صحافت اور ذرائع ابلاغ کی اہمیت و افادیت

59

محمد قمر الزماں ندوی
موجودہ دور میڈیائی دور ہے، یوں تو جب سے دنیا قائم ہے ابلاغ و تبلیغ اور ارسال کی اہمیت رہی ہے، ہر زمانے میں اس سے فائدہ اٹھایا گیا ہے ۔ لیکن آج ترسیل اور ذرائع ابلاغ کی اہمیت سب سے زیادہ ہے اور اس کے ذریعہ سے خیر و شر نفع و نقصان اور صحیح اور غلط ہر میدان میں اس سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے ۔

آج باطل طاقتیں اس کے ذریعہ سے کیا کیا سازشیں کر رہی ہیں اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف محاذ کھڑا کر رہی ہیں، وہ کسی سے مخفی اور پوشیدہ نہیں ہے ۔ لیکن افسوس کہ آج مسلمانوں کے پاس نہ کوئی مضبوط میڈیا ہے اور نہ ہی طاقتور ذرائع ابلاغ جس کے ذریعہ ہم دشمن کے میڈیائی اور ابلاغی حملوں کا مقابلہ کرسکیں ،ہم نے اس کے لئے نہ کوئی پلانگ کی اور نہ ہی منصوبہ بندی کی ،جس کا نقصان ہم ہر جگہ اور ہر شعبہ میں اٹھا رہے ہیں ہم نے ذرائع ابلاغ، میڈیا، اور ترسیل و ابلاغ کو نبوی مشن کا حصہ ہی نہیں سمجھا اور اس کی ضرورت و اہمیت کی طرف دھیان ہی نہیں دیا۔

صحافت اور ابلاغ و ترسیل کی کتنی اہمیت ہے اس کا اندازہ استاد محترم حضرت مولانا سلمان حسینی ندوی صاحب کے اس اقتباس لگاسکتے ہیں ۔ مولانا محترم لکھتے ہیں :
صحافت ابلاغ کا ایک شعبہ ہے، انسان کے ما فی الضمیر کی ادائیگی، اور اپنی بات کے ابلاغ کے لئے سب سے پہلے زبان ترجمان رہی،پھر قلم کا ساتھ ہوا ،ابلاغ ہر انسان کی ضرورت ہے، خلق الانسان علمہ البیان میں بطور خاص اس انعام کا ذکر فرمایا گیا ہے ۔ انسان کا وجود ہی جس مشن اور عظیم منصب کے لئے ہوا ہے اس میں ابلاغ کی سب سے زیادہ اہمیت ہے ،نبوت و رسالت ابلاغ ہی کے لیے ہے، پیغمبر اپنی قوم میں میڈیا (ابلاغ) کا سب سے زیادہ استعمال کرتا ہے، اس کے پاس زبانی و تحریری دونوں طرح کے مواد ہوتے ہیں ۔اور وہ ان کا ایک زبردست مہم کے طور پر استعمال کرتا ہے ۔ معرکہ خیر و شر حق و باطل اور کفر و ایمان میں سب سے زیادہ عظیم الشان کردار پیغمبروں کا ہوتا ہے، جو کھل کر زبان و قلم کا استعمال کرتے ہیں ۔ سچ بولتے ہیں، سچائی کی دعوت دیتے ہیں ۔ ان کو حکم ہوتا ہے کہ یاایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک ۔ جس ابلاغ و تبلیغ کا رسول کو حکم دیا جاتا ہے، وہ حق کی للکار ہوتی ہے، جاہلیت کے افکار سے کھلی کلامی جنگ ہوتی ہے، وہ ہر جھوٹ، افتراء بہتان مکر و فریب کا پردہ چاک کرتے ہیں، اس میں انہیں کوئ باک نہیں ہوتا ،ان کی زبان کو خاموش کرنے کی باتیں ہوتی ہیں، قومی پیمانہ پر وقت کے چودھری اور لیڈران ان پر اپنا دباؤ ڈالتے ہیں، تو وہ ان باتوں کو پائے حقارت سے ٹھکرا کر صاف کہہ دیتے ہیں کہ یہ کسی سودے بازی کا موضوع نہیں ہے، تم چاند و سورج لا کر ہمارے ہاتھوں میں رکھ دو ،تب بھی یہ امید مت رکھنا کہ ہم اپنا مشن چھوڑ دیں گے ۔ یہی ابلاغ وہ انبیائی مشن ہے،جس پر ماضی کے ہر دور میں اہل حق قائم رہے، اور بے لاگ اور بے خوف ہوکر امانت کا حق ادا کرتے رہے ۔ *الذين یبلغون رسالت اللہ و یخشونہ و لا یخشون احدا الا اللہ* *یہ تعارف ہے ،حق کے داعی،مصلحین و مجددین کا،ایک اٹوٹ سلسلہ ہے جس نے ہر دور میں یہی فریضہ انجام دیا ہے ۔ ہندوستان میں مجدد الف ثانی رح شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رح مولانا اسماعیل شہید رح مولانا قاسم نانوتوی رح مولانا محمد علی مونگیری رح شیخ الھندرح ۔ علامہ شبلی نعمانی رح شبیر احمد عثمانی رح علامہ سید سلیمان ندوی رح ابو الحسن علی ندوی رح ابو الاعلی مودودی رح اور کتنوں کا نام لیجئے ،یہی کام کرتے رہے ،حق کا بگل بجاتے رہے ،اس کی صدا لگاتے رہے،باطل کے نظریات کی دھجیاں اڑاتے رہے،اور مکر و فریب کے پردے چاک کرتے رہے* ۔

(عالم اسلام مرتبہ ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی)

صحافت، میڈیا اور ذرائع ابلاغ کے ذرائع کا استعمال ہمیشہ ہوا ہے ۔لیکن حق اور سچ اور واشگاف کہنے والے اور بے لاگ لکھنے والے ہر دور میں کم ہوئے ہیں ۔

دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک میڈیا حق اور توحید پرستوں کا تھا اور دوسرا میڈیا باطل پرست کافروں اور مشرکوں کا تھا ، آج ہی کی طرح اس زمانے کی باطل میڈیا والے بھی خوب مکر و فریب کا دھندہ کرتے تھے نبوت و رسالت کے خلاف اور حق پرستوں کے خلاف خوب نفرت کا ماحول پیدا کرنے زمین و آسمان کے قلابے ملاتے اور سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی ناپاک کوششیں کرتے تھے ۔ قرآن مجید نے بھی ان کی ان حرکتوں کا تذکرہ کیا ہے ۔ مدینہ ہجرت کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو ایک اور قسم کے میڈیا اور ابلاغ کا سامنا کرنا پڑا جو میڈیا مشرکین کے میڈیا سے بھی خطرناک تھا یہ منافق میڈیا تھا اور جس کا منیجنگ ڈائریکٹر سردار منافق عبد اللہ بن ابی بن سلول تھا ۔ آج کی گودی میڈیا کا معنوی رشتہ اور نسب اسی منافق میڈیا سے ملتا ہے ۔ لیکن افسوس کہ اس میڈیا کی کاٹ اور اس کے زور کو ٹوڑنے کے لئے مسلمانوں نے آج تک کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا اور نہ ہی اس سمت کوئی پیش قدمی کی ۔ بلکہ ایک طبقہ نے تو اس کو دنیا داری سمجھ کر اس کو شجر ممنوعہ سمجھا ۔آج اسی طبقہ کی وجہ سے موجودہ میڈیا نے اپنی کمال عیاری سے مسلمانوں کو حاشیہ پر لاکھڑا کردیا ہے اور غیروں میں اچھوت بنا کر رکھ دیا ہے ۔

عصر حاضر کی صحافت اور ذرائع ابلاغ نے وہ گل کھلائے ہیں اور اس نے حالات کو اس طرح ڈراونا اور پیچیدہ کر دیا ہے کہ پوری دنیا کا سنجیدہ طبقہ اس کے اس ناپاک عزائم اور حرکتوں سے تنگ آچکا ہے اور لوگ تذبذب اور بے یقینی کے شکار ہوچکے ہیں ۔

آج ہمارا ملک جن مسائل سے جوجھ رہا ہے ان میں سے ایک انتہائی اہم مسئلہ غیر اصولی صحافت، میڈیا اور ذرائع ابلاغ کا ہے ۔ افسوس کہ ہمارے اس ملک میں بھی جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے، اس ملک کا چوتھا ستون صحافت منہدم ہوچکا ہے ۔حکومت دانستہ یا غیر دانستہ غفلت کی شکار ہے ۔

کیا جمہوریت کی حفاظت میں صحافت اور ابلاغ و ترسیل کی حفاظت شامل نہیں ہے کیا حکومت اور عوام کو اس کی فکر نہیں کرنی چاہیے ۔کاش اسکرینوں پر نظر آنے والے اور روز ناموں میں اپنے وجود کے جوہر بکھیرنے والے صحافی اور قلم کار اپنے فرض منصبی کو سمجھتے اور نفرت کی بیج بونے کے بجائے امن و شانتی اور پریم و محبت کی سوغات بانٹتے ۔ اور وہ اس شعر کے مصداق ہوجاتے کہ

مجھے اسیر کرو یا مری زباں کاٹو
مرے خیال کو بیڑی پہنا نہیں سکتے