تنہائی دلچسپ افسانہ ارشاد عزیز

55

رات جب سارے لوگ خوابِ غفلت میں تھے، اور میں اکیلا اپنے کمرے میں سو رہا تھا، اچانک میرے کمرے میں ایک ستاروں جیسی آنکھیں، گلاب کی پنکھڑی جیسے ہونٹ، ہرنی جیسی چال، دل کو چھو لینے والی ایک حسین و جمیل لڑکی نرم ونفیس انداز میں دبے قدم میرے کمرے میں داخل ہوئی_______میں دھک سے رہ گیا…………،، میں نے کہا آپ کون؟” میں…………. میں ماہرہ اس نے شرمیلے انداز میں کہا،
احمد .. ماہرہ.. احمد.. ماہرہ…. میں سوچ میں پڑگیا۔

پھر ہکلاتے ہوئے میں نے کہا، آپ کو شاید غلط فہمی ہوگئی ہے______ اتنا سنتے ہی اس نے اپنے نرم و نازک ہاتھوں کو میرے منہ پر رکھ دی”
یہ خیال کرتے ہوئے کہ میں ہی اس کا چاہنے والا ہوں” "”
مجھے عجیب طرح کا ڈر لگنے لگا، کمرے میں گُھپ اندھیرا تھا اور اس اندھیرے میں وہ میرا منہ دبائے ہوئے تھی، ___میں نے اس کے ہاتھ کو اپنے منہ سے ہٹانے کیلئے پوری کوشش صرف کردی، پھر جیسے ہی اپنی کوشش میں کامیاب ہوا، اور اس کے ہاتھوں کو اپنے چہرے سے الگ کیا، یک دم اس کی نظر میرے چہرے پر پڑی ….. وہ چونک پڑی اور چیختے ہوئے میرے کمرے سے باہر نکل گئ.. ہائے _______، یہ میں کہاں آگئی _______، اس کے بعد میں اٹھ کر بیٹھ گیا،، میری سانس تیز تیز چلنے لگی………. تھوڑی دیر بعد جب مجھے راحت ملی تو وہ چاند سا مکھڑا میری آنکھوں کے سامنے گردش کرنے لگا، بیک وقت میری زبان سے نکل پڑا……. واہ _______ ،” اتنی خوبصورت اور دلآویز لڑکی…… میں بے حواس ہو کر اس کے تصور میں ایک خوبصورت خوابوں کی دنیا میں سیر کر نے لگا.______ اچانک میرے کمرے میں ہنسنے اور کھلکھلانے کی آواز آئی.. تبھی میں اپنے کمرے سے باہر نکلا. اور اس ہنسی کے تتبع میں احمد کے دروازے تک پہنچ گیا ________. ارے یہ آواز تو احمد کے کمرے سے آرہی تھی میں نے ذرا کان لگایا……..
دروازے میں ایک سوراخ تھا. جس سے بھنبھناہٹ جیسی آواز آرہی تھی. ایسا لگ رہا تھا کوئی کسی کو جھڑک رہا ہے____ میں اس سوراخ سے ان دونوں کو دیکھنے کی کوشش کر نے لگا______،”
کمرے میں عجیب سا سناٹا چھا یا ہوا تھا– ماہرہ۔ بیڈ پر پڑے ہوئے اپنے عاشق. احمد.. ( جن کی عمر تقریباً چھبیس یا ستائیس سال ہوگی ) سے ہم آغوش ہو کر موسم سرما کا لطف لے رہی تھی ______ اور اپنے نرم و نازک ہاتھوں سے اپنے عاشق کے گلے کو ایک زہریلے سانپ کی طرح جکڑے ہوئی تھی _
احمد؛ بھی بکھرے بکھرے روغن دار زلف کی خوشبو سے مدہوش ہو رہا تھا. دونوں ایک دوسرے کے پیار میں گم تھے. کہ ماہرہ کہہ پڑی . جان من ہمیں ہمیشہ ایسے ہی اپنے بانہوں میں رکھنا. ہم سے کبھی دور نہ جانا __
ماہرہ اپنے روٹھے ہوئے عاشق سے کہہ رہی تھی…………… جانِ من! _________ میں نے تمہاری جدائی میں آنسوؤں کے سمندر بہائے ہیں.- دیکھو دیکھو ” ابھی تک میری آنکھیں سوجی ہوئی ہیں، میں نے ایک ایک دن ایک ایک صدی کے گزارے ہیں…
میں گھر میں اکیلے رہ رہ کر تنگ آچکی ہوں-” ایک نظر اٹھا کر تو دیکھو – میری جان! تجھے میری جان کی قسم ____________ اب مجھے تنہا نہیں رہنا” ”
دیکھو” کئی بار میں نے خود کشی کا بھی فیصلہ کر لیا تھا ” یہ کہتی ہوئی ماہرہ آبدیدہ ہو گئ _______”
احمد!… اس کو جھٹکا دیکر کھڑا ہوا. اور غصے سے آنکھ نکالتے ہوئے، پیشانی چڑھاتے ہوئے بولا، یہ کیا تماشا ہے ______” تم جانتی ہو،، میرا عقد کسی سے طے پایا ہے اور بہت جلد ہم دونوں شادی کے بندھن میں بندھ نے والے ہیں….. میں زیادہ دن تک تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتا. نہ میں تمہیں جھوٹی تسلی دے سکتا، اور نہ اپنے والدین کی نافرمانی کر سکتا…. اسلئے بہتر یہی ہے کہ ہم دونوں وقت رہتے ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں، ______” یہ سنتے ہی ماہرہ زاروقطار رونے لگی _______”
احمد کا جواب سن کر میں سکتے میں آگیا __”
اور سوچ میں پڑگیا ______” کہ اتنی خوبصورت حسین و جمیل لڑکی، کاش کہ اگر یہ میرے پاس ہوتی __” تو میں غم کا سایہ بھی اس سے دور رکھتا اور اس کی مخمور آنکھوں میں آنسو کا قطرہ بھی آنے نہ دیتا ____” یہی خیال دل میں لئیے ہوئے اپنے کمرے میں آگیا، اور بستر پر لیٹ گیا، کھبی احمد کی بے رخی یاد آتی، تو کبھی ماہرہ کی آنسوؤں سے بھری آنکھیں………… ”
اسی اضطرابی کیفیت میں بستر پر الٹ پلٹ کر تا” ‘________” کبھی اس کروٹ، کبھی اس کروٹ، کبھی اپنی ٹانگیں کجھاتا، تو کبھی اپنی آنکھوں پر دونوں ہاتھ رکھ کر نیند کی منتیں کرتا ، کبھی کھڑکی کی طرف دیکھتا، تو کبھی دروازے کی طرف، کبھی گھڑی کی سوئی کی آواز سن کر ٹائم دیکھنے کی کوشش کرتا، ___
ارے ہاں "____ موبائل تو میرے سرہانے ہی پڑا تھا، لیکن اٹھانے کی سکت کہاں تھی،… ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی مجھے لینے سے روک رہا ہے ___” عجیب طرح کی حرکتیں ہو رہی تھیں ، یہ اسلئے کہ میں کچھ زیادہ ہی ڈر پوک تھا،…. چھوٹی چھوٹی چیزوں سے ڈر جاتا… کبھی ایسا محسوس ہوتا کہ چیونٹی میرے جسم کو کھائے جا رہی ہے __” پھر اچانک ایک لمبا قد، گھنگریالے بال، کشادہ پیشانی، مونچھوں کے نیچے مسکراتے لب، بڑی بڑی آنکھیں، جن سے ٹپ ٹپ شرارت ٹپک رہی تھی، جب نزدیک آیا تو یوں محسوس ہوا کہ موت کا فرشتہ آرہا ہے، اب میری جان نکال لے گا اور اپنوں سے دور کردے گا ، پھر اس کے بعد سارے لوگ آبدیدہ ہوکر مجھے قبر میں سلا دینگے، پھر سب اپنے دنیا کے کاموں میں مشغول ہو جائینگے __”” اچانک نظر اٹھا کر دیکھا تو وہی ماہرہ ہے ____” جو اپنے عاشق کی یاد میں تڑپتی ہوئی. دھوکے سے میرے کمرے میں آگئی تھی…. نیند ہی میں اپنے بیڈ سے اٹھ کر لائٹ جلانے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ وہ غائب ہو گئی ____”
جب آنکھ کھلی . دیکھا تو کچھ بھی نہیں. سب خواب و خیال ہے. ___” میں اور بے چین ہو گیا.
میرے اندر ایک عجیب سی تبدیلی پیدا ہو گئی. دل میں طرح طرح کے خیالات گردش کرنے لگے. ایک بے پناہ اداسی کی لہر میرے دل پر دستک دینے لگی. سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کروں… رات بھر بستر پر کروٹیں لے تا رہا _______” میرا دل مجھ سے کہنے لگا کوئی نہیں ہے. جس سے تم من کی بات کرو. جاؤ سوجاؤ____” دنیا مصروف ہے اپنے چاہنے والوں کے ساتھ ____________””
رات بھر ورد کرتا رہا کہ شاید نیند آجائے، لیکن اندھیری رات بھی عجیب ہوتی ہے، جیسے ہی آنکھیں بند کر تا، ایسا لگتا کہ کوئی میرے سامنے کھڑا ہے” _________ اور عجیب طرح کی حرکتیں کر رہا ہے” __کبھی لڑکی کی صورت اختیار کر کے اپنے نازک ہاتھوں سے کھنکھناتی ہوئی چوڑیوں کے ساتھ آہستہ آہستہ میرے پاؤں دبا رہی ہے ، اور مجھ سے کہہ رہی ہے کہ میں تو تیرے پاس ہی ہوں، اب تو تنہائی کا احساس نہیں ہوتا "” اسکے ہاتھوں کے مس سے ایسا احساس ہوتا کہ میری تنہائی مجھ سے دور ہو گئی "اور
میرے دل کی دھڑکن جو چولھے پر چڑھے ہوئے چاول کی بھاپ کی مانند پھڑک رہی تھی، اچانک رک جانے کے بعد میں خوابِ خرگوش میں گُم ہو گیا” ____ پھر اپنے ایک ایسے دوست کے بارے میں خواب دیکھنے لگا ( جو تقریباً پانچ ماہ پہلے میرے ساتھ میں تھا، نہیں، نہیں……. اب بھی ہے ) کہ وہ اپنی ہونے والی محترمہ سے ایک منچلے کی طرح محو گفتگو ہے، اور اسے اپنی خوابوں کی ملکہ بناکر کہیں دور__________” لےجانا چاہتا ہے ”

ایک_” دن جب میں اپنی تنہائی کی بابت اسی دوست سے بات کرنا چاہی _”
وہ اچانک کہہ پڑا ” یار تنِ تنہا رہنا سہی نہیں اب تمہیں شادی کر لینی چاہیے ___”
ہاں ____” میں نے ایک گہری سانس لیتے ہوئے کہا …. – ہاں مجھے اب شادی کر لینی چاہیے، اب مجھے کسی کی محبت کی ضرورت ہے، ایسی محبت جو اس خلا کو پر کرسکے، کیونکہ میں عنفوانِ شباب پر بھی تو پہنچ چکا تھا ”

پھر وہ میرے رشتے کی بات کر نے لگا، تو میں نے نہایت ہی تشکرانہ اور شرمیلے انداز میں کہا، بھئ کوئی رشتہ تو لاؤ- جلد ہی اس نے کہا…. ہاں ہاں… کیوں نہیں _________ اب کی چھٹی میں تمہارے رشتہ کی بات کر تا ہوں – پھر ساری وحشت دور ہو جائے گی، اور وہ آئے گی تو زندگی کی تنہائی بھی ختم ہو جائے گی

احمد کے گھر جانے کے بعد تنہائی اور اداسی کا ایسا دورانیہ بڑھ گیا کہ– میں کسی بھی محفل میں ہوتا، کسی بھی قہوہ خانے میں ہوتا، خود کو مکمل طور پر تنہا محسوس کرتا” ________ کبھی راتوں کو بستر پر لیٹے لیٹے رونے لگ جاتا، سمجھ میں نہیں آتا کہ میں کیا کروں” _____ میں تنہائی کے لامحدود سمندر میں اپنے زندہ رہنے کی جگہ تلاش رہا تھا…….. اچانک احمد کا فون آیا – خیرو عافیت کے بعد "__________ رشتے کی بات کرنے لگا، پھر خود ہی کہنے لگا، میری شریکِ حیات کی پھوپھی کی بیٹی ہے” جو بے انتہا خوبصورت ہے. اور آج کل اس کے گھر والے اس کے رشتے کیلئے پریشان ہیں” ____ ایک منٹ رکئیے! _______” میں آپ کو واٹس ایپ پر اس کی تصویر بھیجتا ہوں ___”
تصویر”! رہنے دو _____ مجھے شکل و صورت کی کوئی پرواہ نہیں،……… تم رشتے کی بات کرو. اگر انہیں میری شکل و صورت پر کوئی اعتراض نہ ہو تو میری طرف سے ہاں ہے” __ اتنا کہہ کر فون رکھ دیا _____”
اللہ اللہ خیر صلا” رشتے کی بات تو ہوئی ___”
احمد کے فون کا انتظار کرتے کرتے تقریباً دومہینے کا عرصہ گزر گیا، لیکن اس کے فون کا کوئی اتہ پتہ نہیں……..
جب بھی لگاتا بند …… ایک ہی آواز سنائی دیتی، آپ نے جس نمبر پر فون کیا ہے، وہ آپ کی کال لے نے کیلئے تیار نہیں ہے… میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا،… کس کے لیے؟__________
اسی کیلئے جو میرا جگری دوست تھا "____
کچھ دن پہلے! اسی دوست سے سنا تھا کہ، دوست دو طرح کے ہوتے ہیں،” ایک جگری دوست، اور دوسرا لنگوٹیا دوست "_______
دونوں میں صرف اتنا فرق ہے جتنا لنگوٹ، اور انڈر ویئر میں.. دونوں ہی مشکل وقت میں دوست کی پشت پناہی میں کام آتے ہیں” ____ لیکن لنگوٹیے دوست اچھے بھی ہو تے ہیں اور کمینےبھی- کبھی کبھی حسبِ موقع آپ کے خلاف گواہ بننے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں ” ___ خیر یہ میرے جگری دوست کے الفاظ تھے.. لیکن اب میں اسے کیا سمجھوں؟ "______ جگری. یا لنگوٹیا” ______

رات کا کھانا کھانے کے بعد تقریباً دس بجے چہل قدمی کے لیے گلی کو عبور کر تے ہوئے نو نمبر پارک کی جانب اکیلا سڑک پر جارہا تھا. میرے آگے پیچھے کوئی نہیں تھا "___ اچانک کھٹ،کھٹ، کی آواز سن کر میں چونک پڑا ، تھوڑی دور _____چلنے کے بعد، بلب کی روشنی میں مجھے میرا ہی سایہ نظر آیا، اور یہ کھٹ کھٹ کی آواز بھی میری ہی تھی….
گویا میں اپنے ہی سائے سے کہہ رہا تھا، مجھے اکیلا چھوڑ دو،……

* میرے پاس نہ آؤ صاحب *
* میری تنہائی خفا ہوتی ہے*

! مجھے کسی ہم سفر کی تلاش ہے جو ہمیشہ میرے ساتھ رہے___” پھر میرے کان میں آواز آئی- تیرا ہے کون؟ "_____
یہ سن کر میں خاموش ہو گیا، اور اسی دن سے تنہائی سے محبت کرنے لگا ” _ اور تنہائی کو ہی اپنا جگری دوست سمجھ بیٹھا، اور یہی خیال کرتے ہوئے تنہائی کو اپنا دوست بنا لیا، اور آخرت کا ذکر، قبر کی وحشت، تنہائی، اور اندھیری قبر کی تنہائی کا تصور کرنے لگ