جناب حضرت مولانا مکین صاحب رحمانی نور اللہ مرقدہ

21

ایک دھوپ تھی جو ساتھ گئی آفتاب کے!

یہ خدائی قانون اور دستور الہی ہے کہ اس روئے زمین پر بسنے والے ہر کس و ناکس کی ایک دن ضرور موت آئے گی ،اور وہ اپنا وقت مقررہ گذار اس دنیائے فانی سے چلا جائے گا ، رہے گا نام بس اللہ کا ! اسی دستور الہی اور قانون خداندوی کے مطابق گذشتہ شب ۲۸؍ جولائی ۲۰۲۰؁ ء کو ڈھائی بجے جناب حضرت مولانا مکین صاحب رحمانی نور اللہ مرقدہ ، نائب مہتمم مدرسہ چشمہ ٔ فیض ململ ہم سبھی کو الوداع کہہ گئے اور جوار رحمت میں پناہ گزیں ہوگئے اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے آمین ، مولانا مکین صاحب رحمانی ؒ اسں دنیا سے چل بسے مگر انہوں نے اپنی انمٹ نقوش چھوڑ گئے ، چند خوبیاں اور انمٹ نقوش یہ ہیں :
مولانا علمی کمالات ، اخلاقی بلندیوں اور فکری اعتدال سے شرسار تھے.

اللہ تعالی نے مولانا مکین صاحب رحمانی ؒ کو علمی کمالات ، اخلاقی بلندیوں اور فکری اعتدا ل و توا زن کا حسین آمیزہ اور امتزاج بنایا تھا ، وہ اس دور انحطاط میں سلف کے علم و اخلاق اور متانت و وقار کے ساتھ تواضع و انکسار کا نمونے تھے ، اور اللہ تعالی نے ان کو حکیمانہ بصیرت عطا کی تھی ، اور اس میں اپنی مثال آپ ؒ تھے
تواضع و انکساری ، حلم و بردباری کا پیکر تھے
اللہ تعالی نے مولانا کے اندر جو بے نفسی ، کسر ذات ، استغناء قناعت و توکل ، حلم و انکسار اور صبر و رضا کا جوہر رکھا تھا ، وہ خال خا ل ہی پایا جاتا ہے ، نماز سے ایسا عشق کہ اگر جماعت چھوٹ گئی تو صدمہ سے گر پڑے ، تہجد کے بھی پابند ، دنیا سے بے رغبتی ، اور مال و اسباب سے بے اعتنائی اس درجہ کہ نذرو نیاز قبول نہ کرتے ،آپ رحمۃ اللہ علیہ کا سراپا درمیانہ قد و قامت ، سانولا لیکن کھلتا ہوا ، کسی قدر گھنی اور سفید داڑھی ، زلف کے اوپر پانچ کلی ٹوپی ، کالر والا سفید او رلمبا کرتا ، سفید شلوار، دوہر اجسم ، ہرملنے والے سے مسکرا کر ملتے او رکم سے کم خیر و عافیت ضرور پوچھتے ، جہاں بیٹھتے اپنی وجاہت او رمتانت کی وجہ سے پہچانے جاتے ، ہم عمروں کے دوست اور چھوٹوں کے لیے سراپا شفقت و محبت ،
آپ ؒ کی مدرسہ چشمہ ٔ فیض ململ مدھوبنی سے وابستگی اور خدمات
آپ ؒ ایک عرصہ تک مدرسہ چشمہ ٔ فیض ململ مدھوبنی میں درس و تدریس کرتے رہے ، اور تعلیم و تعلم کے ذریعہ تشنگان علوم نبویہ ﷺ کی تشنگی بجھاتے رہے ،آپ ؒ مد رسہ چشمہ ٔ فیض ململ کے نائب مہتمم تھے ، صدر مہتمم آپ ؒ کے رفیق مولانا وصی احمد صاحب قا سمی ؒ تھے جو ایک ہفتہ قبل جوار رحمت میں جا پہنچے ، آپ ؒ دونوں حضرات شروع ہی سے مل جل کر ایک دوسرے کے حوصلہ افزائی کے ساتھ دینی ْخدمات میں پیش پیس رہے ، مگر آہ ! جب ایک ہفتہ قبل آپ ؒ کے رفیق محترم دنیا سے چل تو آپ ؒ نےر فیق محترم کی جدائی اور مفارقت برداشت نہیں کی اور آپ ؒ بھی چل بسے اللہ تعالی آپ ؒ کے قبر کو نو رسے منور فرمائے آمین