کیا مسلم معاشرہ سےتلک وجہیز کاخاتمہ ناممکن ہے؟

34

اس کائنات ہستی میں، قادر مطلق نے اپنی عبادت واطاعت کی خاطر جب نوع انسانی کے ابوالآباء حضرت آدم ۔علیہ السلام ۔کی تخلیق کے وقت، ان کے خلقت سےمتعلق فرشتوں سے ان کی رائے طلب کرنے کے لیے ارشاد فرمایا :اني جاعل في الأرض خليفة. فرشتوں نے کہا کہ ائے خالق کائنات تیری عبادت و اطاعت اور تقدیس و تحمید کے لیے ہم تو ہمہ وقت تیار ہی ہیں اور رہیں گے بھی، تو پھر آپ ان کی تخلیق کا ارادہ کیوں کر رہے ہیں؟اس نوع انسانی کے ذریعےروئے زمین پر خون ریزی ،کشت خون ، جنگ و جدل، قتل و غارت گری ہو گی، اور شر وفساد مچے گا؛ اس لئے آپ ان کی تخلیق کے ارادے کو ترک کردیں، تو بہتر ہوگا، پس باری تعالی نے ان کے باطل افکار وخیالات کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:اني أعلم مالاتعلمون.
اور نوع انسانی کے ابوالآباء حضرت آدم۔ علیہ السلام کی تخلیق فرمائی ،انسانی فطرت کے مطابق خداوندعالم نے جب یہ دیکھا کہ حضرت آدم علیہ السلام کاکوئی رفیق حیات اور رفیق راز ہو، تو حضرت آدم ۔علیہ السلام ۔ہی کے شق ایسر سےخلاف جنس بشکل عورت حضرت حوا ۔

علیہاالسلام کو پیدا فرمایا، پھر ان دونوں کی جنسی اور طبعی خواہشات کی تکمیل کے لیے اور انسانی وجود کی بقا کے لیے، جائز سلسلہ توالد وتناسل قائم کرنے کے لیے رشتہ زوجیت کوبصورت نکاح قائم کیا۔

نکاح کرنا سنت نبوی ہےارشاد نبوی ہے:واتزوج النساء فمن رغب عن سنتي فليس مني.”نکاح "رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے محبت ومودت کی ایک بین اور واضح علامت ہے، "نکاح "معاشرہ میں عظمت وتوقیر اور شرف ومجد کاذریعہ ہے،”نکاح "کے ذریعے نگاہیں جھک جاتی ہیں، اور شرم گاہیں محفوظ ہوجاتی ہیں، حدیث نبوی ہے:من استطاع الباءة فليتزوج فإنه أغض للبصر واحصن للفرج ومن لم يستطع فعليه بالصوم فانه له وجاء.اور جوشخص بیوی کے نفقہ و سکنی اور دیگر ضروری اخراجات پر قادر نہ ہو، تو اس کے لیے بدرجہ مجبوری اغض للبصر واحصن للفرج.کے واسطے روزہ رکھنے کا حکم دیاگیاہے؛ کیوں کہ روزہ کے ذریعے جنسی خواہشات توڑا جاتا ہے یعنی روزہ نفسانی خواہشات توڑنےاور ختم کرنے میں بے حد معین ثابت ہوتا ہے۔

نکاح کو آسان سے آسان تر بنانے کا حکم دیا گیا ہے؛ مگر افسوس کے موجودہ دور کے مسلمانوں نے لڑکی کے والدین پر تلک وجہیز کے بارے گرا اور غیر ضروری اخراجات عائد کرکے نکاح کو آسان تر سے مشکل تر بنا دیا ہے ،جن کی بنا پر بہت سی بنت حوا نکاح جیسی سنت نبوی اور عظیم نعمت سے محروم ہو رہی ہیں، جب کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ تلک و جہیز کا تصور نہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور میں تھا ،نہیں تابعین کے زمانے میں تھا، اور نہیں تبع تابعین کے دور میں تھا؛ بل کہ ایک طویل زمانے تک اس کے تصور کا کوئی ادنیٰ سراغ بھی نہیں ملتا ہے، اور فخر کائنات محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح کیا، اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنی بیٹیوں کا نکاح کیا؛مگر تلک وجہیز نہیں دیا ،بل کہ صرف بناؤ سنگھار کے ساتھ رخصت کردیا، تلک و جہیز کا تصورمسلم معاشرہ میں، ہندو معاشرہ اور غیر مسلم سماج سے آیا ہے جو رفتہ رفتہ اب مسلم معاشرہ کے لیے تباہ و برباد ی کا ایک بڑا ذریعہ بن گیا ہے، جس میں روز بروز شدت اور بڑھوتری ہی ہورہی ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے جس سے کسی فرد بشر کو انکار نہیں ہے، کہ آئے روز ہماری مسلم بہنیں باعث فقر و تنگدستی و غربت اور ان کے والد کے تلک و جہیز کے بارگراں کے متحمل نہ ہونے کی وجہ سے، کسی غیر مسلم ہندو اور کافر ومشرک کے ساتھ عشق رچاکر فرار ہو رہی ہیں، اور پھر دین اسلام اور دین حنیف سے برگشتہ ہو کر مرتد ہو جاتی ہیں، اس طرح کی خبروں سے اخبارات معمور رہتی ہیں ،واقعتا اس طرح کی خبریں پڑھنے کے بعد، دل افسردہ ہوجاتا ہے، دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے، دل و دماغ اور فکر و خیال میں یہ بات کثرت سے گردش کرنے لگتی ہے ،کہ کیوں نہیں خداوند عالم ان واقعات کے رونما ہونے سے قبل ہی ،اس کرہ ارضی سے اٹھا لیے ہیں؟بھلا یہ بھی کوئی زندگی ہے،کہ جس میں نظروں اور نگاہوں کے سامنے مسلم خواتین دور حاضر کے ایک عظیم ناسور یعنی تلک وجہیز سے متاثر ہوکر بدرجہ مجبوری غیر مسلم کے ساتھ فرار ہو کر شادی کر کے مرتد ہورہی ہیں ، اور اسلام نظروں کے سامنے ذلیل ہو ،باوجود اس کے ہمیں غیرت نہ آئے، اور مذہب اسلام ذلیل اور پسپا ہو، یہ مسلمانوں کے لئے ڈوب مرنے کی بات ہے ،جس انسان کے دل میں رائی کے دانے کے بقدر بھی ایمان موجود ہوگا، وہ ہرگز مذہب اسلام کوذلیل اور پسپاہوتاہوانہیں دیکھ سکتا ہے،اگر ہم دیکھ رہے ہیں، تو پھر یہ ہمارے ایمان کے ضعیف اور کمزور ہونے کی بین اور واضح علامت ہے اور ہمیں فورا ہی اپنے دین و ایمان کی خیرو خیریت لینے کی ضرورت ہے، کہ کہیں ہمارا ایمان تو سلب نہیں ہو چکا ہے، کیا تلک وجہیز کے بڑھاوے میں ،عام مسلمانوں کے ساتھ ساتھ علمائے کرام کا بھی ایک اہم رول نہیں ہے؟ کیوں نہیں ضرور ہے ؛بل کہ احقر کہتا ہے کہ عوام سے زیادہ علمائے کرام ہی اس جرم کے قصوروار ہیں، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے اکثر عالم دین یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس شادی میں لڑکے کے والدنے لڑکی کےوالد سے وافر یا قلیل مقدار میں تلک وجہیز لیا ہے، پھر بھی نکاح پڑھانے سے ادنیٰ بھی گریز نہیں کرتے ہیں، اور اس قسم کے نکاح پڑھانے کو ایک عظیم الشان کارنامہ تصور کرتے ہیں۔
قیامت کے روز موجودہ دور کے علماء کرام دربار خداوندی میں کس چہرے کے ساتھ حاضر ہوں گے؟ کیا اب بھی وقت نہیں آیا ہے کہ علماء کرام اس سلسلے میں ٹھنڈے دل و دماغ سے غور و فکر کریں اور اس ناسور کو ختم و استیصال کرکے ہی دم لیں ؟بالکل وقت آ گیا ہے، پس ضرورت ہے کہ تمام علمائے کرام خواہ، وہ کسی بڑے ادارے کے شیخ الحدیث ہوں یا کسی بستی کی مسجد کا امام، ہر ایک اجتماعی وانفرادی، ہر طریقے پر، ہر اس نکاح میں شرکت سے قطعی گریز کریں، جس میں جہیز لیا، دیا گیاہو، اور اگر کوئی خفیہ اور پوشیدہ طریقے پر تلک وجہیز لیتا، یا دیتا ہے، تو پھر ان لینے اور دینے والے ہر ایک کے خلاف سخت اور کڑی سزائیں تجویز فرمائیں، اور اس تجویزکو بروئے کار بھی لائیں، پھر دیکھیں کہ کس طرح وقت قریب ہی میں، یہ ناسور اس صفحہ ہستی سے ختم ہو جاتا ہے ،بس ضرورت ہے، سچے دل سے عزم بالجزم کر نے اور اس پر جمے رہنے کی، ممکن ہے کہ ابتداءدشوار گزاروادیوں سےگذرناپڑے؛ مگر ذات باری تعالی سے یقین کامل ہے کہ وہ ضرور بالضرور ہمیں اس میں کامیابی و کامرانی سے ہم کنار فرمائے گا۔

اور یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ اس عظیم اور اہم مقصد میں کامیابی علماء کرام کے علاوہ دیگر حضرات سے بہت ہی مشکل ہے، اس لئے تمام علمائے کرام ذکر کردہ ان د و امور( یعنی ہر اس نکاح میں شرک سے قطعی گریز اور خفیہ طریقے سے لینے اور دینے والوں کے خلاف سخت سزا )پر عمل پیرا ہوجائیں، پھر کامیابی تو یقینی ہے۔