‌مندر ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق ایک اپار پوترتا اور پوچن کا پرتیک ہے.. ہندوستان میں جتنی مندریں ہیں کوئی مندر ایسا نہیں جس کی تاریخ پر کبھی کوئی انگلی اٹھی ہو، کسی مٹھ دوارکا دھام پر یہ الزام نہیں کہ وہ کسی کا دل دکھا کر، یا کسی سے زور زبردستی، دھونس دھاندلی اور قانون کی لٹھ ماری سے ہتھیائی گئی ہو.. کیوں کہ پچاری بھلے مانس تھے، ان کے دل کومل تھے، ان کی آستھا بھگون آستھا تھی، وہ منش کو بھگوان کا اوتار مانتے تھے..

وہ مانوتا کو ایشور کا دوسرا روپ سروپ مانتے تھے، لیکن یگ بدلا تو پچاری بھی بدلے.. نئے پچاریوں کو شیش رمن اور پوچن سے کوئی سروکار نہیں.. کل یگیہ کے یہ نئے پچاری مندر کے سنہری کلسوں پر بیٹھ کر رام نام جپ کر راون کا رقص دیکھنے کی لالسا میں ہیں..

ان کو یہ خیال بھی نہیں کہ جس مندر کی نیو میں بے ایمانی کی اینٹ ہو.. جس کے در ہزاروں بے گناہوں کے خون ناحق سے آلودہ ہوں.. وہ مندر کنکریٹ کا پہاڑ تو ہوسکتا ہے مندر کیسے ہوسکتا ہے..؟ رام جی تو وشنو کے اوتار تھے، انھوں نے راج گھرانے میں آنکھ کھولی.. سنسار ان کے قدموں میں آیا، انھوں نے کون سا مندر بنایا..؟ اشوکا سے منسوب کون سی پوجا استھلی ہے اور کہاں ہے؟ مندر شروع سے پچاریوں کے پاکھنڈ کے پاتر رہے ہیں اور آج بھی ہیں..

مندروں کی کوئی تاریخ نہیں ہوتی.. کیونکہ یہ تاریخی دستاویز کی چیز نہیں..
یہ تو تری مورتی اور ان کے اتاروں میں آستھا، وشواش رکھنے والے منیوں اور شری منیوں کی صدیوں سے پوچا پاٹھ کرتے چلے آئے، سنسار کے مایا جال سے دور دور رہنے والے لوگوں کی چنی ہوئی جگہیں ہیں، جہاں وہ آتما کی شانتی کا بان کرتے تھے اور بس..

دھیرے دھیرے لوگ، وہاں جانے لگے، بھیڑ بڑھی تو استھان بن گئے… ایودھیا کا رام مندر ایک انوکھا مندر ہوگا جس کو وہ پاکھنڈی راج نیتا بنوا رہے ہیں جو اسی کے سہارے راج سنگھاسن تک پہونچے ہیں اور اب اسی کی مدد سے آگے بھی راج بل حاصل کرنا چاہتے ہیں..

‌اج دنیا بدل چکی ہے، کل اور بدل جائے گی.. مندر کے سہارے راج مل جاتا ہے راج کاج چلتا نہیں.. یہ ایک نکتہ میرے ہموطنوں کو مل جائے تو بس ہے.. مندر ہے تو، نہیں ہے تو بھی زندگی رہے گی، اور زندگی کی بہتری کی طلب رہے گی.. جو حاصل کرنے کے لئے وہی کچھ کرنا پڑے گا جو ساری دنیا کرتی ہے.. یعنی مثبت سیاست، تعلیم و صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی، معیشت کا استحکام اور امن وامان کے ساتھ سماج میں یکجہتی اور یگانگت کا فروغ..

‌میں دیکھنے لگا ہوں کہ یہ مندر بہت جلد نئے پچاریوں کے لئے شرمندگی کا باعث بنے گا.. اور اپنے آپ میں خود بھی شرمندہ رہے گا.. اور اس استثنائی تاریخ پر کبھی گرو (فخر) نہیں کرسکے گا.. تاریخ میں یہ ایک "شرمندہ مندر” لکھا جائے گا.