اورجواحسان ہےتیرے رب کاسوبیان کر،مفتی ہمایوں اقبال ندوی

29

ارریہ (توصیف عالم مصوریہ)
مسلمانوں سے اس کا خدا ناراض ہے، ملوں کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے،ان کے اللہ نے انکی چھٹی کردی ہے،ان کی اب کوئی مدد نہیں ہونے والی ہے،ان جیسے الفاظ کے ساتھ شوشل میڈیا پرکچھ غیرمسلم نمودار ہورہے ہیں۔اسی سے دلبرداشتہ ہوکر بہت سے احباب یہ پوچھ رہے ہیں اس کا کیا جواب ہو سکتا ہے،ناچیز نے سورة الضحى کی تلاوت کی گذارش کی ہے،اور آخری آیت میں جو فرمان خداوندی ہے کہ "اور جواحسان ہے تیرے رب کا سو بیان کر "کو بطور جواب کے پیش کیا ہے۔اس سورت کی شان نزول بھی یہی ہے،اوراس کا مضمون بھی یہی کہتا ہےکہ ،چودہ سو سال قبل آقائے نامدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی سرزمین مکہ میں یہی کہاگیا ہے،جوآج وطن عزیز میں مسلمانوں سے کہا جارہا ہے کہ:”محمد کو اس کے رب نے رخصت کردیا ہے”اس پر قرآن کریم کی یہ مکمل سورت نازل ہوئی،ملاحظہ فرمائیں:”قسم دھوپ چڑھتے وقت کی اور رات کی جب چھا جائے،نہ رخصت کردیا تجھ کو تیرے رب نے اور نہ بیزار ہوا،اور البتہ پچھلی بہتر ہے تجھ کو پہلی سے،اور آگے دیگا تجھ کو تیرا رب پھرتو راضی ہوگا،بھلا نہیں پایا تجھ کو بھٹکتا پھر راہ سجھائی،اور پایا تجھ کو مفلس پھر بے پروا کردیا،سو جو یتیم ہو اس کو مت دبا،اور جو مانگتا ہو اس کو مت جھڑک،اور جو احسان ہے تیرے رب کا سو بیان کر،(سورة الضحى )
قرآن کریم کی اس سورت کی ابتدا ہی میں یہ واضح کیا گیاہے کہ،دشمنان اسلام کےسب خیالات غلط ہیں،سورج کی دھوپ کے بعد رات کی تاریکی کا آنا اللہ کی خفگی اور ناراضگی کی دلیل نہیں،بالکل اسی طرح حالات یکساں نہیں ہوتے وہ تو بدلتے رہتے ہیں،آپ کا رب نہ ناراض ہے اور نہ بیزار ہے،بلکہ اب آنے والے دنوں میں مزید اسلام ومسلمان کا بھلا ہونے والا ہے،اور خدا کی بے پناہ انعامات کی بارش ہونے والی ہے،اس کی سب سے بڑی دلیل خود آپ کی زندگی میں ملتی ہے،اوردرجہ بدرجہ آپ کی ترقی سے دی جاسکتی ہے،آپ تو ایک یتیم تھے،خدا نے کس طرح خودکفیل کیاہے،پوری انسانیت کے لئے دستور العمل سے نواز دیاہے،حالت فقر واحتیاج کو استغنا سے تبدیل کردیاہے،اب آپ کا یہ کام ہے کہ یتیموں کے حق وحقوق کے لئے کوشاں رہیئے،اور محتاجوں کے لئے نرم خوئی کا معاملہ کیجئے،اور خدا کے احسانات کو عام کیجئے۔
مفسرین نے یہیں سے لفظ حدیث کو اخذ کیا ہے،جو خدا کی تمام نعمتوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے،قرآن کریم کو سمجھنے اور سمجھانے کے لئے بھی حدیث ہے،اسلامی تعلیمات کا ذخیرہ بھی حدیث ہے،دعوت و تبلیغ کے کارنامے کو انجام دینے کے لئے بھی حدیث ہے،اور مشکل ترین حالات کو سازگار اور موافق بنانے کے لئے حدیث ہے ۔
قرآن وحدیث کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہم اللہ کی سب سے بڑی نعمت قرآن وحدیث کی تعلیمات کو پیش کرکے ہی ان تمام بیہودہ سوالات اور بکواس کا جواب دے سکتے ہیں، اور امت محمدیہ ہونے کی بین دلیل بھی پیش کرسکتے ہیں،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعوت کو آج ہر زبان میں پیش کرنے کی ضرورت ہے،ہمارا اسلوب جارحانہ نہیں ہونا چاہئے بلکہ داعیانہ ہو۔اہل قلم وزبان کے لئے یہ وقت بہت نازک ہےاور قیمتی بھی ہے۔قرآنی تعلیمات اور احادیث شریفہ کی مدد سے ہر سوال کا مثبت جواب دیا جاسکتا ہے،یہ کتاب قیامت تک کے لئے رہنمائی کرتی ہے اور تمام مسائل کا حل اسمیں موجود ہے،اے کاش ہم اس سے مستفید ہونے اور کرنے کے لئے کمر بستہ ہو جاتے!!!!