بابری مسجد کو فراموش مت کیجیے گا

41

آج بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کی تعمیر کا سنگ بنیاد ہے، بھومی پوجن کے نام پر بھارت کا متعصب وزیراعظم مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہو رہا ہے۔ گذشتہ چند سالوں میں ہمیں احساس ہوا ہے کہ جب کوئی فرقہ پرست طاقت برسر اقتدار آتی ہے تو ملک سے انصاف کا جنازہ اٹھ جاتا ہے، ہمیں یقین ہے کہ سپریم کورٹ نے محض ایک فیصلہ سنایا ہے لیکن اس ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے ساتھ انصاف نہیں ہوسکا، انصاف ہوتا بھی کیسے :

اسی کا شہر وہی مدعی وہی منصف
ہمیں یقیں تھا ہمارا قصور نکلے گا

مسجد اللہ کا گھر ہے، جب اس کے بندوں کے بازؤں کا زور ختم ہوجاتا ہے تو پھر وہ اپنے زور کا مظاہرہ کرتا ہے۔ دیکھیے کہ 1992ء کو جن شر پسند دہشت گردوں نے بابری مسجد کو شہید کیا تھا، ان میں سے کچھ لوگ تائب ہوکر مسلمان ہوگئے، باقی جو رہ گئے ان میں سے ایک ایک کو اللہ نے دنیا میں ہی دردناک سزاؤں سے روبرو کردیا، کوئی پاگل ہوکر دربدر کی ٹھوکریں کھانے لگا، کسی کا دیوالیہ نکل گیا، کوئی مہلک بیماری کا شکار ہوکر کتوں کی موت مرا۔

آج اگر بابری مسجد کی پاک سرزمین کو بت پرستی کا اڈہ بنایا جارہا ہے تو ہمیں یہ بھی یقین ہے وہ دور بھی آکر رہے گا، جب اسی جگہ پر بابری مسجد کی شاندار تعمیر عمل میں آئے گی، خدا کے سامنے سجدہ ریز ہونے والوں کی جبین ناز پھر اس زمین کو بوسہ لے گی اور پھر وہاں سے توحید و رسالت کی صدائیں بلند ہوں گی۔ ابھی حال ہی کی بات ہے.

مثال ہمارے سامنے ہے، برسہا برس سے مسلمانوں کی مقبوضہ مسجد آیا صوفیہ کو اپنی شان و شوکت کے ساتھ دوبارہ آزادی ملی، اسلام کے چاہنے والوں نے اس مسجد کو آباد کرکے دنیا کو یہ بتادیا کہ اسلام کے ماننے والے اپنے اصول سے سمجھوتہ نہیں کرتے۔ ہمیں اب صرف اتنا کرنا ہے کہ بابری مسجد کی شہادت ہماری نسلوں کی نسلوں تک کے لیے ان کی زندگی کا سب سے تکلیف دہ واقعہ بن کر ان کے ساتھ رہے، بابری مسجد کی تاریخ ہمارے تعلیمی نصاب کا سب سے اہم باب ہو، بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کی تعمیر ہمارے تمام زخموں سے بڑا زخم بن کر ہمیشہ رستا رہے تبھی جاکر ہم اپنے ماضی کو مستقبل میں آباد کرسکتے ہیں۔