کسانوں کی بدحال زندگی

21

از۔محی الدین آزاد
ہمارا ملک ہندوستان موجودہ وقت میں بہت سے مسائل سے دوچار ہے، جیسے اقتصادی بحران، مہنگائی، بے روزگاری، تعلیمی بے توجہی، وغیرہ انہیں میں سے سب سے اہم غریب کسان کے ساتھ ظلم و زیادتی کا ہونا ہے، آج جس طرف دیکھو بے حسی ، لاپرواہی اور رشوت خوری کا بازار گرم ہے، سرکاری ملازمین اپنی منمانی چلانے میں اپنی شان سمجھتے ہیں،
اس تناظر میں ہندوستان کے اندر رہنے والے مزدور اور غریب کسان کا تو کوئی پُرسان حال ہی نہیں۔ جدھر دیکھو ہر کوئی مزدوروں ، کسانوں اور غریب عوام کی خون پسینے کی گاڑھی کمائی بڑی بے دردی سے کھٹمل کی طرح چوسنے میں لگا ہوا ہے۔ خاص طور پر چھوٹا کسان تو شدید ترین بے بسی کے عالم میں صرف اپنے لُٹنے کا تماشا دیکھ رہا ہے۔ چونکہ میرا اپنا تعلق بھی دیہات اور کسان کمیونٹی سے ہے اس لئے اس جبر اور ظلم کو میں نے بہت قریب سے دیکھا ہے آئے آج آپ کو عام کسان کی کہانی، اس کی محنت و مجبوری کی تھوڑی سی جھلک اپنی زبان میں پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہوں،
در اصل کسان اس شخص کو کہا جاتا ہے جو مٹی کو سونا بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے جو بنجر زمین کے سینے کو پھاڑ کر اسے اپنی محنت اور لگن سے اس کو سرسبز زمین میں بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے وہ کسان کہلاتا ہے, کسان کو ہمارے ملک کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ جب کبھی قحط سالی ہو یا سیلاب، قدرتی آفات آئیے یا عذاب تب اسی کسان کے پیدا کیے ہوئے اناج سے پورے ملک کے لوگوں کا پیٹ بھرا جاتا ہے،
کسانوں کو ہندوستان میں بہت بڑے بڑے نام دئیے جاتے ہیں جیسے اَنّْ داتا، کاشتکار بھائی، بھوکے غریبوں کا مسیحا وغیرہ لیکن حکومت اور حکمرانوں کی نظروں میں کسانوں اور ان کے اناج کی حیثیت کسی گلی کوچے میں پڑی لاوارث اشیاء سے زیادہ نہیں ہے، وہ الگ بات ہے کہ الیکشن کے وقت تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کسانوں کے ایسے لبھانے آتے ہیں جیسے کہ الیکشن جیتنے کے بعد انہیں قارون کا خزانہ دیدیا جائے گا، یا پھر کسانوں کی زندگی کے سارے مصائب و مشکلات کو چٹکیوں میں حل کر دیا جائے گا،
کسانوں کی حوصلہ افزائی و دل جیتنے کے لئے نیتا کیا کیا نہیں کرتے، کبھی تو کسانوں کا ہل اٹھاتے ہیں، کبھی کسانوں کے گھر کا کھانا کھاتے ہیں، کبھی ان کے سر کی تاج یعنی پگڑی پہن کر اور کبھی ٹریکٹر پر بیٹھ کر اپنے آپ کو کسان ہونے اور ان کے بہت بڑا مسیحا ہونے کا ڈھونگ کرتے ہیں، اور انتخابی ریلیوں میں قرض معافی کا لولی پوپ دیکر خوب ووٹ حاصل کرتے ہیں، اور حکومت بنانے کے بعد پانچ سالوں کے لئے نیتا بے شرم، بے حسی اور بزدلی کا لبادہ اوڑھ کر روپوش ہو جاتے ہیں،
اس میں کوئی شک نہیں کہ اناج پیدا کرنے کے لئے کسان خوب محنت کرتا ہے مئی جون کی دھوپ میں اپنے پسینے کو بہاتا ہے، دسمبر و جنوری کی کڑاکے کی سردی میں صبح صبح اٹھ کر کھیتوں میں کام کرتا ہے، ہر فصل میں کھاد پانی اور بیج کے لئے آمدنی بھی لگاتا ہے پھر بھی کسانوں کو ان کی لاگت یا اجرت نہیں مل پاتی، حالانکہ کسان کی آمدنی دوگنی کرنے کی باتیں ملک کے اعلیٰ ذمہ داران و عہدیداران خوب کرتے ہیں، TV پر کسانوں کی ہمدردی میں گیت گائے جاتے ہیں، الیکشن میں بڑے بڑے وعدے کئے جاتے ہیں، انہیں انکا حق دلانے کی بات کی جاتی ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جب ملک کا غریب کسان اپنے حق کی مانگ کا مطالبہ کرنے کے لئے سڑکوں پر اترتا ہے تو ان پر بے رحمی سے لاٹھیاں بھی برسائی جاتی ہے،
سرکاری قیمت کے مطابق تقریباً 1800 سو روپیہ فی کنٹل یعنی اٹھارہ روپیہ میں فی کلو دھان فروخت ہونا چاہئے لیکن کسانوں سے ہزار بارہ سو روپیہ کنٹل ہی خریدا جارہا ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ بالائے ستم یہ ہے کہ سرکاریں جب ڈیزل کی مہنگائی کرتی ہیں تو ٹریکٹر والے جتائی میں اور کٹائی مشین والے کٹائی میں ہر سال فی بیگہا کے حساب سے سو دو سو کا اضافہ کر دیتے ہیں، سرکاری گوداموں میں بیج اور کھاد کی سرکاری قیمت پر فروخت کرنے کے بجائے ذخیرہ اندوزی کرکے رشوت لی جاتی ہے، پھر بھی کھاد اور بیج کی قلت برابر رہتی ہے،
ہم حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ کسانوں کو ان کی پیداوار کی صحیح قیمت دی جائے۔ ورنہ کسان تو تباہ ہوجائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ہندوستانی عوام کی بھی خیر نہیں ہوگا کیونکہ جب دوسروں کا پیٹ بھرتا ہے وہ خود بھوکا رہ جائے تو کیا ہوگا؟ اس سلسلہ میں حکومت کو زبانی جمع خرچ اور جملے بازی سے زیادہ عملی اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ رشوت خوری اور ذخیرہ اندوری کرنے والوں پر شکنجہ کی ضرورت ہے صرف "جئے کسان” کا نعرہ لگانے اب کچھ نہیں ہوگا اور ہم بہت لگاچکے‘ اب وقت ہے نعرہ بلند کئے جائیں ’’جیو کسان‘ جیو ہندوستان‘‘۔