شوق جلوہ آرائی

14

تحریر :خورشید انور ندوی

گناہ سے دوری، قابل صد مبارکباد ہے .. لیکن ترک گناہ کی تشہیر، ایک منحوس جذبہ ہے.. اس کے ڈانڈے نفاق اور مجاہرت بالاثم سے ملتے ہیں.. اس کھیل میں میڈیائی داعیوں یا منصوبہ بند تشہیری مداریوں کا بڑا حصہ ہے.. کچھ دن پہلے کسی بندی کا کسی بندے سے نکاح ہوگیا.. بے جوڑ شادیاں ہوتی رہتی ہیں. ڈرائیور کے ساتھ مالکن ، اکاؤنٹنٹ کے ساتھ بزنس اونر، پرسنل منیجر کے ساتھ ایونٹ اسٹیلرز کا بندھن روز کی بات ہے.. کسی مفتی سے کسی اداکارہ کا نکاح ایسے پروجکٹ کیا گیا، جیسے عربوں نے اسرائیل جیت لیا، یا پینٹاگون زمین دوز ہوگیا.. جوڑے نے اپنی بےہنگم جوڑی کی تشہیر میں بڑے بڑے ایونٹ ماسٹرز اور نیوز بریکرز کو مات دے ڈالی.. اور پھر دہائی کہ زیادہ اکسپوزر سے ان کو تکلیف ہے..واقعی اگر ان کی مرضی اور خواہش کے برعکس ایسا ہورہا تھا تو یہ زیادتی ہے اور ان کی پرائیویسی میں خلل اندازی ہے.. لیکن دو دن نہیں گزرے کہ بےجوڑ جوڑا سارے فوٹوز ویڈیوز خود ہی شیئر کررہا ہے… آج تو ایک دوسرے پر دم درود بھی ہوا.. یہ سرگرمیاں سادہ لوح لوگوں کو بیوقوف بنانے والی بات ہے.. نیکی کی توفیق بڑی بات ہے،، اگر آپ برائی کو پیچھے چھوڑ کر اگئے ہیں تو خاموشی، اور لیم لائٹ سے دوری میں عافیت ہے.. برائی چھوڑنے کی مارکیٹنگ اس توفیق کی ناقدری ہے.. اس سے اجتناب ضروری ہے.. مبلغین بھی فیگرز پر توجہ کم دیں تو بہتر ہے،، توبہ اگر سچی ہو تو، اللہ کے یہاں اس کی کیا اہمیت ہے کہ، تائب دلیپ کمار ہے، یا کلو کلوار.. خدا کی بارگاہ میں خلق خدا کی کوئی وجاہت نہیں… سوائے اس کے جس کو خدا خود بخش دے.. وہ بخشش ہے استحقاق نہیں…ایک بہتر، اور عبدیت کی زندگی کی طلب، استقامت اور سرافگندگی کا تقاضہ کرتی ہے.. پبلیسٹی اور نمود کا نہیں.. اے اللہ ہم میں سے جو تیری راہ لوٹ چکے ان کو استقامت دے ، توبہ پر دلجمعی عطا کر، اور جو نہیں لوٹے ان کو لوٹنے کی توفیق دے…..