دلفریب آکاش کے نیچے کا دکھ! عبدالغنی

29

ارریہ عبدالغنی{روزنامہ نوائےملت}
بھارت کا فرساڈانگی گاؤں سات ہزار نفوس پر مشتمل ہے ۔گاؤں کا محل وقوع اسٹیٹ ہائی وے ہے ۔مگر اسٹیٹ ہائی وے تک پہونچنے کے لئے تین چار کلو میٹر طویل مسافت طے کرنا پڑتا ہے۔ گاؤں کی چوہدی مغرب ستبیٹہ،جنوب گیرکی،شمال تارن اور مشرق بگڈھرا سے ملحق ہے۔ ریاست بہار کے ارریہ سب ڈویزن واقع جو کی ہاٹ بلاک حلقہ کا ایک گاؤں ہے جہاں کھیت کھلیان اور جھونپڑی نما مکانات میں لوگ باگ گزر بسر کرتے ہیں۔ ایک وزیراعظم دیہی سڑک ہے۔ جو ندی کی وجہ سے ادھوری ہے۔ گاؤں سے ہوکر بہنے والی ندی کی اٹھکھیلیاں لوگوں کے لئے وبال جان ہے۔
دو دہائی سے اب تک ندی میں لوگوں کے سیکڑوں مکانات سما چکا ہے۔ ہرسال دو درجن سے زائد گھر ندی میں بہ جاتا ہے ،یا کٹ جاتا ہے ۔جبکہ کئی ایکڑ کی کھیتی تباہ و برباد ہوتی ہے۔ندی کٹاؤ کے روک تھام کا پہلے کوئی بندوبست نہیں تھا۔گزشتہ تین سالوں سے میں اپنی سی کوشش کے ساتھ ڈیم کے لئے سال بھر تگ ودو کرتا رہتا ہوں۔بانس بلی،بورا سے کام ہوتا ہے مگر ریت محنت پہ پانی پھیر جاتا ہے۔ جبکہ ضرورت پتھر کے سل کی ہوتی ہے ۔اس میں مقامی رکن اسمبلی شہنواز عالم صاحب ،پنچایت کے فعال مکھیا نمائندہ عمران صابر صاحب،محکمہ کے ایس ڈی او پرمود جھا کا تعاون شامل رہتا ہے۔ ابھی اس سال تو قیامت برپا ہے کہ اب تک چار پانچ مکانات اور کئی بیگھہ کھیتی ندی کٹاؤ کی زد میں آکر پانی سے مل کر تحلیل ہوچکا ہے۔تقریبا ایک کلو میٹر تک سو میٹر کٹ چکا ہے۔ اب پنچایت گیرکی مصوریہ کا یہ ایک گاؤں پورا کا پورا ندی کٹاؤ کی زد میں ہے،اب پھر سے بانس بلی اور بورا بوری کی ڈیم کی تعمیر کے لئے آج ایس ڈی او پرمود بھارتی کا وزٹ کروایا گیا ہے۔ اس موقع پر مقامی آبادی کا مطالبہ تھا کہ کچھ کیجئے ورنہ اب ٹوٹ جائیں گے،بار بار مکان کا بننا کھیل نہیں ہے پھر بسوباس ایک الگ مسئلہ ہے۔اس موقع پر والد صاحب،نور بھائی،راشد بھائی کے علاوہ سیکڑوں اہل گاؤں موجود تھے۔