آزاد فرانس کی آدھی آزادی!

22

تحریر :خورشید انور ندوی
خبر ہے کہ انسانی آزادی کے سرخیل فرانس میں مسلمان اقلیت پر قدغن لگائی جارہی ہے، اور جمہوری چارٹر کے نام پر ایسی تفصیلات جاری کی گئی ہیں، جو ایک فرقہ کے بطور کسی کے لیے بھی امتیازی ہیں اور ادنی جمہوری معیار پر بھی ناقابل قبول ہیں.. ہندوستان اور اسرائیل جیسے خراب ریکارڈ رکھنے والے ملک سے بھی دوہاتھ آگے کے اقدامات ہیں.. تفصیلات پرسنل لا پر عمل آوری کی صریح بد لحاظ بندش ہے.. اگر مساجد ائمہ تک حکومت کے نامزد ہوں گے تو سماجی زندگی میں کیا بچ رہے گا..؟ ہمارے منبر و محراب زندگی کو توانائی بخشتے ہیں، ربانی ہدایات کی پائیداری کرتے ہیں، دلوں میں خداترسی، عزیمت، جہاد اور خدا سے بغاوت قبول نہ کرنے کا جذبہ پیدا کرتے ہیں.. یہ سب کچھ سرکاری، وہ بھی فرانس کی سرکار کے تعین کردہ لوگ کیسے کریں گے؟
لگتا ہے، خدا بیزار آزادی کے متوالے، انسان کی آزادی کے کم، اور انسان کی حیوانی جبلت کی آزادی کے زیادہ رسیا ہیں.. یہ جبلت ایک آسودہ نہ ہونے والا جذبہ ہے… جب کہ آداب وأخلاق شرافت اور اقدار وہ انسانی خصائص ہیں جو مذہب اور مذہبی تعلیمات کا محور ہیں.. یہ فرد اور سماج کی وہ قدریں ہیں جن پر زندگی استوار ہے.. لیکن جدید ایجاد بندہ گندہ جمہوریت ان کو درخور اعتناء نہیں سمجھتی.. بدقسمتی سے ان ملکوں کی طرف مسلمانوں کا وہ طبقہ ہجرت کرکے گیا ہے، جو ذہنی صلاحیتوں، علمی سرمایے اور تعلیمی لیاقت سے مالامال ہے.. مسلمان ملکوں کی بڑی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت” برین ڈرین” ہے..

ہمارے حکمران اچھے ہوتے تو یہ اپنی دنیا اپنے ملکوں میں بنالیتے.. ہجرتوں کا مقصد محض معاش کی بہتری یا آزادی کی تلاش ہے.. کیا کریں ہمارے ملکوں میں دم گھٹنے کا ماحول چھایا ہوا ہے..، بدترین معاشی ناہمواری ہے ، اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے.. یکساں موقع اب تک خواب ہیں .. ورنہ فرانس جیسے ملک میں اپنی مذہبی آزادی کے جدوجہد کی بات ایک المیہ سے کم نہیں.. آزادی کے علم برداروں کو آزادی کی تعریف اور اس کے حدود اربعہ کا ازسرنو جائزہ لینا چاہئے.. کم از کم کچھ ناآسودہ اور بے تشکیل جذبات کی تسکین کی آزادی کے تصور سے آگے بڑھ کر اقدار، ویلوز، فکر و عقیدہ کی أساس کی آزادی پر توجہ کرنا چاہئے.. جو انسان کی ذہنی جولانی، اور آزادی کی ان جہتوں کی تلاش سے عبارت ہو جو تمام ادیان نے دی ہیں، اور بطور دین کامل دین مصطفوی نے سب سے زیادہ ترقی یافتہ شکل میں دیا ہے..

انسانوں کی غلامی سے مطلق آزادی.. جہاں افراد افراد کی اور گروہ گروہ کی آزادی سلب نہ کرسکیں.. اور عملی طور پر تاریخ میں زائد ٹیکس کی وصولی کو خلیفہ وقت نے "استعباد” قرار دیا ہے.. ہماری تاریخ میں آزاری کی تھیوری اور پریکٹس دونوں موجود ہیں، یورپ کی آزاری کا تصور ہنوز نوزائیدہ، نیم زائیدہ ہے،، پریکٹس ندارد ہے.. ورنہ سوسائٹی کے ایک سکشن کے لئے خصوصی قانون اور چارٹر چہ معنی دارد؟