ناطقہ سر بہ گریباں ہے کیا کہئے!

26
موجودہ وقت میں ہمارے ملک سمیت دنیا جس متعدی اور وبائی مرض "کورونا وائرس” کا سامنا کر رہی ہے، اس بیماری کا آغاز و پھیلاؤ ملک چین کے ووہان نامی شہر سے ہوا تھا اور اس خطرناک و موذی وائرس؛ جس سے پوری دنیا ڈری سہمی بیٹھی ہے اس کو پھیلے ہوئے کم و بیش دس ماہ ہو چکے ہیں، اس
دوران اس کی چپیٹ میں آنے والے دنیا سے رخصت بھی ہوئے اور شفایاب بھی۔
چین جسے اس وبائی مرض کا جد امجد کہا جاتا ہے، اس نے اور دنیا کے کئی متآثرہ ممالک نے اس جان لیوا وائرس پر بہت کم وقت میں نہ صرف کنٹرول کیا بلکہ اسے مکمل طور پر ختم کر اپنے اپنے شہریوں کو راحت و سکون مہیا کرا دیا ہے، چنانچہ اب وہاں کسی طرح کی عوامی بندش، تالا بندی یا احتیاطی تدابیر اختیار کرنے جیسے معمولات اور سرکار کی طرف سے جاری کردہ ہدایات و فرامین پر عمل کرنا ضروری نہیں رہا، مگر جن ممالک کو ابھی بھی اس وائرس اور مہلک مرض نے اپنے قبضے میں لے رکھا یا جہاں جہاں اس مرض کا شدید قہر برپا ہے، ان کی حالت آج بھی خستہ اور صورتحال انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے، لہذا وہ سب ممالک بچاؤ کے تمام تر وسائل و ذرائع کو اپنانے اور طبی عملے کے بتائے ہوئے
اصولوں کے مطابق اپنے عوام کو پابند حکم بنائے ہوئے ہیں۔
ہمارا یہ ملک ہندوستان بھی انہیں ممالک کی فہرست میں شامل ہے جن میں کورونا وائرس کا قہر اور عذاب پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ حملہ آور ہے اور اس مہلک و متعدی وائرس سے متآثر ہونے اور اموات پانے والوں کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔ چنانچہ ایک اندازہ کے مطابق متآثرین کی تعداد انیس لاکھ سے بھی تجاوز کر چکی ہے جبکہ اموات پانے والوں کی تعداد تقریبا چالیس ہزار کو پہنچ
رہی ہے جو کہ یقینا ملک اور اس میں رہنے والوں کے حق میں مفید نہیں ہے۔

قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ اس سلسلے میں انفرادی طور پر یا اجتماعی سطح پر رہنے کےلئے سرکار، محکمۂ موسمیات اور مذہبی شخصیات کی طرف سے جو بھی پالیسیاں نافذ کی جاتی رہیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی جو بھی اپیلیں عوام الناس سے کی جاتی رہیں عوام بلا تفریق مذہب و ملت ان کو عملی جامہ پہناتے رہے یہاں تک کہ ملکی پیمانے پر جو تین ماہ کا طویل لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا؛ ملک کے عوام و خواص سبھی نے بادل ناخواستہ اس کا بھی خیرمقدم کیا اور خود کو اپنے گھروں تک محدود و مقید کیا، ایسا انہیں نے صرف اس لئے کیا تاکہ پورا ملک راحت و سکون کی سانس لے۔
اس کے باوجود اب تک دیکھنے میں یہی آ رہا ہےکہ "مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی” کے مصداق اس وبا کے پھیل پھیلاؤ میں اضافہ تو ہوتا نظر آیا مگر اس کا دائرہ کار میں کوئی کمی نظر نہیں آ رہی ہے، اور سرکار کی طرف سے ملکی سطح پر جو ‘لاک ڈاؤن” کا اعلان کیا گیا تھا، جس میں پورا سرکاری نظام معطل اور عوام کی روز مرہ کی زندگی اور یومیہ ضروریات نہ صرف بری طرح متاثر ہوئی بلکہ سرکاری نظام بالکل ٹھپ اور عوامی زندگی یکسر بوجھل سے محسوس ہونے لگی تھی۔ مگر لوگوں نے پھر مکمل طور پر اس کی پابندی کی اور خود کو گھروں میں محصور و مقید کر مرض کے نہ بڑھنے میں اپنا بھرپور تعاون پیش کیا۔

اور اس دوران تمام مذاہب کے ماننے والوں نے عبادات و ریاضات اور مذہبی رسم و رواج، شادی بیاہ یا موت و حیات میں جو بھی امور انجام دئے وہ سب حکومت کے اعلان اور جاری کردہ گائیڈ لائن کے مطابق ہی انجام دئے، حتی کہ ہمارا پورا ماہ رمضان المبارک، جس کا اہل ایمان کو پورے سال شدت سے انتظار رہتا ہے وہ اور اس کے بعد عید الفطر اور اب عید الاضحی یوں ہی پھیکے پھیکے انداز میں سایہ فگن ہوتے رہے اور اس موقع پر خوشیوں کی بہار کیا ہوتا ہے؟ کیسے عید مواقع پر بازاروں میں جاکر شاپنگ کی جاتی ہے؟ اور کس طرح عیدین کی آمد پر گھر مکان کو سنورا سجایا جاتا ہے؟ طرح طرح کے پکوان تیار کئے جاتے ہیں، کچھ پتہ نہ لگا اور نہ ہی اس سلسلے میں ہماری طرف سے کوئی حرف شکایت زبان پر لایا بلکہ اپنے پرایوں کے رنج و غم کو بھلا کر جو جہاں تھا وہیں رہ کر خود کو محفوظ و مامون کئے اپنے مالک حقیقی اللہ عز وجل سے اس وبا کے دور ہونے اور پوری انسانیت کو اس سے نجات حاصل ہو، دعا و مناجات کرتا رہا اور صحیح مانیں تو مسلمان آج بھی حکومت کے اعلان و اطلاع کا پابند بنا ہوا ہے اور تا حال مساجد و مدارس کے تعلق سے جو بھی ہدایات وقفہ وقفہ سے جاری کی جا رہی ہیں ان کو گلے سے لگایا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔

جبکہ دوران بندش اور حکومت کے اعلان کردہ تالا بندی کے ایام میں مسلمانوں نے غیر مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کو خوب دیکھا کہ وہ کس انداز سے سرکاری اعلان و فرامین کی دھجیاں بکھیر کر لاک ڈاؤن کی خلاف ورزیاں کر رہے ہیں یا جن علاقوں میں سرکار نے نرمی اور چھوٹ دی وہاں لوگ اپنے طور پر معاملات طے کر خوب آرائش و آسائش کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، مگر مسلمان سراپا صبر و شکر کی مجسم تصویر بنے اس عذاب سے ملک کو نجات دلانے میں خود کو ممد و معاون بنائے رہے، اور مسلمانوں کو ایسا کرتے کرتے آج کا یہ دن (05/اگست) بھی دیکھنے کو مل گیا جہاں تمام اصول و قواعد کو بالائے طاق رکھ کر ریاست یوپی اور مرکزی حکومت کے تمام بڑے لیڈران کی موجودگی اور ایک بڑے مجمع کے ساتھ رام مندر کی بنیاد رکھی گئی اور اس موقع پر ان تمام چیزوں کو یکسر فراموش کر دیا گیا جن سے کورونا وائرس کے پھیلنے کا ڈر و خوف گذشتہ پانچ مہنیوں سے عوام کو سمجھایا جا رہا تھا۔ اس موقع پرستی اور سرکار و انتظامیہ کی تعصب پرستی کو دیکھ کر اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یا تو ہمارے مذہبی قائدین اور راہنماؤں کو کورونا وائرس کے سلسلے کچھ خاص معلومات حاصل نہیں یا پھر ان کو کسی دباؤ اور سختی کا ڈر دکھا کر قوم کو سمجھانے بجھانے میں لگا دیا گیا ہے۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ مذہبی اداروں اور قومی تنظیموں کے سربراہان کی طرف سے مذہبی امور کی ادائیگی میں کسی طرح کی گفت و شنید کی پیش کش انتظامیہ اور اعلیٰ افسران کے سامنے نہیں رکھی گئی اور ان کی عدم دلچسپی کے باعث رمضان المبارک کا پورا مقدس و محترم مہینہ اور عیدین، جن میں اجتماعی نماز و دعا کا اہتمام ہوتا ہے، وہ سب بھی علیحدہ علیحدہ طور پر منائی جاتی رہیں اور چار ماہ سے جس طرح اب تک چپکے چپکے اور خاموشی کے ساتھ مسلمان دینی امور کی انجام دہی اور فرائض کی ادائیگی کرتے آ رہے ہیں وہی صورت حال اب بھی موجود ہے۔

حالانکہ عام شہری ہونے کے ناطے تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کو چاہئے کہ وہ وقفہ وقفہ سے سرکار اور انتظامیہ کی طرف سے جو ہدایات و اطلاعات جاری کی جاتی رہی ہیں ان کا مطالعہ کریں اور اور اگر کہیں کوئی قوم و ملت کے افراد تفریق و تقسیم سے کام لے رہے ہیں تو اس پر ہرگز خاموش نہ بیٹھتے بلکہ اپنے ساتھ اسی قوم و ملت چند مخلص اور حالات شناس افراد کو لے کر سرکار اور انتظامیہ تک اس کی اطلاع کرتے۔ مگر اس چیز کو ہمارے علماء کرام، مذہبی امور کے ماہرین، میدان سیاست کے ناکام و نامراد اور سربراہان قوم و ملت نے حقیقت کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی اور روز اول سے حکومت کی ہاں میں ہاں ملاتے رہے، اس کی طرف سے جاری کردہ ہر اعلان و اپیل پر لبیک کہتے رہے۔ اب "ناطقہ سر بہ گریباں ہے، اسے کیا کہئے”؟ کے مترادف ایک دوسرا کا منھ تک رہے ہیں اور ملت کی کمر پر جو کاری زخم بابری مسجد کی شہادت سے آیا تھا اس زخم میں آج ایک مرتبہ پھر سے درد ہوتا محسوس کر رہے ہیں۔ اور ہمیں تو اس سے بھی آگے کی بات یہ محسوس ہو رہی ہے کہ: حکومت اور مسلمانوں کے دشمن برطانوی جنرل "چارلس ٹاؤنشنڈ” کے اس قول کو سمجھ چکے ہیں جس میں اس نے مسلمانوں کے اتحاد کو منتشر کرنے کی بات کہی ہے تاکہ مسلمان مساجد میں بیٹھ کر کوئی الگ ریاست یا حکمرانی کا دائرہ قائم نہ کر سکیں؛ چنانچہ مذکورہ برطانوی جنرل چارلس ایک جگہ کیا کہتا ہے دیکھئے؛ وہ کہتا ہےکہ:

"ہمیں مسلمانوں کا اتحاد پارہ پارہ کرنے کےلئے ان کی مساجد کو استعمال کرنا ہوگا، کیوں کہ مسلمان اپنی مساجد سے ہمارے خلاف ایک ریاست بنا سکتے ہیں”۔ اب ذرا ملت کے اجتماعی حالات و معاملات پر ایک نظر دوڑائیے اور اندازہ لگائیے کیا گذشتہ ستر سالوں سے حکومتی سطح پر مسلسل ملت کو منتشر کرنے اور اس کے اتحاد کو پارہ پارہ نہیں کیا گیا ہے اور جو کچھ ہمارے پاس بچا تھا یعنی ہمارے دینی مراکز، مدارس اسلامیہ اور مساجد و خانقاہیں کیا ان سب سے ہمارا رشتہ منقطع اور ان سے ربط و ضبط کی تمام راہیں مسدود و محدود نہیں کر دی گئی ہیں موجودہ وقت میں؟ اور اگر اب بھی ہم نے ہوش کے ناخن لینے میں تاخیر کی تو یقین جانئے آج ہمیں جن حالات کا سامنا ہے آنے والے وقت میں اس سے بھی کہیں زیادہ مشکل حالات کا سامنا کرنا ہوگا، اس لئے وقت کی نزاکت اور حکمرانوں کی نیت کو بھانپ کر فیصلے لئے جائیں۔