آل انڈیا تنظیم علماءِ حق کی جانب سے اترپردیش کے لئے مفتی شمشاد قاسمی کو صدرنامزد کئے جانے پر دلی مبارکباد

40

رپورٹ مولانا نسیم اخترشاہ قیصر استاذ دارالعلوم وقف دیوبند ملّی تنظیموں اور جماعتوں میں چند ہی ایسی ہیں جنھوں نے کم وقت میں اپنے خدمت کے دیرپا نقوش ثبت کئے ہیں اور جس سمت میں سفر اختیار کیا ہے وہ سفر قابلِ رشک بنا ہے ورنہ ہوتا یہ ہے کہ تنظیمیں تو وجود میں آجاتی ہیں اور انسے ملت کو امیدیں بھی رہتی ہیں مگر یہ چند قدم چل کر راہ چھوڑ بیٹھتی ہیں اور کچھ دنوں کے بعد ایسی گم ہوتی ہیں نہ انکا کوئی نام لیتا اور نہ وہ نظر آتیں،
حضرت مولانا محمد اعجاز عرفی صاحب قاسمی بانی وصدر آل انڈیا تنظیم علماءِ حق، نے اپنے لئے جو میدانِ کار منتخب کئے ان پر انکی نگاہ مرکوز ہے اور تنظیم کے مقاصد کو وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیتے، جہاں تنظیم رفاہی کاموں میں دلچسپی لیتی ہے اور آگے بڑھکر انجام دیتی ہے وہیں تنظیم نے ان علاقوں، ان قصبات اور قریوں میں مکاتب کے قیام کا بیڑا اٹھایا جہاں مسلمان بچے اور بچیوں کو ابتدائی دینی تعلیم کی سہولتیں بھی میسر نہیں تھیں، دوردراز بھی کوئی درسگاہ نہیں تھی جہاں یہ بچے جاتے اور جہاں ابتدائی دینیات و قرآن کریم کے پڑھنے کا انھیں موقع ملتا مولانا نے ایسے علاقوں کا دورہ کیا، پوری بصیرت کے ساتھ جائزہ لیا اور پھر مکاتب کے قیام کا سلسلہ شروع کیا
چناںچہ آج آل انڈیا تتنظم علماءِ حق کے تحت بےشمار علاقوں میں لاتعداد مکاتب ہیں جو تنظیم کے زیرنگرانی اور انتظام کے تحت مصروفِ خدمت ہیں، ان علاقوں کے افراد تک جس کسی کی رسائی ہے انکے ذریعہ سے یہ بات وثوق کے ساتھ پہنچتی ہے کہ ان مکاتب کا وجود ان علاقوں کے لئے ایک نعمت عظمی کا درجہ رکھتا ہے۔
دوسرا کام ،مولانا محمد اعجاز عرفی صاحب قاسمی نے یہ کیا کہ اکابر کی اور دورِحاضر کے نامور لوگوں کی ان مطبوعات کی اشاعت کا آغاز کیا جن کے ذریعہ مسلمانوں کی ذہنی و فکری آبیاری کا کام انجام دیا جاتا اور انکی خاطر خواہ دینی معلومات پہنچائی جاتیں، چناںچہ (تنظیم علمائے حق )نے اس طرح کا لٹریچر شائع کرکے سال بہ سال مفت تقسیم کرنے کا کام جاری رکھا ہوا ہے مختلف سینٹرز قائم کئے ہیں جہاں سے یہ کتابیں ضرورت مند لوگوں کو پہنچائی جاتی ہیں اور جہاں جتنی تعداد میں ضرورت ہوتی ہے اشاعت کے ذریعہ وہاں کے مطالبے اور ضرورت کو پورا کیا جاتا ہے۔
تیسرا کام جس سے مولانا کی ذہنی و فکری صداقت و توانائی کا اندازہ ہوتا ہے وہ اکابرِ دیوبند پر انجام دیا جانے والا کام ہے مولانا کے دو پرچے سہ ماہی ‘حسن تدبیر’ اور پندرہ روزہ ‘فکر انقلاب’ تنظیم کے ترجمان کی حیثیت سے شائع ہوتے ہیں جو انکی اور انکے فرزندان کی محنتِ شاقّہ کا ثبوت ہیں،
ان دونوں پرچوں کے اکابر پر کئی وقیع نمبرات منظر عام پر آکر اہلِ کمال سے خراجِ تحسین حاصل کرچکے ہیں، کچھ نمبر "حسنِ تدبیر” کے سامنے اور کچھ "فکرِ انقلاب” کے جلوہ افروز ہوئے۔
چناںچہ حجّت الاسلام حضرت مولانا قاسم نانوتوی نوراللہ مرقدہ بانئ دارالعلوم دیوبند،
شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی، حکیم الامّت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی، امام العصر حضرت علّامہ سیّد انورشاہ کشمیری، حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیّب صاحب، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی، فخر المحدّثین حضرت مولانا سید محمد انظرشاہ مسعودی کشمیری نوّراللہ مرقدہم وغیرہ ضخیم نمبرات منظرِعام پر آئے تو عوام و خواص میں انھیں بڑی قدرومنزلت کی نظر سے دیکھا گیا۔
تنظیم نے اکابر کی پاکیزہ اور منوّر زندگی اور عزم و ثبات سے بھرپور مختلف گوشوں کو سامنے لانے اور انکی خدماتِ علمی سے نئی نسل کو واقف کرانے کا کارنامہ انجام دیا ہے اور یہ بات بلاشک و شبہ مولانا محمد اعجازعرفی صاحب قاسمی کے بلندکاموں میں شمار کی جائےگی کہ دورِ جدید میں جبکہ کام کرنے کے مواقع کافی ہیں اور سہولتیں بھی بہت ہیں، مگر زرِکثیر صرف کرکے گزرے ہوئے لوگوں کی جلیل زندگی اور جلیل خدمات سے روشناس کرانے کا کام ہرایک کے بس کی بات نہ تھی، مولانا نے اس مشکل کام کو آسان اور سہل بنایا ہے اور لگ بھگ ہزار ہزار صفحات پر مشتمل "حسنِ تدبیر” اور "فکرِ انقلاب” کے نکالے ہوئے نمبرات ہر اس لائبریری کی زینت بنے جہاں اہلِ علم اور اہلِ کمال اور اہلِ تحقیق کا رجوع ہے۔
علمائے دیوبند کی حیات و خدمات کے تذکرے کو انھوں نے ایک مشن اور مقصد کا روپ دیا ہے چناں چہ "فکرِ انقلاب” کی یہ تازہ پیشکش جو اکابر دیوبندکی اردو خدمات کا مبسوط جائزہ ہے منظرِ عام پر آچکی ہے اور اسکی رسمِ اجراء اربابِ علم کی موجودگی میں اس بات کی علامت ہے کہ ابھی اکابر پر کام کرنے کے بہت سے گوشے سامنے ہیں، بہت سے وہ بھی ہیں جو ابھی تشنہ ہیں اور کچھ وہ ہیں جن پر ابھی خامہ فرسائی کی ہی نہیں گئی،
*مولانا محمد اعجازعرفی صاحب قاسمی* کو اکابرِدیوبند کی محبت مبداءِ فیاض سے خوب ملی ہے اور اسکا ثبوت "حسنِ تدبیر” اور "فکرِانقلاب” کے اعلی و نفیس نمبرات ہیں،
کتابی کام بڑا مشکل ہے اور اور جن حضرات کو اس میدان کی ذرہ بھی معلومات ہیں انھیں یہ ماننے میں تامّل نہیں ہوگا کہ ایک ایک مضمون کی فراہمی اور مقالہ نگاروں سے رابطہ انتظار کی کٹھن گھڑیاں، کتابت، تصحیح، طباعت کی سخت اور دشوارکن منزلیں تب جاکر کہیں کوئی کام کی چیز ہاتھ میں آتی ہے، مولانا کے عزم و حوصلہ کی داد دینی چاہئے کہ وہ ایک اکیڈمی اور ادارے کے تحت انجام دئے جانے والے کام کو تنہا کررہے ہیں، انکا عزم جواں ہے، انکے حوصلے بلند ہیں، انکی کوششیں لائقِ ستائش ہیں، امید ہیکہ یہ سفر جاری رہےگا اور "فکرِانقلاب” اور "حسنِ تدبیر” کے خوبصورت، وقیع اور حسین نمبرات اہلِ علم اور اہلِ طلب کے پاس پہنچتے رہیں گے۔۔