اب قصہ تمام ہوا ” جس کی لاٹھی اس کی بھینس” عقیل ندوی

84

اب قصہ تمام ہوا "جس کی لاٹھی اس کی بھینس”
ہندوستان آزاد ہوا تھا جمہوریت پر لیکن اس کا اختتام ہوگا "جس کی لاٹھی اس کی بھینس” والی کہاوت پر۔
آخر ایسا کیوں؟

ایسا اسلئے کہ جمہوریت میں چاہے ایک گاؤں ہو یا قصبہ، ایک شہر ہو یا پورا ضلع، کوئی اسٹیٹ ہو یا پورا ملک ان سبھی جگہوں میں جب کوئی آئینی ترمیم کرنا چاہے تو اسے اکثریت کے سہارے مشورہ کے ساتھ بل پاس کرانا ہوتا ہے تب جاکر وہ ان چیزوں میں کسی قدر تبدیلی کا حق رکھتے ہیں لیکن یہاں تو ایسا کچھ نہیں بلکہ ڈنڈے کی زور پر شہادت کچھ اور فیصلے کچھ۔”مارے گھٹنا پھوٹے آنکھ” جیسا معاملہ ہے۔

اس وقت ہر کوئی اپنی بھینس کی تلاش میں لاٹھی لیے گھومتا نظر آتا ہے جہاں موقع ہاتھ آیا اُدھر بھینس کا رخ کردیا۔

جب موجودہ حکومت نے اپنا تاج و تخت سنبھلا تو کہنے لگے کالا دھن بہت ہوگیا اب اجالا کرنا ہے اسلئے بنا کسی انتظام کیے بغیر جناب نے راتوں رات نوٹ بندی کا اعلان کردیا ۔ جب اس سے من بھر گیا تو طلاق ثلاثہ پر مسلم خواتین کو عزت اور حقوق دلانے کا بھوت سوار ہوگیا۔ابھی یہ سب سے جی بھرا نہیں تھا کہ انہیں میں سے ایک پیارے اور لاڈلے شخص نے یہ اعلان کردیا کہ بابری مسجد کولیکر ہمیشہ الیکشن میں فیکشن ہوتی رہی ہے لہذا عدالت سے فیصلہ چاہتے ہیں کہ وہ شہادت کی بنیاد پر فیصلہ سنادیں تاکہ بے چاری عوام کو سکون مل سکے، جناب والا نے اس کی بھی تیاری پہلے ہی کرلی تھی کیونکہ اگر یہ بات کڑوا سچ نہیں تو پھر شہادت کچھ فیصلے اس سے مختلف کیوں؟

موجودہ حالات اس بات کیلئے گواہ ہیکہ جسکی لٹھیا اسی کی بھینسیا۔
میڈیا میں اس خبر کو چلانے سے پیٹ بھرا نہیں تھا کہ لو جی اب تو خبروں کی پوٹری ہی کھل گئی اور وہ خبر تھی کشمیر کی، جس سے مذکورہ باتیں ثابت ہوجاتی ہیں کہ جسکی لاٹھی اسی کی بھینس۔

،لوگوں نے سوچا چلو اب چل کر کچھ کام کرتے ہیں، ہندو مسلم سب یک عیسائی ہوکر، بھوکوں کو کھانا کھلاتے ہیں، تو ہمارے مہربان، قدر دان، سیاست دان کو یہ باتیں ہضم ہی نہ ہوئی، چلے پڑے……. بس اٹھائی لاٹھی چلے چرانے بھینس آسام کی گلیوں میں، اور شروع کردیا ایک نیا ڈرامہ این آر سی کا، جس میں ملک کے ہر طبقے کا نام لیا گیا مگر ایک طبقہ کو نیلامی کی بھینٹ چڑھا دیا چنانچہ جب پورے طبقے نے مل کر اس نیلامی سے باہر نکلنے کی کوشش میں، اپنے باپ داداؤں کی قبروں کو کھود کر کاغذ جمع کرنے میں مصروف ہی ہوئے تھے کہ شب تاریکی میں زمین کو پھاڑتا ہوا، قیامت کی نشانی بن کر ایک عجیب و غریب مخلوق جس کی شکل و شباہت انسانوں سے ملتی جلتی تھی، اور وہ چیخ چیخ کر یہ کہہ رہا تھا کہ لوگو سنو! جس طرح میں اکیلا اسی طرح تم اکیلا۔
اسلئے اب گھروں سے باہر مت نکلنا نہیں تو تمہاری جان کو خطرہ ہے میں آیا ہوں تم کو بتانے۔

بس اتنا سننا تھا کہ لوگوں نے اپنی بیویوں سے کہنے لگے دور ہٹو مجھے زندہ رہنا ہے، اس طرح ہر کسی کو ہر کسی سے دور کردیا، یہاں تک اب ایسا وقت آن پڑا کہ ٹی وی کھولو سیاست دانوں کا تماشا دیکھو، بھوک لگے تو سوشل میڈیا پر چلے جاؤ، کم از کم چائے اور پکوڑے دیکھنے مل جائے تو اپنے بچوں کو بھی دکھا کر سلا دینا، کیونکہ ہاتھ لگاؤ گے تو مر ہی جاؤ گے، یہی ڈرامہ اب تک چل رہا ہے۔

اسے اگر ڈرامہ نہیں کہا جائے تو اور کیا کہیں؟
مخصوص گاڑیاں چلائی جاتی ہیں تو کوئی کورونا نہیں ہوتا، جب روزی روٹی کی تلاش میں نکلیے تو کورونا پکڑ لیتا ہے، ان کے حکم پر ہوٹلیں کھولی جائیں تو امر ہیں جب کوئی دوسرا کھولتا ہے تاکہ وہ اپنے روتے، بلکتے بچوں کو ایک وقت کی کی روٹی کھلاسکے تو اسے فی الفور کورونا دبوچ لیتا ہے، یہ سب عجب تماشہ نہیں تو اور کیا ہے۔

لیکن یاد رہے کہ یہ سب تماشہ ایک بڑی عالمی سازش کا نتیجہ ہے جو ابھی تک کچھ ہی لوگوں کو سمجھ آیا ہے لیکن یہ باتیں تب سمجھ آئیں گی جب کشمیر، برما اور اسپین جیسی حالات سے مکمل یہاں کے لوگوں کو ٹارگیٹ کیا جائے گا۔ لیکن اس وقت تک ہم اور آپ کے پاس کچھ بچے گا نہیں۔ تب تک تو ہم اور آپ کا قصہ تمام ہوچکا ہوگا۔ چنانچہ کہاوت کے پیش نظر جس کی لاٹھی تھی اسی نے بھینس کھول لی۔