مدرسة الابرارالاسلامية روتهٹ نے لیاایک اہم فیصلہ

25

مدرسة الابرارالاسلامية روتهٹ نے لیا ایک اہم فیصلہ، ہوگی اب درجہ عربی ششم تک کی تعلیم اور استقبال ہے دورہ حدیث شریف کے طلباء کا بھی

   انوار الحق قاسمی

    کل بروز سنیچر بتاریخ 28/نومبر 2020ء کو ناچیز ابنائے دیوبند واٹس ایپ گروپ میں ایک خوش کن خبر پڑھا:کہ اب "مدرسة الابرارالاسلامية روتهٹ "میں باضابطہ درجہ عربی ششم تک کی تعلیم ہوگی اور درجہ عربی ہفتم ودورہ حدیث شریف کے طلبہ بھی تشریف لاسکتے ہیں ،ان کابھی استقبال ہے۔

   ” مدرسة الابرارالاسلامية روتهٹ "نےجویہ قدم بروقت اٹھایا ہے، وہ بے حد قابل ستائش اور قابل داد ہے،اس کی جتنی بھی تعریفیں کی جائیں بہت ہی کم ہے،اور اس خبر کےقارئین کرام ” مدرسة الابرارالاسلامية روتهٹ "کے جملہ ذمہ داران کی عموما اور حضرت مولانا مفتی محمد رحمت اللہ صاحب قاسمی ثم مدنی اور حضرت مولانا محمد سیف اللہ صاحب مظاہری کی خصوصا خوب حوصلہ افزائی فرمارہے ہیں اور اس ادارہ کےفلاح و بہبود اور نمایاں ترقی کے لیے خوب دعائیں بھی کررہے ہیں ۔

     عام روش یہی ہے کہ ملک نیپال کے طلباء اعلی تعلیم کے حصول کے لیے ہندوستان کے چند مشہور و معروف ادارےمثلا:(۱ )دارالعلوم /دیوبند (۲ )جامعہ مظاہر علوم سہارنپور (۳ )دارالعلوم ندوة العلمالکھنؤ تشریف لے جاتے ہیں، پھر وہاں خوب محنت و جان فشانی کے ساتھ علوم دینیہ حاصل کرتے ہیں اور سند فضیلت حاصل کرکے اپنے وطن "ملک نیپال”لوٹ آتے ہیں ۔

     اوریہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اس وبائی اور مہلک مرض کرونا وائرس سے ایک طرف تو ہرایک فرد انسانی ،تنظیم وادارہ کاایک ناقابل تلافی خسارہ ہوا ہے،جس کاخمیازہ ہرایک کوایک مدت مدیداور عرصہ دراز تک بھگتنا پڑے گا ۔

   تودوسری طرف ملک نیپال کے تشنگان علوم نبویہ کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ ضلع روتهت کا مشهورومعروف اداره ” مدرسة الابرا الاسلامیة ” میں قریب دوره حدیث شریف تک کی تعلیم کا انتظام وانصرام هونے جارہاہے۔

    اب سوال یہ ہے کہ کثرت وسائل وذرائع کے دور میں بھی ملک نیپال میں درس نظامی کا کوئی ایک بھی اداره،ایسانہیںجس میں باضابطہ دورہ حدیث شریف تک کی تعلیم ہوتی ہو ؟۔

       تواس کا جواب یہ ہے کہ ملک نیپال ایک چھوٹا ملک ہے ،یہاں مسلمانوں کی تعداد بھی کوئی اچھی خاصی نہیں ہے، اور جوبھی ہے اس میں بھی دینی علوم حاصل کرنے کا جذبہ نہیں ہے،بس مسلمانوں کی ایک معمولی تعداد ہے،جو علم دین حاصل کرتی ہے۔

    اور پڑوسی ملک ہندوستان ایک بڑا ملک ہے ،وہاں مسلمانوں کی ایک غیر معمولی تعداد ہے،اور وہاں عبقری اور چیدہ علماء کرام کی تعداد بھی کثیر ہیں،نیز یہ کہ وہاں کےادارے بھی مستند اور معیاری ہیں،ان پر مستزاد یہ بارڈر ہروقت مفتوح ہے؛اس لیے ملک نیپال کےطلباء ہندوستان ہی کے کسے ادارے سے فراغت کواپنے لیے مناسب سمجھتےتھے؛مگر اس مہلک بیماری کی وجہ سے بارڈر بھی مقفل ہےاور اب خود ملک نیپال کے ” مدرسة الابرارالاسلامية روتهٹ "میں بھی اعلی تعلیم کاانتظام وانصرام کردیا گیا ہے، تو امید قوی ہےکہ اب نیپالی طلباءملک نیپال ہی کے "مدرسة الابرارالاسلامية روتهٹ”میں اعلی تعلیم حاصل کریں گے- ان شاء اللہ-دیرآید درست آید ۔

   امید غالب ہے کہ یہ ادارہ اپنے مقصد و مرام میں بحسن خوبی کامیاب ہو گا؛کیوں کہ اس ادارہ کے ساتھ اللہ تبارک و تعالٰی کی نصرت وتائید ہے،مع اس کے اسے علماء کرام اور عوام کی بھرپور حمایت بھی حاصل ہے ۔

   دعا کریں کہ خداوند عالم اس ادارہ کودن دونی رات چوگنی ترقیات سے نوازےاورمن جملہ شرورو فتن حفاظت کلی فرمائے آمین ۔