ملک کے موجودہ حالات میں حکمت و تدبر کے ساتھ اقدام کی ضرورت

20

ملک کے موجودہ حالات میں حکمت و تدبر کے ساتھ اقدام کی ضرورت
امار ت شرعیہ کی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں حضرت امیر شریعت مد ظلہ کا پر مغز خطاب
امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کی مجلس عاملہ کی سالانہ میٹنگ آن لائن زوم ایپ پر امیر شریعت مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب مد ظلہ العالی کی صدارت میں آج مورخہ٢٩/ نومبر ٢٠٢٠ء روز اتوار کو دن میں پونے دس بجے سے منعقد ہوئی۔جس میں حضرت امیر شریعت مد ظلہ نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ ملک کے موجودہ حالات انتہائی نا گفتہ بہ ہوتے جا رہے ہیں، اور ایسا محسوس ہو تا ہے کہ آنے والے دنوں میں حالات اس سے زیادہ سخت ہو ں گے، ان حالات کے تدارک کے لیے حکمت و تدبر کے ساتھ حکمت عملی اختیار کی جائے،تاکہ اس ملک میں اقلیتی اور پسماندہ طبقات اپنی ملی و تہذیبی شناخت کے ساتھ زندگی گزا ر سکیں۔ حضرت امیر شریعت نے فرمایا کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی اور سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے نشانے پر صرف یہی اقلیتی طبقات ہیں، اس کے لیے داخلی و خارجی دونوں طرح کے طریقے کار کو اختیار کرنے کی ضرور ت ہے، اس کے لیے ملی تنظیموں اور امن پسند سیکولر جماعتوں کو بھی شریک کار کیا جائے۔ قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے دفتر نظامت کی تفصیلی رپورٹ میں شعبہ جات امارت شرعیہ کی کارکردگی رپورٹ کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امیر شریعت مد ظلہ کی قیادت، سرپرستی اور نگرانی میں ہر شعبہ ترقی کی شاہراہ پر گامز ن ہے، اللہ تعالیٰ حضرت کے مبارک سایے کو تادیر ملت کے سر پر قائم رکھے، اور انہیں صحت و عافیت کے ساتھ درازی عمر عطا فرمائے۔ مجلس عاملہ کی اس میٹنگ میں گذشتہ عاملہ کی تجاویزکے سلسلہ میں ہونے والی عملی پیش رفت پر سبھی ارکان و مدعووین نے اطمینان اور خوشی و مسرت کا اظہار کیا،جملہ شعبہ جات کی رپورٹ پہلے ہی اراکین کو فراہم کر دی گئی تھی، جس کی شرکاء نے تعریف و تحسین کی اور اللہ کا شکر اد اکیا کہ ملت کا یہ کارواں صحیح سمت میں رواں دواں ہے۔اس موقع پر جن ممتاز شخصیات نے داغ مفارقت دے دی ان کے لیے اجتماعی طور دعاء مغفرت کی گئی، مجلس عاملہ کی اس میٹنگ میں بنیادی دینی تعلیم کو عام کرنے، قومی تعلیمی پالیسی کے مضر اثرات اور اس کے تدارک پر غور کیا گیا، نیز سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے ممکنہ خطرات سے بچنے کی صورت اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی گفتگو ہو ئی۔
اجلاس کا آغاز مولانا سہیل احمد ندوی نائب ناظم امار ت شرعیہ کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، تجاویز کی خواندگی نائب ناظم امارت شرعیہ مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نے کی، مولانا مفتی محمد سہراب ندوی صاحب نے گذشتہ عاملہ کی کارروائی پر عملی پیش رفت کی رپورٹ پیش کی، دار القضاء کی رپورٹ مولانا مفتی وصی احمد قاسمی نائب قاضی امار ت شرعیہ نے پیش کی۔ نظامت کے فرائض قائم مقام مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے انجام دیے آخر میں حضرت امیر شریعت مد ظلہ کی دعا پر مجلس کا اختتام ہوا۔
اس میٹنگ میں حضرت امیر شریعت مد ظلہ اورمولانا محمد شبلی القاسمی قائم مقام ناظم امارت شرعیہ اور مذکورہ بالا ذمہ داروں کے علاوہ مولانا مفتی نذر توحید مظاہری، جناب مولانا ابو طالب رحمانی، مولانا محمد شمشاد رحمانی استاذ دارالعلوم وقف دیوبند، جناب ڈاکٹر یسین قاسمی، جناب شہنواز احمد خان صاحب، جناب راغب احسن صاحب ایڈووکیٹ، جناب ایڈ ووکیٹ جاوید اقبال صاحب، جناب ایڈووکیٹ ذاکر بلیغ صاحب، جناب عرفان الحق صاحب راور کیلا،جناب مولانا مطیع الرحمن سلفی مدنی،جناب محمد مظاہر صاحب، جناب مولانا بد ر احمد مجیبی صاحب، جناب عطاء الرحمن صدیقی صاحب، جناب منظو ر عالم صاحب اٹکی، جناب انجینئر ابو رضوان صاحب، جناب مولانا اظہار الحق صاحب کنہواں شمسی، جناب مولانا الحاج محمد عارف رحمانی صاحب، جناب ظفر عبد الرؤف رحمانی صاحب، جناب حاجی نیک محمد صاحب مکھیا،جناب مولانا مفتی سہیل احمد قاسمی صدر مفتی امارت شرعیہ، جناب سمیع الحق صاحب انچارج بیت المال،جناب مولانا مفتی سعید الرحمن قاسمی مفتی امارت شرعیہ، جناب مولانا محمد انور قاسمی صاحب قاضی شریعت رانچی، جناب مولانا سعود عالم قاسمی قاضی شریعت جمشید پور، جناب مولانا زبیر احمد قاسمی قاضی شریعت آسنسول، جناب مولانا محمد ابو الکلام شمسی امارت پبلک اسکول رانچی و گریڈیہہ شریک ہوئے اور زیر بحث ایجنڈے پر قیمتی رائیں دیں۔ میٹنگ میں اتفاق رائے سے درج ذیل تجاویزبھی منظور کی گئیں
۱۔سی اے اے، این آر سی و این پی آر
سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف لاک ڈاؤن کی وجہ سے احتجاجی مظاہرے بند ہو گئے، حکومت کی توجہ بھی کورونا پر مرکو زہو گئی، لیکن پھر یہ جن بوتل سے باہر آچکا ہے اور حال ہی میں وزیر داخلہ امت شاہ اور بی جے پی کے کئی قد آور لیڈروں نے ایک بار پھر سی اے اے اور این آر سی کا راگ چھیڑ دیا ہے، اس لیے نئے سرے سے متحد ہو کر اس لڑائی کو لڑنے کی ضرورت ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ کوئی مضبوط لائحہ عمل بنایا جائے تاکہ اس فتنہ کا مستقل سد باب ہو سکے، اس کام کے لیے درج ذیل اقدام کیے جائیں۔(الف)شہریت سے متعلق تمام کاغذات کی درستگی کا کام جاری رکھا جائے۔(ب) لاک ڈاؤن کے بعد حالات کا جائزہ لے کر حضرت امیر شریعت مد ظلہ العالی کی رہنمائی کے مطابق آگے بھی تحریک جاری رکھی جائے۔ (ج)عام لوگوں سے اپیل کی جائے کہ وقت پڑنے پر مضبوط تحریک کے لیے تیار رہیں۔(ج)سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے مضر اثرات کے بارے میں اقلیتوں، دلتوں، پسماندہ طبقات اور سیاسی سیکولر پارٹیوں کے رہنماؤں کے ذریعہ اس سلسلہ میں بیداری کی تحریک مسلسل جاری رکھی جائے۔ جن سیاسی سیکولر پارٹیوں نے سی اے اے این آر سی و این پی آر کی تحریک میں عملی شرکت کی اور اس آواز کو اٹھایا ان کا شکریہ بھی ادا کیا جائے۔
۲۔ نظام مکاتب
تیزی سے بدلتے ہوئے ملکی حالات میں نئی نسل کو دین پر باقی رکھنے کے لیے مکاتب کے نظام کو فروغ دینا اور اس کو منظم و مؤثر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، اس کے لیے درج ذیل طریقے اپنائے جائیں۔
(الف)دینی مکاتب کے قیام کے سلسلہ میں عوام میں بیداری پیدا کی جائے، اسکے لیے دیگر ذرائع ابلاغ کے ساتھ نقیب، نائب نقیب، ضلع و بلاک کی تنظیم کے ذمہ داران،ارکان شوریٰ و عاملہ، ارباب حل و عقد امارت شرعیہ، قضاۃ کرام، علماء کرام اور ائمہ مساجد سے مدد لی جائے۔(ب)علاقہ کے بڑے مدارس اپنے وسائل کے اعتبار سے اپنے زیر اثر علاقوں میں دینی مکاتب کے نظام کو زیادہ سے زیادہ وسعت دینے کی طرف خصوصی توجہ دیں، اور ممکنہ حد تک اس نظام کو مؤثر و مفید بنانے کے لیے عملی اقدام کریں۔(ج)مکاتب کے نظام کو فروغ دینے میں وسائل کے اعتبار سے امار ت شرعیہ کا تیار کردہ خود کفیل نظام تعلیم کو آبادیوں میں رائج کیا جائے تو مکاتب کے معلمین کی تنخواہ وغیرہ کے سلسلہ میں سہولت پیدا ہو گی، اور اس کام کو آگے بڑھانے میں قلت وسائل کا شکوہ نہیں ہو گا۔
۳۔ قومی تعلیمی پالیسی
حکومت ہند نے اس سال ٢٩/ جولائی کو نئی قومی تعلیمی پالیسی ٢٠٢٠ ءکو کابینہ سے منظور کرایا ہے، اس نئی قومی تعلیمی پالیسی کی تیاری حکومت کئی سالوں سے کر رہی تھی، اس پالیسی کی تشویش ناک بات یہ ہے کہ اس میں اردو کی تعلیم، مدارس کے نظام تعلیم یا اقلیتوں کی تعلیم سے متعلق کوئی واضح رہنمائی یا گائڈ لائن موجو دنہیں ہے، ساتھ ہی نصاب کی تبدیلی اور بھارتی تہذیب و ثقافت اور قدیم سناتنی روایات کو نصاب میں لازمی طور پر شامل کرنے کی بات بار بار کہی گئی ہے، جس سے یہ خدشہ پیدا ہو تا ہے کہ حکومت کی کوشش ہے کہ وہ ایک خاص مذہب کے اعمال و عقائد کو زبردستی پورے ملک پر تھوپنا چاہتی ہے۔اس کے تدارک کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات کیے جانے چاہئیں۔(الف)نئی قومی تعلیمی پالیسی کے مضر اثرات سے عوام و خواص کو واقف کرایا جائے۔(ب)ریاستی اور مرکزی حکومت کے متعلقہ وزراء سے ملاقات کر کے نئی قومی تعلیمی پالیسی میں اردو اور عربی زبان، مدارس کی تعلیم اور ان مسلم اہم شخصیات کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا جائے جنہوں نے اس ملک کی تعمیر وترقی میں اہم رول ادا کیا ہے۔(ج)ملک میں آباد دیگر مذہبی اقلیت کے رہنماؤں اور ملی تنظیموں کے ذمہ داروں کا ایک اعلیٰ سطحی وفد ریاستی و مرکزی وزیر تعلیم سے مل کر نئی تعلیمی پالیسی میں ایسے اضافہ کی تجویز رکھے، جس سے دستور میں دی گئی اقلیتوں کی تعلیمی آزادی کی حفاظت ہو سکے۔
۴۔ قیام دار القضاء
امارت شرعیہ کے شعبہ جات میں دارا لقضاء ایک اہم شعبہ ہے۔حضرت امیر شریعت مد ظلہ العالی کی اس شعبہ پر خاص توجہ ہے، اسی وجہ سے قلیل عرصے میں کئی مقامات پر نئے دار القضاء قائم ہوئے، کئی اور مقامات پر دار القضاء کے قیام کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں یہ تجویز منظورہوئی کہ جیسے ہی ملکی حالات معمول پر آجائیں، حضرت امیر شریعت کی اجازت سے ترجیحی بنیاد پرنئے دار القضاء کے قیام کی کارروائی مکمل کر لی جائے۔
۵۔ استحکام بیت المال
امارت شرعیہ کے کاموں کی وسعت اور اس کے ذریعہ چلائے جارہے سارے نظام کے استحکام و بقاء کے لیے بیت المال کے مالیاتی نظام کو مضبوط رکھنا انتہائی ضروری ہے، لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملک میں جو معاشی کساد بازاری آئی ہے، اور جس کے مستقبل قریب میں ختم ہونے کی کوئی توقع بھی نہیں ہے، اس کا اثر بھی بیت المال پر یقینا پڑے گا، ایسے حالات میں امارت شرعیہ کے ارکان عاملہ کی توجہ سے اس پریشانی پر قابو پا یا جا سکتا ہے،اس طرف ارکان عاملہ خصوصی توجہ دیں۔