مسلمان ناکامیوں کے اندھیرے سے کیسے نکل سکتے ہیں؟

32

مسلمانوں کو تدبیر اختیار کر نے کا اور طاقت کے حصول کابہت واضح حکم قرآن میں دیا گیا ہے۔واعدو لھم ما استطعتم من قوۃ و من رباط الخیل :سورۃ الانفال:آیت:۶۰ ۔(اور تیاری کرو ان (دشمن)سے مقابلے کے لئے جس قدر ممکن ہو سکے تم سے ،طاقت و قوت اور پلے ہوئے گھوڑے سے ،تاکہ اس سے دھاک ڈالو اللہ کے دشمنوں پر اور اپنے دشمنوں پر)۔
قدیم زمانے میں میدان جنگ میں گھوڑے استعمال کئے جاتے تھے،دور جدید میں گھوڑے(Hourse)کی جگہ ہارس پاور نے لے لی ہے،دنیا میں جدید علوم اور ٹکنالوجی کے بغیر نہ اپنے ملک کا دفاع کیا جاسکتا ہے اور نہ دشمن کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے،قرآن میں پلے ہوئے گھوڑے اور قوت کے حصول کا حکم دیاگیا ہےتاکہ اللہ کے دشمن تمہاری طاقت سے خوف زدہ ہوجائیں۔
موجودہ زمانے کے لخا ظ سے قرآن کے اس حکم کا مطلب یہ ہوگا کہ مسلمان وقت کی سائنسی قوت کو حاصل کریں او راس میں دوسروں سے آگے ہوں ،تاکہ کوئی دشمن ان پر حملہ کرنے کی جرأت نہ کرسکے۔آج اس قرآنی حکم سے غفلت کا انجام سامنے آگیا ہے،افغانستان کی تباہی،عراق کی بربادی،قبلۂ اول اور فلسطین کا دوسروں کے قبضہ میں چلے جانے کا عظیم سانحہ،ہماری اس غفلت شعاری کم سوادی کی وجہ سے پیش آیا ہے،دنیا میں علمی لحاظ سے پسماندہ ،قعر مذلت میں افتادہ مسلمان سے بڑھ کر اور کوئی قوم نہیں ،جو کبھی خسروئے اقلیم علم و ہنر تھے،وہ آج گدائے بے نوا بن گئے ہیں ،جن کے دبدبۂ سلطانی سے پہلے وقت کے بڑے بڑے ملوک و سلاطین کانپ جاتے تھےاور آج وقت کے طاقتور حکمرانوں سے خوفزدہ ہیں، اور تخت حکومت کی خیر منا رہے ہیں۔عزت،طاقت،سطوت سب ماضی کی داستان پارینہ بن گئی ہے۔

بقول شاعر

ہم بھی اب بھول گئے نام ہمارا کیا تھا
پوچھ کر گردش دوراں سے بتادے ہم کو

عروس البلاد بغداد جو اب امریکی غارت گری کے نتیجے میں کھنڈر میں تبدیل ہوچکا ہے،عباسی حکومت کے زمانے میں تمام علوم کا مرکزتھا۔بیت الحکمت وہیں قائم ہوا تھا،دنیا بھر کی کتابوں کے ترجمے ہوئے تھے،یورپ اس وقت جہالت کی تاریکی میں سر گشتہ ودرماندہ تھا،صلیبی جنگوں کے ذریعہ اور اندلس کے دانش گاہوں کے ذریعہ اس نے مسلمانوں سے علم و صنعت میں دستگاہ حاصل کی تھی،چودھویں صدی میں یورپ کی نشا ٔۃ ثانیہ اسی سے شروع ہوئی ،مسلمانوں کے علوم و فنون یورپ منتقل ہوئے۔لاطینی اور یورپ کی زبانیں مسلمانوں کے علوم و فنون سے مالا مال ہوگئیں ،مسلمانوں کے علم و ہنر سیکھ کر تحقیق و جستجو اور ایجادات وانکشافات کے میدان میں یورپ آگے بڑھتا رہا اور مسلمان خواب خرگوش میں مبتلا ہوگئے۔
بڑے شوق سے سن رہا تھا زمانہ
ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے
یہی مغربی قوم کے عرو ج اور استعمار کا نقطۂ آغاز ہے، جس کی انتہا مسلم اور عرب ملکوں کی تباہی کی شکل میں سامنے آئی ہے۔ حالات کی تبدیلی اب صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ مسلمان اپنا علمی سفر دوبارہ شروع کریں، ان کیں ذوق و تجسس پیدا ہو۔

تحقیق کا شوق ہو، وہ صاحب ایجاد بنیں ۔سائنس اور ٹکنالوجی کی ترقی کے قافلے کے ہم رکاب بنیں۔جو اس عالم ایجاد میں صاحب ایجاد ہوتا ہے ،زمانہ اس کا طواف کرتا ہے،مسلمان سائنس کے میدان میں نئے نظریات پیش کریں اور اس کو ثابت کریں۔نوبل پرائز حاصل کرنے والوں میں ان کا نام سب سے زیادہ ہو ۔چاند کی تسخیر کرنے والوں اور ستاروں پر کمند ڈالنے والوں اور سورج کی شعاعوں کو گرفتار کرنے والوں میں ان کا شمار بھی ہو،دور جدید اطلاعاتی انقلاب (Information revolution)کا دور ہے۔علوم وفنون کا خزانہ اور پورا کاپوراکتب خانہ سی ڈی کی مٹھی میں بند ہوچکا ہے۔علم و آگاہی کے اس انقلاب سے جو فائدہ نہیں اٹھائیں گے اور کاروان علم کا ساتھ نہ دیں گے وہ گرد کارواں بھی نہیں رہیں گے۔
جب تک نہ زندگی کے حقائق پہ ہو نظر
تیرازجاج ہو نہ سکے گا حریف سنگ
جدید علوم دور جدید کا ہتھیار ہیں،جدید علوم میں مہارت اسلام اور مسلمانوں کی سر بلندی کے لئے ہونی چاہئے نہ کہ دولت سے اپنی جھولی کو بھرنے کے لئے۔مغربی زبانوں کا سیکھنا جدید علوم کے حصول کے لئے ہونا چاہئے ،نہ کہ تہذیب کو اختیار کر نے کے لئے۔جو خدا ورسول اور دین اسلام کے دشمن ہیں اور انہوں نے دشمنی پر کمر باندھ رکھی ہے اور برابر جارحیت کا ارتکاب کرتے ہیں ،تو پھر پوری طاقت کے ساتھ ان کے مقابلے کا حکم بھی دیاگیا ہے۔اس لئے علم کا دائرہ بھاری صنعتوں اور اسلحہ کے کارخانوں تک وسیع کیا گیا ہے۔قرآن میں اسلحہ سازی کا حکم دیا گیا ہے۔۔۔واعدوا لھم مااستطعتم ۔۔اور دوسری جگہ جہاد کا حکم ہے،۔۔جاھدالکفار والمنافقین واغلظ علیھم ۔۔واعدو لھم۔۔والی آیت میں جنگی تیاریوں کا واضح حکم موجود ہے،اس کا مطلب یہ نہیں کہ بس جو کچھ تم سے آسانی سے ہو سکےکرلو،اس کے آگے کے الفاظ ہیں ۔۔ترھبون بہ عدواللہ و عدوکم ۔۔یہ الفاظ جنگی تیاریوں کی مقدار و معیار کو متعین کرنے والے ہیں ،مذکورہ آیات کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو اتنا کمزور نہیں ہونا چاہئے کہ دشمن ان پر حملہ آور ہونے کی جرأت کرسکے اور ان کو نرم چارہ سمجھ لے اور حملہ آور ہو تو مسلمان اپنا دفاع بھی نہ کر سکیں۔مسلمانوں کو ضعیف اور کمزور ہونے کے بجائے علم و ہنر اور ہتھیار سے اور ہر اعتبار سے طاقتور ہونا چاہئے۔

اقبال کا شعر ہے۔

ہوحلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق وباطل ہوتو فولاد ہے مؤمن
اگر حق وباطل کا معرکہ در پیش ہو ،جیسے افغانستان میں درپیش تھا،عراق میں در پیش تھا،فلسطین میں در پیش ہے تو مؤمن کو فولاد ہونا چاہئے۔عصر جدید کی تاریخ میں مسلمان ہر جگہ شکست سے دوچار ہیں ۔اس لئے کہ سیرت فولاد نہیں ہے،فولاد کے بنے ہوئے اسلحہ نہیں ہیں ،فولاد کی اہمیت بھی نہیں معلوم ہے،حالانکہ اللہ تعالی نے آیت نازل فرمائی جس سے فولاد کی اہمیت معلوم ہوتی ہے ۔
۔۔وانزلنا الحدید فیہ باس شدید۔۔مسلم ملکوں کےپاس اسلحہ سازی کے کارخانے نہیں ہیں ،وقت اور زمانہ کے معیار کے مطابق اسلحہ سازی کے لئے سائنس اور ٹکنالوجی کی جو قوت درکار ہے وہ بھی مفقود ہے ۔حالانکہ اس ہتھیاروں کے رکھنے کا حکم ہے۔

جو دوسروں کو مرعوب کرنے اور اپنے وجود کی سلامتی کے لئے ضروری ہیں ۔اس کے علاوہ دنیا کی محبت غالب آچکی ہے، شہادت کی تمنا دلوں سے رخصت ہو چکی ہے،اسلاف کا جذب دروں نہیں ہے،اقبال نے کہاتھا۔
شہادت ہے مطلوب و مقصود مؤمن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
اقبال نے مؤمن کو قہاری و غفاری اور قدوسی و جبروت اس چاروں عناصر کے امتزاج کا حامل بتایا ہے۔یہ چاروں اللہ کے اسمائے حسنی میں سے ہیں۔
قہاری و غفاری و قدوسی وجبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان
آج دنیا کے مسلمان مصیبتوں کے سیلاب میں گھر گئے ہیں ،سیلاب کا رخ موڑنےکےلئے علم کا حصول ضروری ہے،اور اسی مطابق قوم کی فکری تربیت کریں اور اگر یہ جامع نظریہ قابل قبول نہیں ہوگا ،توانہیں پھر عالمی پیمانہ پر مسلمانوں کی شکست و ریخت اور بربادی پر بھی قانع ہونا پڑے گا اور پھر دنیوی طاقت کارولر انہیںکچل دےگا۔