آرمینیا کی جانب سے امن معاہدے کے تحت خالی کردہ آخری ضلع میں آذربائیجان کی فوج منگل کو داخل ہو گئی ہے۔

آذربائیجان کی وزارتِ دفاع نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں لاچن ضلع میں کئی ٹرک داخل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں جن پر آذربائیجان کے پرچم لہرا رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق اُن کے صحافیوں نے لاچن ضلع میں آذربائیجان کے فوجی ٹرکوں کو روسی گاڑیوں کے ساتھ داخل ہوتے دیکھا ہے۔

روس کی معاونت سے آرمینیا اور آذربائیجان نے گزشتہ ماہ جنگ بندی کا معاہدہ کیا تھا۔ معاہدے کے تحت آرمینیا نے متنازع علاقے ناگورنو کاراباخ کے تین اضلاع اغدم، لاچن اور کالباجار کو آذربائیجان کے حوالے کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

معاہدے کے بعد آذربائیجان کی فوج نے نارگورنو کاراباخ پر حملے بھی روک دیے تھے۔

اغدم اور کالباجار کی طرح لاچن کے رہائشیوں نے بھی آذربائیجان کی فوج کے داخل ہونے سے پہلے علاقے سے نقل مکانی کر لی ہے جب کہ بعض رہائشیوں نے گھر بار چھوڑنے سے پہلے اُنہیں آگ بھی لگا دی۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اُنہیں شام چھ بجے کا وقت دیا گیا تھا کہ وہ ہجرت کر سکتے ہیں۔

امن معاہدے کے تحت روس کے دو ہزار افراد پر مشتمل امن دستے 60 کلو میٹر طویل اُس سرحد پر تعینات ہیں جو لاچن کو کاراباخ کے مرکزی شہر سٹیپناکارٹ سے الگ کرتی ہے اور یہ سرحد آرمینیا سے جا ملتی ہے۔

ایک مقامی عہدے دار دیوت داوتیان کے مطابق بعض افراد نے علاقے سے نقل مکانی سے انکار کر دیا ہے اور وہ وہیں مقیم ہیں، جب کہ دو سو افراد کو مقامی انفرااسٹرکچر کی دیکھ بھال کے لیے وہیں رہنے کی اجازت دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان نو نومبر کو ہونے والا امن معاہدہ چھ ہفتے کی جنگ کے بعد طے پایا۔ اس جنگ میں آذربائیجان کی فوجوں نے مقامی علیحدگی پسندوں کو شکست دی اور دھمکی دی تھی کہ وہ سٹیپناکارٹ کی جانب پیش قدمی کریں گے۔

اس معاہدے کے مطابق آرمینیا ان سات اضلاع کا کنٹرول چھوڑ دے گا جنہیں اس نے 1990 کی دہائی میں ہونے والی جنگ کے دوران حاصل کیا تھا۔ بہت سے آذربائیجانی جو اس علاقے کو چھوڑ گئے تھے وہ اب واپس آنے کا سوچ رہے ہیں۔

‘ناگورنو کاراباخ’ کا پس منظر

امریکی تھنک ٹینک کونسل فار فارن ریلیشنز اور دیگر آن لائن ذرائع کے مطابق سوویت حکومت نے 1920 میں ‘ناگورنو کاراباخ’ کے نام سے ایک خود مختار علاقہ تشکیل دیا تھا جہاں 95 فی صد آبادی نسلی اعتبار سے آرمینیائی باشندوں پر مشتمل تھی اور ان کے ساتھ آذربائیجان کے لوگ بھی اس خطے کا حصہ تھے۔

بالشویک رول کے تحت آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان لڑائی پر کنٹرول رکھا گیا لیکن سوویت یونین جب ٹوٹنا شروع ہوا تو اس کا آرمینیا اور آذربائیجان پر بھی کنٹرول کمزور ہو گیا۔

اسی دوران ‘ناگورنو کاراباخ’ کی قانون ساز اسمبلی نے آرمینیا کا حصہ بننے کی ایک قرار داد منظور کی، باوجودیکہ یہ علاقہ محلِ وقوع کے اعتبار سے آذربائیجان کی سرحد کے زیادہ قریب تھا۔

جب 1991 میں سوویت یونین پر زوال آیا تو اس خود مختار علاقے نے باضابطہ طور پر آزادی کا اعلان کر دیا۔ اُس موقع پر آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جنگ چھڑ گئی جس کے نتیجے میں 30 ہزار افراد ہلاک و زخمی ہوئے اور ہزاروں افراد کو پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔

سن 1993 میں آرمینیا نے ‘ناگورنو کاراباخ’ پر کنٹرول حاصل کیا اور آذربائیجان کے 20 فی صد علاقے پر بھی قبضہ کر لیا۔

اگلے سال یعنی 1994 میں ایک منسک گروپ تشکیل دیا گیا جس کا مقصد اس تنازع کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کرنا تھا۔ اس گروپ کی سربراہی امریکہ، روس اور فرانس نے مشترکہ طور پر کی۔

گروپ نے آرمینیا اور آذربائیجان کی قیادت کے درمیان ملاقاتوں کا اہتمام کیا جس کے بعد ایک بار پھر جنگ بندی پر اتفاق تو ہو گیا لیکن یہ تنازع اسی طرح اپنی جگہ موجود رہا اور دو دہائیوں کے نسبتاً استحکام کے بعد 2016 میں ایک مرتبہ پھر فریقین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

2016 میں دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا اور بارہا جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہوتی رہیں۔

ناگورنو کاراباخ اور اقوامِ متحدہ

مارچ 2008 میں ماردا کرٹ میں نسلی آرمینیائی اور آذربائیجان کی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 14 مارچ 2008 کو سات ووٹوں کے مقابلے میں 39 ووٹوں کے ساتھ ایک قرار داد منظور کی۔

اس قرارداد میں آرمینیا کی فورسز سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ آذربائیجان کے مقبوضہ علاقوں کو فی الفور خالی کر دے۔