"کہانی "سینی توڑ یم

36

کمپیوٹر پر اسکی انگلیاں بہت تیزی سے حرکت کر رہی تھیں جیسے ہی وال کلاک نے شام کے پانچ بجاۓ اس کے ہاتھ کچھ رک سےگئے۔آفس ٹائم ختم ہو چکا تھا ۔اس نے کمپیوٹر آف کیا اور فائل با ئیں ٹیبل کی دراز میں رکھ کر آفس سے باہر نکل گئی۔اس نے مارکیٹ سے اپنے ضرورت کی چند چیزیں خریدیں اور اپنے مطلوبہ بس میں سوار ہوکر گرلس ہوسٹل آگئی۔رابیعہ کو اس ورکنگ ویمن ہا سٹل میں آئے تقریباً دو سال ہو چکے تھے ۔شاکر ین بھی اپنے آفس سے آ چکی تھی۔

شاکر ین را بیعہ کی روم میٹ تھی اور اس سے جو نیئر ہونے کی وجہ سے اس کی بہت عزت کرتی تھی ۔
"آج آفس سے تم جلدی گھر آ گئی تھی کیا ۔۔۔۔؟رابیعہ نے کافی کا مگ اپنے ہونٹوں سے لگا تے ہوئے پوچھا۔”
آج آفس میں زیادہ ورک نہیں تھا اس لئے میں جلد ہی روم پر آگئی،اس نے چپس اٹھا کر منھ میں رکھتے ہوئے جواب دیا۔

"اور سناؤ تمہارا آفس ورک کیسا جا رہا ہے کوئی تازہ خبر "۔رابیعہ نے کافی کا مگ ٹیبل پر رکھتے ہوئے اس کے دن بھر کی مصروفیات پوچھیں ۔”
"آفس ایکدم فرسٹ کلاس جا رہا ہے اور آج تو خبریں ہی خبریں ہیں را بیعہ جی! "شاکر ین نے چہکتے ہوئے کہا ۔
"کیوں بھئی لگتا ہے آج کوئی خاص بات ہوئی ہے جو یہ دھنک رنگ تمہارے چہرے پر چھائ ہے۔”رابیعہ نے بغور اس کے چہرے کا جائزہ لیتے ہوئےپوچھا ۔

"اب آپ سے کیا چھپانا را بیعہ جی! آپ تو میرے گھر کے سارے حالات سے واقف ہیں کس طرح اماں ابو کی وفات کے بعد بھیا بھابی نے طوطے کی طرح مجھ سے اپنی نظریں پھیر لی تھیں ۔اور میرا اس گھر میں رہنا مشکل ہو گیا تھا جو میری جائے پناہ تھی۔ روز روز کے طعنہ تشنہ سے تنگ آکر بہ حالت مجبوری مجھے یہاں شفٹ ہونا پڑا ۔ وہ تو اللّه پاک کا شکر ہے کہ میرے پاس ایجوکیشن تھی ورنہ پتہ نہیں میں کہاں دھکے کھا رہی ہوتی ۔۔۔۔اب یہاں ہوں تو بھی میرے مستقبل کی کسے فکر ہے۔۔۔؟ اب جو بھی مشورہ لینا ہے ہمیں آپ ہی سے لینا ہے ۔اور اب آپ ہی میرے اس معاملے میں رہنمائی کرینگی ۔”شاکر ین نےگلو گیر لہجے میں کہا ۔
"ہاں چندا بولو میں تمہاری بات کو سمجھ رہی ہوں،تمہیں مجھ سے کس قسم کا مشورہ درکار ہے "۔رابیعہ نے اس کی پیشانی پر جھولتے بالوں کو ہٹا تے ہوئے نہایت شفقت سے جواب دیا ۔
رابیعہ آپی! دراصل بات یہ ہے کہ میرے باس نے مجھے شادی کے لئے پر پوز کیا ہے۔”
"لیکن جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے کہ تمہارے باس شادی شدہ ہیں اور دو عدد بچے کے باپ بھی ہیں،کیا وہ تم سے دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں۔۔۔؟”رابیعہ نے پوچھا۔

” رابیعہ آپی! مجھے پتہ ہے وہ شادی شدہ ہیں ،لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے ۔باس بتا رہے تھے کہ انکی وائف سے انڈر اسٹینڈنگ نہیں ہے ۔ان کے درمیان روز ہی کشیدگی کا ماحول رہتا ہے ۔جسکے بائیس وہ ذہنی طور سے ڈسٹرب رہتے ہیں ۔”
"بس کرو شاکر ین خدا کے لئے بس کرو ،ورنہ میرا سر شدّت دردسے پھٹ جاۓ گا ۔رابیعہ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے سر کو تھامتے ہوئے بے بسی سے کہا ،وہ ایک دم زرد ہو رہی تھی ۔
"نہیں ۔۔۔نہیں شاکرین تم ایسا ظلم نہیں کرو گی،پھر کسی رابیعہ کو بے گھر نہیں کروگی۔۔۔۔۔دیکھو تم بھی ایک عورت ہو کیا تم دوسری عورت پر یہ ظلم ٹورو گی۔۔۔؟”وہ ہیجانی کیفیت میں بول رہی تھی ۔
"رابیعہ آپی! کیا ہوا تھا آپ کے ساتھ ؟کس نے آپ کو بے گھر کیا ۔وہ اس کو جھنجھوڑتے ہوئے بولی کچھ تو بتائے پلیز ۔۔۔؟”
شاکرین پہلے تم مجھ سے یہ وعدہ کرو کہ تم یہ سب نہیں کروگی۔۔۔۔تم کسی کا بسا بسایا گھر نہیں اجاڑ وگی ۔۔۔؟”رابیعہ کی آنکھوں سے اشکوں کا سیلاب رواں تھا ایسا لگتا تھا کہ آج شاکر ین کی باتوں نے اس کے زخم پھر سے ادھیڑ کر رکھ دئے ہوں وہ بے آواز سسکنے لگی اور ماضی کی دبی راکھ سے دھواں اٹھنے لگا۔اس کی آنکھوں کے سامنے پچھلی زندگی گردش کرنے لگی ۔
رات کے ایک بج رہے تھے لیکن ساحل کا ابھی تک کچھ اتا پتہ نہیں تھا اس نے تشویش سے سوچا،عفان کب کا سو چکا تھا ۔لیکن نیند اس کی آنکھوں سے کوسو ں دور تھی۔اتنے میں ساحل کے کار کی مخصوص ہارن کی آواز آئ چوکیدار نے گیٹ کھولا،ساحل گھر کے اندر داخل ہوئے ۔

"ساحل آج پھر آپ نے گھر آنے میں دیر کر دی ،مجھے بہت فکر ہو رہی تھی آپ کی ،شہر کے حالات بھی کچھ ٹھیک نہیں ہیں،آپ گھر ذرا جلدی آ جایا کریں۔”وہ روہانسی ہوئی ۔
"ر ابیعہ بیگم !میں وہاں کوئی رنگ رلیاں نہیں منا رہا تھا اور نہیں کوئی پارٹی انجوآئے کر رہا تھا ۔آفس میں بہت کام رہتا ہے اس لئے دیر سویر ہو ہی جاتی ہے تم یہ جاہل عورتوں کی طرح چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان ہونا نہیں چھوڑ سکتی ۔” اس نے شرٹ بیڈ پر پھینک کر ٹائی کی ناٹ کھولتے ہوئے کہا۔
"آپ کے لئے کھانا گرم کروں”۔رابیعہ نے اس کے کڑے تیوروں سے گھبڑا تے ہوئے پوچھا ۔
"میں نے ڈنر آفس میں کر لیا تھا اور دیکھو اب تم مزید میرے سر سوار نہ رہو اور جا کر سو جاؤ ۔
"ساحل آج پھر آپ نے دیر کر دی۔”
"رابیعہ بیگم! آپ کیوں یہ چاہتی ہیں کہ میں ہر وقت آپ کی نظروں کے سامنے بیٹھا رہوں ۔اور آپ کی شان میں قصیدے پڑھتا رہوں ۔رابیعہ بیگم! کیوں ہر وقت میری ٹوہ میں لگی رہتی ہو ،یہ میرا گھر ہے میں جس وقت آؤں جاؤں،اس سے تمہیں کوئی فرق نہیں پڑنا چاہئے ۔۔۔۔اگر تم نے اپنے روئے میں تبدیلی نہیں لائی تو میں دوسری شادی کرنے پر مجبور ہو جاؤنگا،مجھے ذہنی سکون چاہئیے۔ ”
"مما ڈیڈو آج کل مجھ سے بات نہیں کرتے،کہیں باہر گھمانے بھی نہیں لے کر جاتے۔۔۔۔اور نہیں اب مجھے پہلے جیسا پیار کرتے ہیں ۔۔۔اور پتہ مما میری اسکول پروگریس بھی اب نہیں پوچھتے؟” عفان نے منھ بسورا۔
ایسی بات نہیں ہے بیٹا۔۔۔آج کل آپ کے ڈیڈو کو آفس میں بہت سارا کام ہوتا ہے اس لئے ان کو وقت نہیں ملتا۔۔۔۔کوئی بات نہیں آج ہم اپنے بیٹے کو باہر گھمانے لے کر جایں گے ۔اور آپ کے ڈیڈو کو آفس سے پک اپ بھی کر لینگے ۔عفان نے بقیہ پروگرام خود سیٹ کر تے ہوئے کہا ۔”مما ہم کار میں بیٹھتے ہیں آپ ڈیڈو کو لے کر آئے۔”
"صاحب کہاں ہیں ستیش بابو”۔رابیعہ نے۔ چوکیدار۔سے پوچھا ۔
"میڈم!وہ اپنے کیبن میں ہیں”
"اچّھا وہ یہ کہکر ساحل کے کیبن کی طرف بڑھی،مگر اندر سے آنے والی آوازوں نے اس کے قدم روک دیے ۔
تا بیہ تمہیں نہیں معلوم تمہارا ساتھ میرے لئے کیا اہمیت رکھتا ہے۔آفس کا یہ کیبن میرے لئے کسی جنّت سے کم نہیں ہے "۔ساحل اپنی پرسنل سکریٹری سے مخاطب تھا ۔
"کیا واقعی ساحل صاحب ایسا ہے یا آپ مجھے فو ل بنا رہے ہیں۔”کوئی ناز و ادا بھری آواز باز گشت ہوئی ۔
"آپ کو نہیں پتا مس تا بیہ میری وائف کتنی ڈل اور دقیانوسی خیالات کی حامل ہے ،میں جب گھر جاتا ہوں تو میرا دم گھٹنے لگتا ہے ،میرا گھر مجھے کاٹنے کو دوڑ تا ہے۔۔۔میری وائف سے انڈر اسٹینڈنگ بالکل نہیں ہے تو پھر ساتھ رہنے سے کیا فائدہ ۔۔۔؟”ساحل نے بے رحمی سے کہا ۔
"پلیز تا بیہ مجھے تمہاری توجہ کی شدید ضرورت ہے ،کیا تم میرا ساتھ دوگی ۔۔۔؟”ساحل نے زمانے بھر کا درد اپنی آواز میں سموتے ہوئے کہا ۔

"لیکن ساحل صاحب آپ کو اپنی وائف کو ڈائیورس دینا ہوگا، کیوں کہ میں برابر کی "حصّہ داری "کی قائل نہیں ہوں ۔”
"اوکے ڈئیر مائی لوو ۔۔۔۔”رابیعہ سے آگے مزید نہیں سنا گیا وہ الٹے قدموں بھاگتے ہوئے کار میں آکر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔
"کیا ہوا مما ؟آپ مجھے بتایں تو صحیح” ۔عفان نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔”
"کچھ نہیں بیٹا،میں ٹھیک ہوں آپ پریشان نہ ہوں "۔اس نے کار الٹی سیدھی ریورس کیا اور چکراتے ہوئے سر کے ساتھ ڈرا ئیو نگ کرنے لگی مگر وہ اپنے حواسوں میں کہاں تھی ۔سامنے سے آتے ٹرالرکو نہیں دیکھ سکی اور کار اس سے جا ٹکرا ئی ۔جب کچھ مہینوں بعد اسے ہوش آیا تو اس کی دنیا اجڑ چکی تھی ۔اس کا جان عزیز بیٹا اس کے جگر کا گوشہ عفان اس سے ہمیشہ کیلئے دور جا چکا تھا ۔وہ ہر وقت اپنے لخت جگر کی یاد میں روتی تڑپتی اور گھنٹوں اس کی تصویر سے باتیں کرتی رہتی ۔
"رابیعہ بیگم بس کرو۔ ۔۔یہ ڈرامے بازی بہت ہو چکی ۔۔۔میرا بھی اتنا ہی نقصان ہوا ہے جتنا تمہارا ۔۔۔۔۔یہ سب کچھ تمہاری غفلت اور لاپروا ہی سے ہوا ہے۔ساحل نے سنگدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ۔

"مجھے اپنے گھر کے لئے ایک ذی ہوش بیوی کی ضرورت ہے ۔۔۔۔جو میرے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلے ۔۔۔تم میرے ساتھ نہیں چل سکتی۔۔۔۔اس لئے را بیعہ بیگم میں تمہیں طلاق دیتا ہوں”۔

رابیعہ کا بولتے بولتے گلا خشک ہو چکا تھا۔ اور وہ اپنی ویران آنکھیں شاکرین پر جمائے اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔مانوں جیسے اس سے سوال کر رہی ہو،کیا تم پھر میری کہانی دوہرا گی ۔۔۔۔؟شاکر ین کو یکایک ایسا محسوس ہوا کہ وہ کوئی بہت بھیا نک خواب دیکھ رہی ہو،اس نے بے اختیار جھر جھری لیتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔”رابیعہ آپی آپ نے میری آنکھیں کھول دی ہیں،خدا معاف کرے۔۔۔۔یہ کیا میں انجانے میں ظلم کرنے چلی تھی۔۔۔مرد کا کیا اعتبار وہ تو کلی کلی منڈرانے والا بھنورا صحیح۔ مانوں میں زندگی تو عورت کی تباہ ہوتی ہے اسے ماں نہیں ملتی،نہیں باپ کا گھر اور نہیں شوہر کا گھر اور نہیں بیٹے کا گھر اور پھر آخر میں یہ سینی ٹوریم ہی اس کا مقدر بن جاتے ہیں۔۔۔!!