رزق کا وسیع مفہوم اور تنگ نظر سماج

29

اللہ کی عطا کردہ ہر نعمت اور اس کی بخشی ہوئی ہر دولت رزق ہے،خواہ اس کا تعلق جسمانی صحت سے ہو یا قلبی اطمینان سے، کائنات میں پھیلی ہوئی رنگا رنگی و بو قلمونی سے ہو یا اندرون خانہ بہ حفاظت رکھے ہوئے سامان عیش وعشرت سے، علم کی کثرت سے ہو یا مال کی فراوانی سے الغرض ان سبھوں کا تعلق رزق سے ہی ہے، اور ان میں سے ہر ایک کا بہتر استعمال عمدہ عبادت ہے، لیکن ہمارے اس پڑھے لکھے جاہل سماج کا عالم یہ ہے کہ اس نے رزق کے وسیع مفہوم کو سمجھنے کے بجائے اس کے مراد ومعانی کو محدود کردیا۔

 

اور اس کا تعلق ہر ایک سے جدا کرتے ہوئے صرف مال کی فراوانی سے مربوط کر دیا اور پھر کیا تھا وہی معیار عزت بھی بن گیا جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ ہر کوئی اس کے حصول میں پاگل و دیوانہ ہوگیا، اور حرام وحلال کی تمیز کئے بغیر مقابلہ آرائی پر اتر آیا۔۔۔۔۔ اور پھر کیا تھا شرافت کو حماقت، ظلم کو انصاف، اور حسن اخلاق کو مجبوری کا نام دے دیا گیا۔