبھی ایودھیا گیاہے، اور نہ انہوں نے مسجد تعمیر کی ہے، اسے نہ تاریخ سے ثابت کیاجاسکتا ہےاور نہ اس بات کوعدالت عالیہ حالیہ فیصلے میں مان رہی ہے۔ تاریخ تو اس انصاف ور بادشاہ کے بارے میں یہ لکھتی رہی ہے کہ وہ اپنے برادران وطن کا اتنا خیال کرتا تھا کہ اپنے فرزند ہمایوں کے لئے یہ وصیت نامہ تحریر کرایا تھا "تمہارے لئے یہ ضروری ہے کہ ہرقسم کی تنگ نظری سے گریز کرو،لوگوں پر انصاف کے ساتھ حکومت کرو،گائے کا گوشت کھانا ترک کر دوتاکہ لوگوں کے دل جیت سکو،اس طرح وہ لوگ تمہاری حکومت کے ممنون رہیں گے،قانون کی پابندی کرنے والے لوگوں کے مذہبی مقامات کو کبھی منہدم نہ کرنا،اس طرح انصاف کرو کہ لوگ اپنے بادشاہ سے محبت کرنے لگیں اور بادشاہ عوام سے”(بحوالہ تعمیر حیات ۱۰/نومبر ۱۹۸۴)
ہمایوں اقبال ندوی،ارریہ
رابطہ،9973722710