یہ کیسی مسیحائی؟

34

کھانے پینے کے لئے مناسب غذا اور صاف پانی ضروری ہے. سانس لینے کے لئے صاف ستھری غیر آلودہ ہوا بھی انسانی زندگی کی ضرورت ہے..

یہ بندوبست بہت بڑا ہے گوکہ اس سے مفر نہیں ہے.. ہوا کی صفائی ہمارے بس میں نہیں، لیکن اس کو صاف رکھنا ہماری ذمہ داری ہے.. قدرت نے طبعی طور پر ہوا کو صاف ستھری رکھا ہے.. اس کی معیاریت کی تباہی ہماری اپنی ہوسناکی کی وجہ سے ہے.. بیماری کے مقابلے میں صحت عام ہے .. بیماری ایک قدرے استثنائی صورت حال ہوتی ہے.. کم وقت میں غیر معمولی اخراجات اور بے یقینی کی کیفیت اس کا خصوصی پہلو ہے.

اسی لئے ساری دنیا عام زندگی گزارنے کے لئے سادہ سا انتظام کرتی ہے اور روزانہ کی معمول کی زندگی کے لئے امن وامان کے استحکام اور روزگار کی آسان فراہمی یقینی بنادینا کافی سمجھتی ہے.. لیکن بیماری کا مقابلہ کرنے کے لئے حکومتیں شہری کو خصوصی تعاون فراہم کرنے کی عہد بند ہوتی ہے.. ترقی یافتہ ملکوں میں علاج معالجہ کا انتظام، سرکاری اور پرائیوٹ دونوں سطحوں پر معیاری ہوتا ہے.. وہاں ایک طرح سے سوشل سیکورٹی کے تحت طبی انشورنس تقریباً لازمی ہی ہے.. لیکن ہمارے ملک کی صورت حال بہت مختلف ہے.. یہاں پرائیویٹ سیکٹر میں علاج معیاری لیکن بہت مہنگا ہے جو یہاں کی اوسط حد آمدنی سے بالکل میل نہیں کھاتا.. سرکاری دواخانوں کا حال اتنا ابتر ہے کہ کیا کہا جائے..

ہسپتال گندگی کا ڈھیر ہیں تو عملہ بدعنوان بد سلوک اور لاپرواہ ہے.. غریب مریض ایک تختہ مشق ہوتا.. پورا ملک کرپٹ اور اخلاقی دیوالیہ ہوچکا ہے..کووڈ کی وبا میں حکومتی ہراسانی اور بدانتظامی کی وجہ سے سارے جھوٹے کلینکس اور ڈسپنسریز بند ہیں. 10٪ بڑے اور کارپوریٹ ہاسپٹلز کو کووڈ 19 کے علاج کے لئے خصوصی لائیسنس جاری کئے گئے.. اور پھر ان کی چاندی ہوگئی.. راتوں رات ایک بیڈ کی قیمت آسمان چھونے لگی.. مریضوں کو ایمرجنسی کیسز میں بھی لینے سے انکار کرکے بستروں کی مصنوعی قلت پیدا کی گئی اور قیمتوں کو من مانی حد تک بڑھادیا گیا.

کووڈ کے کیسز جن کے لئے خاص اجازت نامہ جاری کیا گیا، اس کا ایڈمٹ پروسیسر مشکل کردیا گیا.جس مرض کی کوئی متعین دوا نہیں ہے اس کے مریضوں کو پیراسیٹامول اور آکسیجن سپورٹ دے کر ان سے یومیہ ایک لاکھ سے زائد روپے چارج کئے گئے.. دوچار مقدمات قائم ضرور کئے گئے لیکن چند دنوں میں یہ بڑے کاروباری معاملات سیٹ کرلیں گے اور کیسز واپس ہوجائیں گے اور شکایت کنندہ ایک قابل لحاظ آفر قبول کرکے اپنی نجات دیکھے گا.

یہ سارے بڑے ہاسپٹلز بڑے بڑے سیاستدانوں کے ہیں.. اور ان کاروباری گھرانوں یا شخصیات کے ہیں جو سیاسی پارٹیوں اور لیڈروں کے انتخابی فینانسر ہوتے ہیں.. رفتہ رفتہ ہمارے ملک میں ہر تعلیمی ادارے اور طبی ادارے کے پیچھے کوئی نہ کوئی سیاستدان کھڑا ہے..

آخر حکومت اس لوٹ کھسوٹ میں ایکشن کیوں نہیں کرتی.. ریاستی وزیر صحت ای – راجندر صاحب تک نے تسلیم کیا کہ ایسا ہوا ہے، اور اچھے ہاسپٹلز میں بھی کووڈ کے عام علاج کا صرفہ یومیہ دس ہزار سے زائد نہیں ہونا چاہئے، تو پھر لاکھ لاکھ دو دو لاکھ یومیہ کا بل تھمانے والے بے رحم ہسپتال انتظامیہ کو کیوں قانون کے دائرے میں نہیں لایا جارہا ہے.

یہ بھی غور طلب ہے کہ روزانہ کووڈ مریضوں کے لئے دستیاب کرائے گئے بیڈ خالی رہنے کی خبر چھاپی جاتی ہے اور مریض جاتے ہیں تو واپس کئے جاتے ہیں اور پھر درمیانی بروکرز کے لئے وہ بیڈ لینے کے لئے مجبور کئے جاتے ہیں..
آخر یہ کیسی مسیحائی ہے؟؟