دو "سچے” دشمن

27

سچ بولنے والا دشمن، دشمن ہی رہتا ہے،تاہم وہ مدھر بول بولنے والے فریبی دوست نما دشمن سے بہتر ہے.. کل دو کھلے اور کھرے دشمنوں کا سامنا ہوا.. ایک کا ٹی وی پر دوسرے کا اخبار کے صفحے پر… میں آپ کا تجسس نہیں بڑھانا چاہتا.. مجھے اپنی ٹی آر پی نہیں بڑھانی… ایک مہاشے ہیں ڈاکٹر سبرامنیم سوامی، دوسرے ہیں شری گووند آچاریہ جی..

کڑوی سچائی مجھے بھی پریشان کرتی ہے لیکن، تھوڑی دیر بعد جب ذہن حقیقت پسند ہونے لگتا ہے اور جذبات مدھم پڑنے لگتے ہیں تو، پھر سچائی اتنی کڑوی نہیں رہ جاتی.. کل گووند آچاریہ جی نے کیا پتے کی بات کہی کہ: ہم نے سوشلزم اور سیکولزم کا خاتمہ کردیا ہے اور اب صرف ہندوتوا ہی ایک رو اور رجحان رہ گیا ہے… کل ہی پریانیکا اور راہل جی نے مندر کی تعمیر کو خوش آمدید کہا ہے.. اور کانگریس کے ترجمان شری سرجے والا جی نے بھی مندر کی تعمیر پر خوشی کا اظہار کیا ہے..گووند جی کی بات کی سچائی پر اس سے بڑی دلیل کوئی کیا مانگ سکتا ہے.. سیکولزم کے علمبرداروں کی ہندوتوا کو اس سے بڑی سلامی کیا ملے گی.. شری گووند جی بڑے صاف گو ہیں اور مدلل بات کرتے ہیں.. بس ایک ایشو پر ان کی زبان تھوڑی لرزتی تھی وہ تھا کماری اوما بھارتی جی سے ان کے معاشقے کا موضوع.. پھر وقت ان موضوعات پر خاک ڈال گیا.. گووند جی کو بھارتیہ جنتا پارٹی میں وہی حیثیت حاصل تھی جو کانگریس میں آنجہانی شری پی شیو شنکر جی کو حاصل تھی. یہ ان وقتوں کی بات ہے جب دونوں پارٹیوں میں کچھ پڑھے لکھے اور وضعدار لوگ بھی ہوا کرتے تھے.. اس وقت دیو کانت بروا جیسے لیڈر اندرا از انڈیا اور انڈیا از اندرا جیسا نعرہ لگاکر اپنی سیاسی اوقات کی حد سے لگ چکے تھے اور دوسری طرف ہر ہر مودی، گھر گھر مودی والی ایجاد گندہ والوں نے ابھی آنکھیں نہیں کھولی تھیں.. یہ دیو کانت بروا وہی مہاشے ہیں جن کو پارلیمنٹ میں آنجہانی سابق وزیراعظم چندر شیکھر جی نے کہا تھا کہ بیٹھ جاؤ، جس لیڈر کی جوتیوں میں بیٹھتے ہو اس کو کانگریس میں پارٹی کے اندرونی انتخاب میں ہرا چکا ہوں…

دوسرے سبرامنیم جی پڑھے لکھے لیکن بڑے دریدہ دہن ہیں.. لیکن سچ بولتے ہیں اور لاگ لپٹ نہیں رکھتے.. انھوں کچھ دن پہلے کہا تھا کہ یہاں اکانومی کا کسی کو کچھ اتہ پتہ ہے نہیں،، ہاں منموہن سنگھ ایک آدمی ہیں جو اکانومی جانتے ہیں.. اب کل تو ان کی بات کمال کی تھی کہ : مودی جی رام مندر کا شیلا یاس کیوں رکھ رہے ہیں؟ رام مندر کے لئے ان کا کردار نہیں، انھوں نے کیا کیا ہے.. رام مندر کے لئے آنجہانی سابق وزیراعظم راجیو گاندھی اور آنجہانی سابق وزیر اعظم نرسمہا راؤ کے کردار کی تعریف کی جانی چاہئے اور اس کا برملا اعتراف کیا جانا چاہیے… جب اشوک سنگھل کی اگوائی میں راجیو گاندھی سے رام مندر کی تعمیر کا مطالبہ کیا گیا تو انھوں نے ہی تحریک چلانے اور عوامی مطالبے کا رنگ دینے کا مشورہ دیا تھا.. اس کے بعد ہی کوئی مدد کرنے کا وعدہ کیا تھا…جمہوریت میں کچھ حاصل کرنے کا یہی واحد طریقہ ہے… چنانچہ ویسا ہی کیا گیا اور ایک طویل جدوجہد میں مودی کہیں نہیں تھے لیکن اڈوانی، جوشی تھے…. یہ سوامی جی کی بات ہے..

گووند اچاریہ جی کی بات کوئی دعوی محتاج دلیل نہیں واقعہ بن چکا ہے، جس کی توثیق ہوچکی ہے،، سوامی جی کی بات، ہندوستان کی معاصر سیاسی تاریخ کے ہزار صفحات پڑھ کر بھی آسانی سے نہیں حاصل کی جاسکتی تھی جو انھوں نے چند جملوں میں سمیٹ کر رکھ دی…
شکریہ میرے سچے دشمنو! میرے ارزاں فروش گراں خرید دوستوں کی آنکھ کھولنے کے لئے.