ہفت روزہ اخبار با ختر کے اجراکے موقع پر بـین الاقــوامی ویبــنار عالمی ویبنار بعنوان ادب اطفال

16

پہلا دن افتتاحی اجلاس مورخہ ۷؍ نومبر ۲۰۲۰ء بروز سنیچر : دوپہر ۳؍ بجے
ویبنار کا آغاز الاتحاد ہائی اسکول، ممبئی کی طالبہ خان نور فاطمہ ابولحسن کی قرأت سے ہو۔ افتتاحی سیشن کی صد ارت حسن چوگلے، دوحہ، قطر فرما رہے تھے۔ مہمانِ خصوصی ڈاکٹر شیخ عقیل احمد صاحب، ڈائرکٹر، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ، دلّی سمیت تمام مہمانان موجود تھے۔سراج الدین ندوی،(مدیر ، ’’اچھا ساتھی‘‘، بجنور) نے اپنے افتتاحی کلمات میں ادب اطفال کے کئی گوشوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ والدین ، اسکول، ماحول کے ساتھ ساتھ بچوں کے کردار کی تشکیل میں ادب اطفال کا بھی اہم رول ہوتا ہے۔بعدہ‘ کنوینر اشفاق عمر،مدیر ’’باختر‘‘، مالیگاؤں نے اپنے خطاب میں ادب اطفال کی ضرورت و اہمیت پر بات کرتے ہوئےاس بات کا اظہار کیا کہ اب موجودہ ادب اطفال کومزید دلچسپ اور اثرانگیز بناتے ہوئے اسے عالمی سطح کا ادب اطفال بنانے کو کوششیں کی جانی چاہئے۔ مہمانِ خصوصی ڈاکٹر شعیب رضا خان، اردو ڈائرکٹر،نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ، دلّی نے اپنے خطاب میں این آئے اے ایس کی نصابی کتابوں سے متعلق اور وہاں کی سرگرمیوں سے متعلق بتاتے ہوئے ادب اطفال میں مزید عملی اقدامات پر زور دیا۔ مہمانِ خصوصی سیف اللہ سیفی،چیئرمن، بزم ناز،ہالینڈ نے اپنے خطاب میں ادب اطفال کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کو گھروں اور پرائمری سطح سے ہی ادب اطفال کی جانب راغب کرنا چاہئے۔ ہالینڈ میں موجود ادب اطفال کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہاں ابتدائی جماعتوں سے ہی بچوں کو کسی موضوع پر تقریریں کرنے کے لیے کہا جاتا ہےجو ان کی تعلیم کا حصہ ہوتا ہے۔ وہاں ہفتۂ کتب بھی منایا جاتا ہے اور وہاں بچوں کو کتابیں مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ جرمنی سے تعلق رکھنے والے انور ظہیر رہبر صاحب نے افتتاحی اجلاس سے خطاب فرمایااور اپنے خصوصی جذبات کا اظہار کیا۔ مہمانانِ خصوصی میں موجودشعیب ہاشمی، سپرنٹنڈنٹ، مہاراشٹر راجیہ اردوساہتیہ اکادمی، ممبئی نے ادب اطفال پر منعقد اس ویبنار کے انعقاد پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئےبتایا کہ اردو اکیڈمی، مہاراشٹر کی زیادہ تر اسکیمیں ادب اطفال سے منسلک ہیں تاکہ اردو کی جڑوں کو مضبوط کیا جاسکے۔انہوں نے ادب اطفال پر مزید کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ مہمانِ خصوصی ڈاکٹر شیخ عقیل احمد صاحب، ڈائرکٹر، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ، دلّی نے اپنے خطاب میںبتایا کہ انہوں نے این سی پی یوایل کاچارج سنبھالتے ہوئے عہدکیا تھا کہ میں ابتدائی سطح پر اردو کے فروغ کے لیے کوشش کرتا رہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ آج بھی کوشش کررہے ہیںکہ ادب اطفال کا فروغ ہو۔ انہوں نے تشویش ظاہرکی کہ موجودہ وقت میں ادب اطفال پر کم کام ہورہا ہے۔ انہوں نے این سی پی یو ایل کے ادب اطفال پر ہونے والے کاموں کا جائزہ لیااور اپنے منصوبوں کا ذکر کیا۔صدرِ افتتاحی سیشن حسن چوگلے، دوحہ، قطرنے صدارتی خطبے میں فرمایا کہ میں اردو کا خدمتگار ہوں۔انہوں نے ادب اطفال کی اہمیت و افادیت پر زور دیا ۔ آئیڈیل فاؤنڈیشن کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے طلبا کے لیے منعقد ہونے ولی سرگرمیوں کا ذکر کیا۔ اشفاق عمر کے شکریہ ادا کرنے کے ساتھ افتتاحی تقریب کااختتام ہوا۔
سیشن نمبر ۱
عنوا ن : کل
(ادب اطفال: آزادی سے پہلے)
اس سیشن کی صد ارت ڈاکٹرشیخ عبداللہ، نائب صدر، انجمن اسلام، ممبئی فرمارہے تھے۔مبین منوّر، سابق چیئرمن، کرناٹک اردو اکادمینے اپنے افتتاحی کلمات میں مختلف باتوں کا احاطہ کیا اور کتابوں ، اخبارات کے بقاسے متعلق زور دیا۔انہوں نے اردو اکیڈمیوں کو ادب اطفال کے تحفظ سے متعلق زیادہ کام کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کرناٹکمیں جاری ادب اطفال کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ مہمانِ خصوصی عارف محمود کسانہ، ادیب الاطفال،سویڈن نے اپنی مخاطبت میں اسکینڈنیویائی ممالک ڈنمارک، سویڈن اور ناروے میں موجود ادب اطفال کا جائزہ لیا۔ وہاں ہونے والے تراجم کا ذکر کرتے ہوئے نصرملک صاحب کی خدمات کا جائزہ لیا۔ مہمانِ خصوصی غلام حیدر،ادیب الاطفال، دلّینے اپنی مخاطبت میں ذکر کیا کہ موجودہ وقت میں مہاراشٹر میں ادب اطفال پر بہترین کام ہورہا ہے۔انہوں نے اپنی باتیں تفصیل سے پیش کیں۔ ڈاکٹر محمد نثار احمد(آندھراپردیش) نے اپنے مقالے میں آزادی سے قبل کے بچوں کے رسائل کا جائزہ لیا۔ شاکر احمد نائکو(علی گڑھ) نے اپنے مقالے میںاردو ادب اطفال میںخواتین کے حصے کا تفصیلی جائزہ لیا۔ پی محمد جعفر(تمل ناڈو)نے اپنے مقالے میںابوالبیان حماد کی ادب اطفال کی خدمات کا جائزہ لیا۔ ڈاکٹرسید اسرارالحق سبیلی( تلنگانہ) نے اپنے مقالے میں ادب اطفال میں خواتین کے حصے پر تفصیلی روشنی ڈالی۔رضوان الحق ، این سی آر ٹی، نئی دلّی نے ادب اطفال پر ہوئے بھوپال سیمینار کا ذکر کیا۔انہوں نے ادب اطفال کے چیلنجز اور عصری تقاضوں پرتفصیلی بات کی۔مہمانِ خصوصی فاروق سیّد،مدیر گل بوٹے، ممبئی نے اپنی باتیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے رسالےپہلا پلیٹ فارم ہیں جہاں سے فرد تیار ہوتے ہیں۔ ادب اطفال پر لکھنے والے افراد کی حوصلہ افزائی کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بچوں کے اخبارات اور رسائل کی ہر سطح پر معاونت کرنا ان کو زندہ رکھے گا۔ ڈاکٹرشیخ عبداللہ، نائب صدر، انجمن اسلام، ممبئینے صدارتی خطبے میں ادب اطفال کے پروگراموں کی افادیت کو تسلیم کرتے ہوئےہر سطح پر ایسے پروگرام کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے سیشن میں پیش کیےگئے تمام مقالوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔اشفاق عمر کے شکریے کے ساتھ یہ سیشن اختتام پذیر ہوا۔
سیشن نمبر ۲
عنوا ن : آج
(ادب اطفال:آزادی سےتاحال)
اس سیشن کی نظامت کے فرائض ضیاالرحمن انصاری، پرنسپل ، رئیس ہائی اسکول،بھیونڈی،مہاراشٹرنے انجام دیے۔اس سیشن کی صد ارت
اسلم جمشیدپوری، صدر شعبۂ اردو، میرٹھ انجام دے رہے تھے۔اپنی مصروفیات کے باعث انہوں نے اوّل ہی اپنے صدارتی کلمات ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اردو زبان میں ادب اطفال کی تخلیق نسبتاً کم ہوگئی ہے۔ اکیسویں صدی کے بدلتے منظرنامے کے مطابق ادب اطفال کی تخلیق پر زور دیتے ہوئے انہوں نے رہنمایانہ باتیں پیش کیں۔ اس کے بعد پروگرام کی صدارت اورافتتاحی کلمات ادا کرنے کے فرائض حافظ امجد حسین کرناٹکی (کرناٹک) نے انجام دیا۔ وقاص سعید(پنجند ڈاٹ کام، آسٹریلیا) نے اپنی مخاطبت میںادب اطفال کی آفاقیت سے متعلق اپنی باتیں پیش کرتے ہوئے پنجند ڈاٹ کام پر موجود یونی کوڈ موادسے متعلق تفصیلات پیش کیں۔ ڈاکٹر عبدالعزیز عرفان(اورنگ آباد) نےاپنے مقالے میں اردو ادب اطفال کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔بلال احمد گنائی (کشمیر)نے ’مولانا علی میاں ندوی اور ادب اطفال‘ کے عنوان کے تحت مفکرِاسلام علی میاں ندوی صاحب کی ادب اطفال کے لیے خدمات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ڈاکٹر محمد خالد ظہیر(میرٹھ) نے اپنے مقالے میںادب اطفال کی اردو اور ہندی کہانیوں کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا۔ حافظ امجد حسین کرناٹکی (کرناٹک) نے افتتاحی و صدارتی کلمات کو موثر انداز سے پیش کیا۔انہوں نے فرمایا کہ ادب اطفال انسان کی فطرت، معصومیت کا آئینہ ہے۔اس کے جذبات احساسات کا آبگینہ ہے۔ انہوں نے اپنےمنظوم انداز میںایک جامعہ خطبہ پیش کیا۔ شاہ تاج خان صاحبہ (پونا) کی رسمِ شکریہ کی ادائیگی کے ساتھ یہ سیشن اختتام پذیر ہوا۔
دوسرا دن
سیشن نمبر ۳
عنوا ن : کل
(ادب اطفال کا مستقبل)
مورخہ ۸؍ نومبر ۲۰۲۰ء
بروز اتوار دوپہر ۳؍ بجے
شفا محمد فاروق اوبارے، دردمند کالسیکر ہائی اسکول، کامپلا( کوکن ) کی جماعت دہم کی طالبہ کی قرأت سے دوسرے دن کا آغاز ہوا۔ نظامت کے فرائض اشفاق عمرنے انجام دیے۔ مسند صد ارت پر ڈاکٹر خواجہ محمد اکرام الدین، سابق ڈائرکٹر، این سی پی یو ایل، دلّی موجود تھے۔ نصرملک ، ڈنمارک نے افتتاحی کلمات پیش کیے۔ انہوں نے اپنے ادبی و ادب اطفال سے متعلق کاموں کا ذکر کرتے ہوئے ڈنمارک میں موجود ادب اطفال کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔انہوں نے بولتی کتابوں کا بھی ذکر کیا۔ کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے انورظہیر رہبر، برلن، جرمنی نےجرمنی میں اردو زبان و ادب سے متعلق جاری ان کی کاوشِ جمیلہ کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح جرمنی میں اردو زبان کی ترویج کا کام جاری ہے۔ انہوں نے ادب اطفال کی تخلیق و و ترویج سے متعلق تفصیلی بات کی۔حسین قریشی ،
مہاراشٹر نے اپنے مقالے میں ادب اطفال اور سائنس کے عنوان پر اپنی باتیں پیش کیں۔ڈاکٹر رفیع الدین ناصر، اورنگ آبادنے اپنے مقالے میں عہد حاضر میں سائنسی اردو ادب اطفال پر سیر حاصل بات پیش کی۔محمد رضا فراز، جھارکھنڈ نے اپنے مقالے میں پروفیسرمظفر حنفی کی شعری تخلیقات پر اپنی باتیں پیش کیں۔ مہمانانِ خصوصی میں شامل اہم شخصیات نے ویبنار میں اپنی باتیں پیش کیں۔عرفان عارف، صدر، تحریک بقائے ،جموںنے اظہار خیال کرتے ہوئے ویبنار میں ہونے والی باتوں کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے لیے درسیات کے ساتھ ساتھ ان کے لیے تفریحی ادب مثلاً دلکش کتابیں اور ڈیجیٹل مواد مہیا کرتے ہوئے ادب اطفال سامنے لانا چاہیئے۔ بابو آر ۔ کے۔ (مہاراشٹر) نے اپنی باتیں پیش کرتے ہوئے ادب اطفال کا جائزہ لیا۔ عبداللہ غازی ندوی، مدیر، ماہنامہ پھول، بھٹکل نے بھٹکل میں ادب اطفال کا جائزہ لیتے ہوئے بچوں کے لیے کیے جانے والےعملی اقدامات کا تفصیلی خاکہ پیش کیا۔متین اچلپوری (مہاراشٹر) نے بچوں کی عمر،ذہانت اور سطح کے مطابق ادب تخلیق کرنے پر زور دیا۔سلیم رحمانی، رحمانی پبلی کیشنز، مہاراشٹرنے ادب اطفال کی اہمیت و افادیت اور کتاب میلوں کی اہمیت پر باتیں کیں۔ اقبال نیازی ، ممبئی نے ادب اطفال اور ڈراموں کے موضوع پر اپنی مدلل باتیں پیش کیں۔ انہوں نے اشفاق عمر کی کتاب ’’رہنمائے سول سروسیز‘‘ پر تیار اپنے ڈرامے ’’ اب تمہاری باری ہے‘‘ کے ذریعے ہونے والے فوائد کے حوالے سے ڈراموں کی اہمیت واضح کی۔صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر خواجہ محمد اکرام الدین نے ادب اطفال پر ہونے والے تمام کاموں کی ستائش کی۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام اصناف پر بھرپور محنت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ادب اطفال پرپیش ہوئے مقالوں پر مقالہ نگاروں کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے تنقیدنگاروں کو ادب اطفال پر توجہ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ اشفاق عمر کے شکریے کے ساتھ اس سیشن کا اختتام ہوا۔
(بقیہ دیگر صفحے پر)

(بقیہ عالمی ادب اطفال۔۔۔۔)
سیشن نمبر ۴
(برائے خواتین)
اس سیشن کی صد ارت عشرت معین سیما، برلن، جرمنی فرمارہی تھیں۔ نظامت کے فرائض شبینہ فرشوری، حیدرآباد نے انجام دیے۔ افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے سمیرہ عزیز،
سعودی عربیہنے فرمایا کہ ادیب اور شاعر ایک دن میں نہیں بنتے بلکہ بچپن میں ہی یہ صلاحیتیں نظر آتی ہیں۔
انہوں نے بچوں کو سمجھنے اور ان کی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی پر زور دیا۔
کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے مہرافروز،کرناٹک (انڈیا)نے بہت تفصیل سے ادب اطفال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ادب اطفال کی تخلیق کے وقت عمر کے لحاط سے تخلیق کرنے پر زور دیا۔ انہوں نےاس موضوع پر تفصیلی معلومات پیش کیں۔ڈاکٹر شرمین انصاری، بھیونڈی، مہاراشٹر نے اپنے مقالے میں ادب اطفال کی اہمیت و افادیت پر تفصیلی بات کی۔اسمہ شیخ، حیدرآباد نے اپنے مقالے میں ادب اطفال اور عصری چیلنجز کے عنوان سے سیر حاصل باتیں پیش کیں۔شاہ تاج خان، مہاراشٹر (انڈیا) نے اپنے مقالے میں ادب اطفال اور سائنس پر موثر انداز میں اپنے نکات پیش کیے۔ شاہجہاں بیگم، کرنول، آندھراپردیش نے اردو زبان میں بچوں کے رسائل : آزادی سے قبل، عنوان کے تحت پیش کیے گئے اپنے مقالے میں بالتفصیل بچوں کے رسائل کا جائزہ لیا۔ریحانہ پروین
آندھرا پردیش نے اپنے مقالے میں اردو ادب اطفال میں عصری حساسیت: صورت حال اور امکانات کے عنوان پر قابل غور باتیں پیش کیں۔ ڈاکٹر شاہدہ نسرین مناف، مہاراشٹر نے اپنے مقالے میں حیدربیابانی کی ادب اطفال کی قابل رشک خدمات کا جائزہ لیا ۔ ناظم سیشن شبینہ فرشوری، حیدرآباد نے اپنے مقالے میں ادب اطفال سے اپنے تعلق اور ادب اطفال سے متعلق کافی اہم باتیں پیش کیں۔ مہمانانِ خصوصی نے ویبنار سے خطاب فرمایا۔ مہ جبین غزل انصاری ، یو۔ کے۔ نے اپنی مخاطبت میں یوکے میں موجود ادب اطفال کا جائزہ پیش کیا گیا۔ نیوزی لینڈ میں رات کے تین بج رہے تھے مگر وہاں سے ڈاکٹر صہبا جمال شاذلی، نیوزیلینڈ اس وقت بھی ویبنار میں موجود رہیں۔انہوں نے نیوزی لینڈ میں موجود ادب اطفال پر سیر حاصل باتیں پیش کیں۔صادقہ نواب سحر، مہاراشٹرنے اپنے خطاب میں جہاں کئی باتوں کی جانب اشارہ کیا، وہیں بتایا کہ معذور بچوں کے لیے بھی ادب تخلیق کرنے کی بھی ضرورت ہے۔خطبۂ صدارت پیش کرتے ہوئے عشرت معین سیما، برلن، جرمنی نے تمام مقالہ نگاران کے مقالوں کا جائزہ لیتے ہوئے اپنی باتیں پیش کیں۔ انہوں نے جرمنی میں ادب اطفال کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔انہوں نے ادب اطفال کی اہمیت محسوس کرتے ہوئے برملا کہا کہ ہمارے یہاں بچوں کا ادب نہیں بلکہ بچکانہ ادب تخلیق کیا جارہا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے ادب عالیہ کے تخلیق کاروں پر ادب اطفال تخلیق کرنے پر زور دیا۔تبسم ناڈکر، ممبئی کے شکریے کے ساتھ اس سیشن کا اختتام ہوا۔
اختتامی اجلاس
دوروزہ عالمی ویبنار کے اختتامی اجلاس میں دوروزہ کارکردگی کا مختصر جائزہ لیتے ہوئے کنوینر اشفاق عمر نے اس عزم کا اظہار کیا ادب اطفال پر پروگراموں کا سلسلہ دراز رہے گا۔ اس سیشن میں’’کُل ہند باخترآن لائن کوئز برائے طلبا‘‘ کی تقسیم انعامات کی تقریب بھی منعقد ہوئی۔ سیکڑوں طلبا میں سے 38 طلبا نے 30 میں سے 30 مارکس حاصل کی تھی اس لیے کوئز کے قوانین کے مطابق انعام یافتگان کا اعلان بذریعۂ قرعہ اندازی کیا گیا۔آخر میں اشفاق عمر نے اس دو روزہ عالمی ویبنارکے تمام ہی شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور دو روزہ عالمی ویبنار اختتام پذیر ہوا۔