عید قرباں کا پیغام ظفؔر امام

35

کل١٠/ دسویں الحجہ یعنی یومِ قربانی ہے، اور قربانی کے دن اللہ کے نزدیک قربانی کرنے سے زیادہ کوئی عمل محبوب نہیں، چنانچہ ایک حدیث کے اندر ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے مروی ہیکہ نبئ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا” مَاعَمِلَ ابْنُ اٰدَمَ مِنْ یَّوْمِ النَّحْرِ أَحَبَّ إِليَ اللّٰهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ، إِنَّهٗ لَيَأتِيْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُوْنِهَا وَ أَشْعَارِهَا وَ أَظْلاَفِهَا، وَ أَنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ اللّٰهِ بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَّقَعَ مِنَ الْأرْضِ، فَطِيْبُوْا بِها نَفْسًا” { اللہ کے نزدیک قربانی کے دن ابن آدم کا کوئی عمل قربانی سے زیادہ محبوب نہیں، قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئیگا، اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللہ کے یہاں مقبول ہوجاتا ہے، سو تم خوش دلی سے قربانی کرو،}
خوش دلی سے قربانی کرنے کو اس لئے کہا گیا کہ جب تمہیں قربانی کا اجر معلوم ہوگیا تو اب تمہیں بھی چاہیے کہ ناک بھوں چڑھاتے ہوئے قربانی نہ کرو بلکہ خوش دلی سے کرو کہ تمہاری قربانی رائیگاں نہیں جانے والی؛
یہ بھی خداوند قدوس کی کتنی تعجب خیز حکمت اور بلیغ مصلحت ہے کہ ایک بندہ قربانی کے دن ایک ذی روح کی گردن میں چھری بھی پھیرتا ہے، اور اس کا خون بھی بہاتا ہے، لیکن! بجائے اس کے کہ اس کے اس { بظاہر } ناحق قتل کی پاداش میں اسے سزا کا مرتکب ٹھہراتے الٹا اس کے نامۂ اعمال میں نیکیوں کا ذخیرہ لگادیتے ہیں، اسی کو نامور شاعر انشؔااللہ خاں انشؔا نے نہایت خوبصورتی کے ساتھ اپنے اس شعر میں بیان کیا ہے۔

؂ یہ عجیب ماجرا ہے کہ بروز عید قرباں
وہی ذبح بھی کرے ہے وہی لے ثواب الٹا

ایک اور حدیث میں حضرت زید بن ارقم سے روایت ہیکہ کہ صحابۂ کرامؓ نے نبئ اکرم ﷺ سے پوچھا، مَا هٰذِهٖ الأَضَاحِیُّ یَا رَسُولَ اللّٰہ! یعنی یہ قربانی کیا ہے اے اللہ کے رسول! اس کے جواب میں آپؐ نے ارشاد فرمایا ” ھِیَ سُنَّةُ أَبِيْكُمْ إِبْرَاهِيْمَ ” یعنی یہ قربانی تمہارے جد امجد ابرہیمؑ کی سنت ہے، پھر صحابہ نے پوچھا ” فَمَا لَنَا فِیْهَا يَا رَسُولَ اللّٰه؟ ” اس کے جواب میں آپؐ نے ارشاد فرمایا ” بِکُلِّ شَعْرَۃٍ حَسَنَةٌ” یعنی ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی؛
ان دونوں روایتوں سے یہ بات بخوبی معلوم ہوگئی کہ اسلام اور صاحبِ اسلام کے نزدیک قربانی کی کتنی اہمیت اور فضیلت ہے، نیز اس بات سے بھی قربانی کی اہمیت جگ ظاہر ہو جاتی ہے کہ قربانی کے ایام ( قربانی کے ایام تین ہیں ١٠/ ١١/اور ۱۲)میں اللہ رب العزت خود امتِ مسلمہ کے میزبان بنتے ہیں، اور کھانے پینے کی صرف اجازت ہی نہیں دیتے بلکہ ان ایام میں روزہ رکھنے کو حرام قرار دیتے ہیں، اب جن ایام کی بھلا خود خالقِ دوجہاں میزبانی کرے ان کی فضیلتوں کا اندازہ بھلا کون کرسکتا ہے؛
یہی وجہ ہیکہ اس موقع پر قربانی کرنا ہر صاحبِ نصاب کے اوپر واجب ہے، نہ کرنے والے پر احادیث میں سخت وعید وارد ہوئی ہے، چنانچہ اللہ کے نبیﷺ نے قربانی کی وسعت رکھنے والے پر قربانی نہ کرنے کی وجہ سے اظہارِ ناراضگی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ” مَنْ وَّجَدَ سَعَةً لِأَنْ یُّضَحِّیَ فَلَمْ یُضَحِّ فَلَا یَقْرُبَنَّ مُصَلَّانَا ” ( جو آدمی قربانی کرنے کی استطاعت رکھتا ہو پھر وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ میں حاضر نہ ہو) مطلب اس حدیث کا یہ ہیکہ کنجوس آدمی طاقت ہونے کے باوجود قربانی نہ کر کے خدا کی نافرمانی کا اظہار پہلے ہی کرچکا ہے، اب اس کا عیدگاہ میں حاضر ہونا نہ ہونا دونوں برابر ہے کہ اس نے اظہارِ نافرمانی کرکے پہلے ہی خود کو محروم بنا لیا ہے؛
قربانی کا یہ عظیم الشان تہوار حضرت ابراہیمؑ کی عظیم یادگار ہے، حضرت ابراہیمؑ نے اپنی اطاعت شعاری، فرمانبرداری اور وفاگزاری کی ایسی عظیم مثال پیش کی کہ رہتی دنیا تک کے انسانوں کے لئے اس عظیم عمل کو بدرجۂ وجوب قرار دے دیا گیا ، آپ کی قربانی میں اخلاص و للہیت اور تقویٰ و طہارت کا ایسا عظیم جذبہ ہمرکاب تھا کہ خدا نے اسے امتِ محمدیہؐ کے دین کا ایک جز بنادیا؛
آج بھی ضرورت اس بات کی ہے اور ہر سال آنے والی قربانی ہمارے لئے یہی سبق دہراتی ہے کہ ہم بھی اپنے اندر اطاعت شعاری اور وفاداری کی اعلی صفت پیدا کریں، قربانی کا جو جذبہ حضرت ابراہیمؑ کے دل میں موجزن تھا اسی کے مطابق ہم بھی اپنی قربانی میں وہ جذبہ پیدا کریں، اخلاص و للہیت، خوف و خشیت اور تقوی و طہارت کے دامن کو ہرگز ہاتھ سے نہ چھوڑیں؛ یہی اس قربانی کا پیغام اور یہی اس تہوار کا سبق ہے؛
لیکن! صد حیف کہ آج ہماری قربانیاں نام و نمود اور نمائش و دکھلاوے کی بھینٹ چڑھ گئیں، آج ہمارے اندر سے تقوی و طہارت رخصت ہو گئ ہے اور اس کی جگہ نام و نمود نے لے لی ہے، ہم قربانی فخر و مباہات کے لئے کرتے ہیں، ہم قیمتی سے قیمتی جانوروں کا خون اپنی بڑائی اور ناموری جتلانے کے لئے بہاتے ہیں؛
یاد رکھیں! کہ ایسی قربانی ہرگز ہرگز راہِ خدا میں مقبول نہیں، یہ قربانی نہیں صرف جانور کا خون بہانا اور اس کا گوشت کھانا ہے، ایسی قربانی قربانی دینے والے کے منہ پر ماردی جاتی ہے، قربانی کی قبولیت اخلاص اور تقویٰ چاہتی ہے، کیونکہ خدا کو نہ قربانی کا خون پہونچتا ہے اور نہ ہی اس کا گوشت بلکہ صرف قربانی کرنے والے کا تقوی اور اس کا اخلاص پہونچتا ہے، اب جو آدمی اخلاص کے بھی دامن کو چھوڑ دے تو عند اللہ اس کی قبولیت کا کیا جواز رہ جاتا ہے؟؛
قربانی کا دوسرا پیغام یہ ہے کہ جب راہِ خدا میں جان یا مال کی قربانی دینے کا موقع آئے تو سرِ مو بھی اس سے انحراف نہ کیا جائے! بلکہ بلا تامل اسے کر گزرا جائے! حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کے اس درجۂ قبولیت تک پہونچنے کا یہی راز ہے کہ آپؑ نے بلا تامل حکمِ خداوندی پر لبیک کہا یہاں تک کہ فرمانِ خدا کے آگے اپنے لختِ جگر کی بھی محبت کو قربان کردیا اور اس کے گلے میں چھری پھیرنے میں نہ کسی طرح کے حیل و حجت سے کام لیا اور نہ ہی کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا اظہار کیا، معلوم ہوا کہ قربانی اللہ کو وہی مقبول ہے جو خوش دلی سے انجام دی جائے؛
تیسرا پیغام یہ قربانی ہمیں یہ دیتی ہے کہ کھانے پینے کے ان ایام میں اپنا دسترخوان وسیع رکھو! ہر حاجت مند کی ضرورت پوری کرو! جو بے چارے پیسے سے غریب ہیں اور وہ قربانی کی استطاعت نہیں رکھتے ان کے گھر تک گوشت پہونچاؤ! نہ یہ کہ انہیں نظر انداز کر کے اپنے گوشت کو فریز میں پس انداز کرنا شروع کردو، تاکہ گوشت کھانے کے ان ایام میں بھی ان کی زبانیں گوشت کے ذائقے سے محروم نہ رہیں؛ یہی قربانی کا مقصد ہے اور یہی ہے اس کا پیغام؛
اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو اخلاص کے ساتھ قربانی کے عمل کو کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے؛ اور یہ خوشیاں ہماری زندگی میں بار بار دہراتے رہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ آمین یا رب العالمین

ہو مبارک ہمیں عید الضحی عید الفطر
یہ خوشیاں ہماری زندگی میں بار بار آتی رہیں

ظفؔر امام، کھجورباڑی
دارالعلوم بہادر گنج
۹/ ذی الحجہ١٤٤١؁ھ