جے ایچ ایم سی انتخابات : اسدالدین اویسی نے عوام اور کارکنان کا شکریہ ادا کیا !

17

جے ایچ ایم سی انتخابات : اسدالدین اویسی نے عوام اور کارکنان کا شکریہ ادا کیا !
گذشتہ 2015 میں ہوئے گریٹر حیدرآباد میونسپل انتخابات میں مجلس اتحادالمسلمین کو 44 نشستوں پر فتح حاصل ہوئی تھی اور اب دوبارہ ان تمام نشستوں پر کامیابی ملی۔ جبکہ وہیں ٹی آر ایس کو 55 اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو48 اور کانگریس کو محض 2 سیٹ ملے ہیں۔
حیدرآباد ۔ 04 دسمبر 2020
گریٹرحیدرآباد میونسپل کارپوریشن انتخابات کے نتائج میں مجلس اتحاد المسلمین کو 44 سیٹیں ملنے پر اسد الدین اویسی نے کارکنان اور عوام کا شکریہ ادا کیا ہے۔

جی ایچ ایم سی انتخابات میں ٹی آر ایس نے 55 ، بی جے پی نے 48، مجلس اتحاد المسلمین نے 44 اور کانگریس نے دو سیٹیں حاصل کی ہیں جبکہ ایک سیٹ کا نتیجہ ابھی نہیں آیا ہے۔

مجلس کے صدر اسد الیدن اویسی نے کہا کہ اس مرتبہ ہم نے 51 سیٹوں پر امیدواروں کو اتارا تھا جن میں 44 سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ گزشتہ انتخابات میں ایم آئی ایم نے 60 سیٹوں پر امیدواروں کو اتارا تھا اور 44 میں کامیابی حاصل کی تھی۔ اس طرح وہ اپنے سابقہ سیٹوں کی تعداد کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہی۔

اس موقع پر انہوں نے بی جے پی کے 48 سیٹیں جیتنے پر کہا کہ اسمبلی الیکشن میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اسد الدین اویسی نے کہا کہ وہ کیرالا اور آسام میں میں انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے ۔ انہوں نے اتحاد کے معاملے پرکوئی صاف بات نہیں کہی کہ وہ کس کے ساتھ جائیں گے۔

گذشتہ 2015 میں ہوئے گریٹر حیدرآباد میونسپل انتخابات میں مجلس اتحادالمسلمین کو 44 نشستوں پر فتح حاصل ہوئی تھی اور اب دوبارہ ان تمام نشستوں پر کامیابی ملی۔ جبکہ وہیں ٹی آر ایس کو 55 اور بھارتی جنتا پارٹی کو48 اور کانگریس کو محض 2 سیٹ ملے ہیں۔

اس انتخابات میں سب سے زیادہ کامیابی بھارتی جنتا پارٹی کوملی ہے کیونکہ گذشتہ انتخابات میں بی جے پی کو یہاں سے محض 2 سیٹ ملے تھے لیکن اس بار کی جدو جہد سے بھارتیہ جنتا پارتی یہاں دوسری بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔

بی جے پی کی اس بڑی کامیابی کو آنے والے اسمبلی انتخابات میں ٹی آر ایس کے لیے ایک بڑے خطرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔