کیابیوگی کوئی پا پ ہے،مصور عالم چترویدی

28

ارریہ(توصیف عالم مصوریہ)نمائندہ نوائےملت
چھوٹےچھوٹےتین چاربچوں کی ماں غربت سےتوججھ ہی رہی تھی,اس پرمزیدمصیبت یہ آئی کہ لاک ڈاؤن میں تین چارمہینےسے گھرمیں بیٹھےمجبوروبےبس مزدورشوہرکااچانک انتقال ہوگیا,گھرمیں جوکچھ تھابیچکرآخری رسوم میں لگادیا,ظالم سماج نےمِرتیوبھوج (آخری رسومات کےبعدمیت کی روح کوتسکین پہونچانےکےلئےایصال ثواب کی جبریہ دعوت)الگ سےکھایا,پھرکیاتھا,وہی ہواجوعام طورپرایک بیوہ کےساتھ ہوتاہے,کٹوری ہاتھ میں آگئی اورسماج کی اوچھی نظراورنارواسلوک سےڈپریشن کاشکارہوگئی,کسی بھی سوال کااسکےپاس کوئی جواب نہیں,نیم بیہوشی کی کیفیت,گھریلوحالت یہ کہ سونےکےلئےصحیح سےایک چٹائی تک نہیں ,بچوں نےصبح کاناشتہ کرلیاتوشام کیاکھائیں گےاورکہاں سےکھائیں گےکچھ خبرنہیں,درپرصحیح سےگھرنہیں اورجوٹوٹاپھوٹاگھرہےاس میں اناج نہیں اورجسم پرڈھنگ کالباس نہیں.پیام انسانیت کےایک ہمدردوسماجی کارکن جناب راجویریادوجی کےواسطےسےآل انڈیاپیام انسانیت فورم ارریہ کےکارکنان جب سورگیہ پرمانندمنڈل ولدسورگیہ گہنومنڈل,گاؤں دھرم گنج,تھانہ پلاسی ضلع ارریہ کےگھرپہونچےتوحالات اس سےزیادہ ناگفتہ بہ تھےجتنےکہ بتائےگئےتھے, بیوہ اتنےغریب گھرسےتھی کہ بس اللہ ہی رحم فرمائے,ہماری اس پوری ٹیم مصورعالم کوچھوڑکر سبھی کارکنان وخدام پیام انسانیت برادران وطن ہی سےتھے,لیکن انکا جذبہ ایساکہ سوبارسلام کےلائق,حالات کودیکھتےہی سبھی آبدیدہ ہوگئے,بیوہ کودلاسہ دیا, پھرسبھوں نے ملکرآپس میں پانچ ہزارروپئےکاچندہ کرپریوارکےدوسرےذمہ داران کی موجودگی میں اس بیوہ کےحوالہ کیا,مزیدمددکی یقین دہانی کےبعدجب واپسی ہوئی توہم راستہ بھریہی سوچتےرہےکہ
کیابیوگی ہمارےسماج میں کوئی پاپ ہےکہ ایک عورت کوشوہرکےمرنےکےبعدجب وہ بیوہ ہوجائےتوان پرظلم کےپہاڑتوڑدیئےجائیں,بجائےانکی ہمت افزائی اورمعاشی مددکےانکواوربھی بےبسی وبےکسی کی زندگی جینےپرمجبورکردیاجائے؟انکوتسلی دینےکےبجائےانکوطعن وتشنیع کیاجائے؟یااللہ ہم کس سماج میں جی رہےہیں,ہم جس سماج میں جی رہےہیں کیا اسمیں کوئی انسان نہیں؟اللہ کروٹ کروٹ چین نصیب فرمائےتحریک پیام انسانیت کےبانی رئیس العلماءوالصلحاءمفکراسلام حضرت مولاناسیدابوالحسن علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ اورانکےافکاروخیالات کےامین و پیکرعلی میاں,تحریک مرشدومربی حضرت مولاناسیدعبداللہ محمدالحسنی اورحضرت مولاناسیدبلال عبدالحی حسنی ندوی دامت برکاتہم پرجنہوں نے اس تحریک کےذریعہ ملت اسلامیہ کےاندرایک روح پھونکی اورانسانیت کےبقاءوتحفظ کاسامان فراہم کیا.آج محسوس ہواکہ پیام انسانیت کیاہےاوراسکی کس قدرشدیدضرورت ہے,
پیام انسانیت کی تبلیغ کی غرض سے کئےگئےاس مختصرسےسفرمیں جن غیرمسلم احباب اورفورم کےممبران کی رفاقت رہی بطورخاص دیویندرمشراجی صدرضلع بارایسوسی ایشن ارریہ.پی پی راجیندرپرسادشرماجی ارریہ,رنجیت سنگھ جی بھوتھل سینک /فوجی ارریہ کےنام قابل ذکرہیں.
خاکسار
محمدمصورعالم ندوی
آل انڈیاپیام انسانیت فورم ارریہ