والدین اور سرپرستوں کو چاہئیے کہ اپنے گھروں کو بچوں کے لئے مدرسہ اور اسکول بنادیں

16

والدین اور سرپرستوں کو چاہئیے کہ اپنے گھروں کو بچوں کے لئے مدرسہ اور اسکول بنادیں
دھن گھٹا ( سنت کبیر نگر)
( عقیل احمد خان)
سن 2020 اپنے آخری مراحل میں چل رہا اور جلد ہی یہ شمسی سال ہم سے رخصت ہوجانے کو ہے،اس سال کا آغاز ہی لوگوں کے لئے غیر مفید ثابت ہوا اور مارچ کے ابتدائی مہینہ ہی سے زندگی کی تمام تر توجہات عالمی وبا کرونا وائرس کی طرف منتقل ہوگئیں اور ہر آدمی اپنی اپنی سطح پر اس سے بچنے اور احتیاط برتنے لگا،اور اب پھر ایک بار کرونا تیزی سے کئی ریاستوں میں آگے بڑھ رہا ہے،تعلیمی نظام مارچ کے ابتدائی دنوں ہی سے معطل ہونے کی وجہ سے مدارس واسکول وکالج کے طلبہ اور طالبات بھی تعلیمی سلسلہ کو جاری نہیں رکھ پارہے ہیں،اسی سلسلے میں ہمارے نمائندے نے علاقے کا دورہ کیا اور اس سلسلے میں علماء اور تعلیمی میدان کے ماہرین سے رابطہ کرکے تعلیم وتعلم کے بارے گفتگو کی،چنانچہ مدرسہ عربیہ معراج العلوم چھتہی پوکھرہ کے مہتمم مولانا ومفتی محبوب احمد قاسمی نے بتایا کہ آثار وقرائن سے پتہ چل رہا ہے کہ امسال دینی اور عصری تعلیم گاہیں مکمل طور سے نہیں کھل پائیں گی اور بچوں کو مستقبل تاریک نظر آرہا ہے،اس لئے والدین جہاں تک ممکن ہو اپنے گھروں کو ہی مدرسہ اور اسکول بنادیں اور گھروں پر ہی ان کو بنیادی تعلیمات سے روشناس کرائیں ،کیونکہ بچے ہمارا مستقبل ہیں اگر نئی نسل درست راستے پر چل بسے تو ایک اچھی فضاء سماج ومعاشرے میں قائم ہوسکتی ہے،
مولانا اختر حسین ندوی صدر مدرس مدرسہ عربیہ فیض العلوم شہر پنچایت بلہر نے کہا کہ اب امسال تعلیم ہوگی یا نہیں اس بارے میں ابھی حکومت نے کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں لیا ہے،اب تعلیم گاہیں صرف ایک رسم پورا کریں گی کیونکہ نصف سال سے زائد عرصے گزر چکا ہے،اب صرف ڈگریاں مل جائیں گی چاہے تعلیمی صلاحیت ہو یا نہ ہو ،ایسے میں ضرورت ہے کہ گھروں میں لائیبریری اور کتب خانے قائم کئے جائیں ،بڑے اور چھوٹے بچوں کے معیار کی کتابیں ہوں اور ادب اطفال پر خاصی کتابیں اکھٹا کرنے کی کوشش کی جائے،زبان وبیان کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے ادبی علمی دینی ماہنامے جاری کئے جائیں ،
مولانا شاہد حسن قاسمی ناظر عام جامعہ مقسوم العلوم بھگوتی پور نے کہا کہ افسوس آج گھر میں آسائش کی ساری چیزیں موجود ہیں،فرنیچر اور آلات واسباب کی کمی نہیں ہے لیکن اگر کمی ہے تو کتابوں اور وسائل علم کی کمی ہے بعض گھروں میں بلکہ اکثر گھروں میں تو مطالعہ کے لئے کوئی کتاب بھی موجود نہیں ہے،حالانکہ اب ضرورت ہے کہ ان حالات میں اپنی اولاد کی تعلیم کے لئے خود انتظام کریں،ان کے لئے اتالیق اور اساتذہ کا نظم کریں ،اب ہمیں حکمت کے ساتھ اپنی نسل کی تربیت کرنی پڑے گی اور ان کو تعلیمی میدان میں آگے بڑھانا پڑے گا تبھی ہماری نسل مستقبل میں ہماری ترقی کا ذریعہ ہوگی