سکوت نامسعود! تحریر: خورشید انور ندوی

41

کئی بار سوچا کہ کئی صدی بعد مسلمانوں کو بطور ملک کسی ملک پر فتح نصیب ہوئی ہے.. روز، قیام سحر گاہی اور آنسوؤں سے نم دیدہ شب بیداریوں میں ،اسلام کی نصرت اور مسلمانوں کی سربلندی کی دعاکش امت بے خبر, اس وقت خاموش کیوں ہے؟ جیسے اس بدمست کو اذان کی گونج نے بھی نہیں ہلایا ہو.. واقعی ہم بہت تھوڑے عرصے کے لئے آزاد ہوئے اور پھر نت نئی غلامی کی لمبی زنجیروں میں جکڑ گئے.. ہمارے یہاں رجحان ساز، اور پھر رجحان فروش ادارے، ملک، تنظیمیں اور افراد ہیں جو سر ہلانے کی سمت قیمت لے کر طے کرتے ہیں.. پٹروڈالری توحیدیوں نے تو حد کردی ہے..ہوا سے دھاگہ ہلے تو باد پیما آلہ لے کر بیٹھ جاتے ہیں اور فقہ بدعات کی کتاب فرسودہ میں زائچہ دیکھ دیکھ کر خلق خدا کی پیشانیوں پر حکم انحراف چسپاں کرنے لگتے ہیں، لیکن حرم کے درو دیوار اور حجاز کے منبر ومحراب کا دل خراش نوحہ ان کی گراں سماعتوں سے نہیں ٹکراتا.. عقوبت خانوں کے روزنوں سے ہزار جتن کے باوجود نکل آنے والی دل دوز چینخیں، انھیں بےلذت نہیں کرتیں.. دار پر، ہاتھوں میں قرآن لئے، کھینچ جانے والی عصمت مآب بہنیں ان کو نہیں دکھتیں.. جدھر ہری ادھر چری کا یہ ریوڑ اگر بےاواز تھا، تو کچھ عجب نہیں، لیکن دوسرے بھی انھیں کی طرح لب بست ہیں.. جواز یہ ہے کہ آذربائیجان کی اکثریت شیعہ ہے.. تو آگے سنیوں کو کس خطہ زمین میں سربلندی ملنی ہے،؟ نزول عیسی کا انتظار کریں جب تک زمین دوز رہیں..

 

افغانستان کی جدوجہد پاکستان سے کم ایران کی مرہون نہیں.. طالبان سمیت مجاہدین کی اکثریت تنگ وقتوں میں ایران میں پناہ گزین رہی ہے اور ابھی تک ہے.. افغان ایک غیرت مند، اور اپنی روایتوں پر مرمٹنے والی قوم ہے، وہ ایران کا رول کبھی فراموش نہیں کریں گے.. عربوں کی طوطاچشمی اور امریکہ کی دست نگری، اسرائیل کی چاکری وہ بھولنے والے نہیں.. اس لئے اس تصور خوش کی کوئی وجہ نہیں کہ افغانستان میں سنی جیتنے جارہے ہیں.. ہرات ،ہزارہ تاجک سب میں شیعہ بہت زیادہ ہیں.. اگر اس طرح ہم دیکھیں گے تو فتح کی خوشی نہیں دیکھ پائیں گے.. اپنا آدھا جسم نوچ کر خوش لباسی کس کام کی؟ امت کا تصور دین متین کی تعبیر اول میں پوشیدہ ہے،، جو قرآن و حدیث ہے اور بس.. آذربائیجان کی فتح مسلمان ملک مسلمان قوم کی فتح ہے.. جس میں ایران سے زیادہ ترکی اور پاکستان کی عسکری مدد اور براہ راست انٹیلیجنٹ تعاون شامل تھا.. عرب خواجہ سراؤں کی چودھراہٹ ٹوٹنے کے بعد پہلی بار مسلمانوں نے اپنے بل بوتے پر کسی ملک پر فتح پائی ہے.. دنیا اس جسارت اور دلیری پر ششدر ہے اور ہم شیعہ سنی کی رٹ پر لگ گئے.. جو ہمارے سبھی مسلمان معاشرہ کو گھن کی طرح چاٹ گئی ہے..

 

اسرائیل سے قرب عم زادگی بڑھانا ہو تو، رسول اللہ کی زرہ یاد آجاتی ہے اور آرمینیا پر فتح کا غلغلہ بلند کرنا ہو تو شیعیت کا کابوس پکڑ لیتا ہے.. جو مسجدیں سور کا باڑہ تھیں اب سجدہ گاہ بنی تھیں تو کوئی کلمہ تحسین نہیں سنائی نہیں دے رہا.. امت اگر اس قدر سمٹے گی تو امت ہی کیوں ہو.. جلوس منقبت، اور جلسہ مدح وفضیلت ہی رہے گی..

 

مسلمان عوام الناس کو ناجائز خاندانی خوردہ فروشوں سے خود کو الگ کرنا چاہئے..آذربائیجان کو اس کی فتح مبارک ہو جو ہم سب کی فتح ہے..