اگر اب بھی نہ سنبھلے تو!

38
ظلم و جبر اور حکومت و طاقت کے نشے میں قانون و عدالت کو کھلونا بناتے ہوئے ایک جمہوری ملک میں جس طرح جمہوریت کا جنازہ نکالا گیا اور بر سر عام عدالت کے ایوانوں میں ثبوتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے غیر منصفانہ فیصلہ کے ذریعہ عدلیہ کی توہین کی گئی اسے بھلایا نہیں جا سکتا، یہ حقیقت کسی بھی پل نظروں سے اوجھل نہ ہونی چاہئے کہ خدائے ذو الجلال ظالموں کو پسند نہیں کرتا اور ہست کو نیست میں تبدیل کرنے پر وہ قادر ہے، ظلم کی ٹہنیاں عارضی اور وقتی طور پر محدود مدت تک لہرا تو سکتی ہے مگر ثمر دار ہونا اس کا مقدر نہیں ہوتا۔
بابری مسجد کی تاریخ سے تو تقریباً سبھی واقف ہیں اور جس کا اعتراف عدلیہ نے بھی یہ کہتے ہوئے کیا کہ وہ کسی مندر کو توڑے بغیر تعمیر کی گئی اور اس کو مسمار کرنے والے مجرم ہیں، لیکن اس کے باوجود بھی فیصلہ مجرموں اور شر پسندوں کے حق میں کیا گیا جس کے عوض جج صاحب عہدہ و منصب سے سرفراز کیا گیا، اس موقع پر ہمیں رک کر یہ سوچنا ہوگا کہ اس معاملہ میں ہماری جانب سے ہونے والی کوتاہیاں کیا ہیں؟ کیا یہ سچائی نہیں ہے کہ ہم نے یہ جانتے ہوئے کہ کانگریس بھاجپا کا گرو ہے اس کو مسیحا سمجھا اور اس کی حمایت کو اھون البلیتین کے فارمولہ پر منطبق کرنے کی کوشش کی؟ کیا ہم نہیں جانتے تھے کہ آر ایس ایس کے اگوا افراد وہی ہیں جو ایک زمانہ تک کانگریس کے بڑے پرچارک رہے ہیں؟ ان ساری باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس معاملہ میں ہم بھی برابر کے قصوروار ہیں۔
موجودہ سرکار کے ایجنڈے سے کون واقف نہیں ہے، ان کا مقصد اولین ہی یہی ہے کہ ملک کی شکل وصورت مسخ کر دی جائے، اور اس کی بو قلمونیوں کو نیست ونابود کر دیا جائے، اور ایسا وہ اس لئے چاہتے ہیں کہ انہوں نے ملک کی محبت اور اس سے وفاداری کرنے میں نہ تو وقت صرف کیا ہے اور نہ ہی جان و مال، یہ لٹیرے انگریز کی اولاد ہیں، اس لئے ان سے بھلائی کی توقع رکھنا حماقت اور ان کے فیصلے اور اقدامات پر خاموش رہنا مہا حماقت ہوگی، اب اگر خاموش رہے تو یقین جانئے ہماری نسلیں گونگی ہو جائیں گی، اس کو یہ سمجھ کر نظر انداز نہ کیجئے کہ ایک مسجد کا معاملہ ہے نہیں ہر گز نہیں بلکہ یہ تمام مساجد کو ختم کرنے کی تمہید ہے، اس لئے اب بھی سویرا ہے،اگر ہم اب بھی نہ جاگے تو معاملات اس سے بھی بد تر ہوں گے اور ہم جتنے دیر سے بیدار اتنی ہی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑےگا۔
اور ہاں مصلحت مصلحت کی رٹ لگانا چھوڑنا ہوگا، اس لئے کہ اس کی بھی ایک حد ہوا کرتی ہے، حالات کے حساب سے مصالح بھی تبدیل ہوا کرتے ہیں۔