تعلیمات نبوی ﷺ اور حقوق نسواں

27

 ابو طالب ندوی

اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس نے تمام لوگوں کو شرعی اعتبار سے زندگی گزارنے کی آزادی عطا فرمایا ہے اور انسان کو اعلی مقام سے نوازا ہے مزید اس بابت کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے کہ لوگوں کے حقوق اس آب و گل میں الگ اور متفرق ہیں جن کا پاس ولحاظ رکھنا ضروری ولازم ہے کیونکہ بعثت نبوی سے پہلے قتل وغارت گری لوٹ مار کا بازار گرم تھا،حقوق نسواں کا کوئی پاس ولحاظ نہیں تھا ،انکا پیدا ہونا ہی گناہ تھا بچیوں کو زندہ درگور کرنا باعثِ سعادت تھا ،اور جس گھر میں بچی کی پیدائش ہو جاتی تھی تو اس کے والد شر م وحیا کے مارے اس شگفتہ، نونہال ،اور معصوم حسین وجمیل بچی کو سو من مٹی کے اندر ڈال کر دفن کر دیتا تھا

       قرآن کریم میں اس بدبختانہ عمل کا اللہ رب العزت نے خود تذکرہ فرمایا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے ۔‘‘ جب ان میں سے کسی کو بیٹی ہونے کی خبر دی جاتی ہے تو اس کے چہرے پرسیاہی چھاجاتی ۔ اور وہ غصہ کی وجہ سے خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتا۔ لوگوں سے چھپتا پھرتا کہ اس بری خبر کے بعد لوگوں کو کیا منھ دکھائے ۔ سوچتا ہے کہ ذلت کے ساتھ بیٹی کو رہنے دے یا مٹی میں دفنا دیں،، لیکن قربان جائیے اس مذ ہب اسلام اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر جنہوں نے اپنے روشن خیال کے ذریعے انہیں برے عمل سے منع کیا اور قرآن میں اس کی طرف اشارہ بھی کیا گیا ہے،،،،،،،

لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برے عمل کو‌معاشرہ سے ختم اور ناپید کیا،اور لڑکیوں اور بچیوں کی اچھی پرداخت اور پرورشِ کرنے پر زور ڈالا،اور انکی پرورشِ کو کار خیر کا باعث بنا یا ، مزید اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ اگر کوئ بچی کی اچھی پرورشِ کرتا ہے اور اس کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہے تو وہ کل قیامت کے دن جنت کا مستحق ہوگا ۔۔

جیساکہ ایک حدیث میں وارد ہوا ہے کہ والدین اگر اپنی اولاد کو اس دنیا میں بہتر تحفہ دینا چاہیے ہیں تو وہ اپنی اولاد کو تعلیم سے آراستہ کر یں ،مہذب بنائیں، کیونکہ یہی چیز ان کے لئے خیر کا باعث بنیگی،

حضرت عقبہ بن عامر بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کے معاملے میں صبر سے کام لے اور اپنی کمائی میں سے انہیں کھلائے ،پلائے اور پہنائے تو وہ بیٹیاں قیامت کے دن اس کے لئے آگ سے بچاؤ کاذریعہ ہوجائیں گی۔(ابن ماجہ)

 حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس آدمی نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ و سن بلوغ کو پہنچ جائیں ۔ تو وہ (پرو رش کرنے والا) قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ میں اور وہ ایسے ہوں گے پھر آپ نے ہاتھ کی انگلیوں کو آپس میں ایک دوسرے سے ملادیا (یعنی ایسے قریب ہوں گے)۔(مشکوۃ)

اور بچیوں کے سلسلے میں اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید یہ حکم فرمایا کہ ان کو بچپن ہی سے نمازِ کی تلقین کریں ، تلاوت قرآن مجید کا عادی بنائیں اور بچپن ہی سے بچیوں کو اس بات کی تلقین کریں کہ ‌وہ ہر ایک کی عزت کریں ،بچپن ہی سے حجاب کا پابند بنائیں،بری چیزوں سے انہیں ہمیشہ دور رکھیں،اچھے قصے سنائںیں

اخیر میں ہم دعاگو ہیں کہ اللہ ہم لوگوں کی بچیوں کو اپنے حفظ وامان میں رکھیں اور انہیں تعلیمات نبوی سے ‌روشناس کرائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔