مشہور نابینا نعت خواں شاعر ریاض بھارتی کے اِنتقال پر سرکردہ شخصیات کا اظہار غم

32

سمریاواں، سنت کبیر نگر( روزنامہ نوائے ملت)
ہردل عزیز مشہور نابینا نعت خواں شاعر ریاض بھارتی کے انتقال سے پورے تپہ اجیار میں رنج و غم کی لہر محسوس کی گئی، جس نے سنا غم کا اظہار کئے بنا نہیں رہ سکا کیوں کہ ان کے اخلاق سے سبھی متاثر تھے، اللہ نے ان کو بینائی سے محروم کر دیا تھا، بچپن سے پچاس سال کی عمر تک انھوں نے ایسی آنکھوں کے ساتھ زندگی بسر کی تھی جن میں دنیا کو دیکھنے کے لئے روشنی نہیں تھی لیکن ان کی ہمت اور عزیمت کا صلہ تھا کہ اللہ نے انھیں حفظ قرآن کی دولت سے مالا مال فرمایا اور ایسی منفرد جادوئی آواز دی کہ ہزاروں کے بیچ میں دور ہی سے ان کی آواز پہچان لی جاتی تھی اور حیرت کی بات ہے کہ وہ بھی دور ہی سے ایک بار سنی ہوئی آواز کو آسانی سے پہچان جاتے تھے، ان کی پوربی نعتیں کون بھول سکتا ہے، ان کی ظریفانہ باتیں، خود داری، ملنساری اور خندہ پیشانی اپنے بیگانے، جانے انجانے ہر ایک کو بس ایک ملاقات میں گرویدہ بنا لیتی تھی، ایسی بلند پرکشش آواز بہت کم سننے کو ملتی ہے، ادب نوازی، اردو دوستی اور حب الوطنی ان کے رگ و ریشہ میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی، وطن سے سچی محبت کا ہی نتیجہ تھا کہ انھوں نے اپنا تخلص ریاض مجیبی سے ہٹ کر ریاض بھارتی رکھ لیا تھا، حالانکہ انھیں اپنے استاد اور مربی مشہور نعت گو شاعر مولانا مجیب بستوی سے حد درجہ محبت تھی اور اکثر جلسوں اور شعری محفلوں میں ان کی نعتیں پڑھنے میں عجیب سی لذت اور سکون محسوس کرتے تھے، غربت و افلاس کی نوبت کے باوجود کسی کے سامنے دست سوال نہیں دراز کرتے تھے، بڑی سادگی اور بھولا پن تھا ان کے چہرے پر، جہاں جو بلالے بس ایک آواز پر چل پڑتے تھے، نابینا ہونے کے باوجود شعر و شاعری کے عشق میں بلا تردد دور دور کا سفر کر لیتے تھے، انجمن افکار ادب کے صدر اور ان کے استاذ مجیب بستو ی نے تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاض مرحوم ہمارے ضلع کی پہچان تھے۔مقامی ضلع سے لیکر مہا راشٹر تک نعتیہ مشاعروں،دینی جلسوں میں نعت خواں کے طور پر حصہ لیتے۔ اپنی مسحور کن آواز سے جلوہ بکھیر تے اور داد و تحسین حاصل کرتے۔
پچاس سالہ ریاض مجیبی بھارتی کے انتقال پر سیاسی سماجی دینی و تعلیمی حلقوں میں رنج و غم ہے۔سماجوادی پارٹی کے ضلع صدر گوہر علی خان،افسر یو احمد،محمد احمد ضلع پنچایت ممبر،سید فیروز اشرف،محمود احمد سابق بلاک پرمکھ ،محمد نذیر، وکیل احمد انصاری ،شمشیر احمد مینیجر، مجیب اللہ پرنسپل،افضال احمد پردھان ،فیضان احمد،فضیل ندوی، سلمان کبیر نگری،حافظ عارف ندوی،آصف مجیب وقار احمد اثری، سینئر صحافی ظفیر علی کرخی، مولانا منیر احمد ندوی، معروف ناظم مشاعرہ غفران احمد ندوی، مولانا محمد رضوان ندوی، انظر حسین قاسمی، مجیب الرحمن قاسمی، سراج حمیدی کے علاوہ درجنوں سماجی سیاسی، علمی شخصیات نے تپہ ا جیار کے مشہور نعت خواں ریاض مجیبی کے اِنتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔کئی جگہ ایصال ثواب کا اہتمام کرکے لوگوں سے انکے لیے دعائے مغفرت کی در خواست کی گئی ہے، ان کی نعت کا مطلع
کیوں کسی اور کا تذکرہ کیجئے
کیجئے ذکر خیر الوری کیجئے
اردو دوستوں، تپہ اجیار کے لوگوں کے ذہنوں میں ایسا بسا ہوا ہے کہ آسانی سے اسے مٹایا نہیں جا سکتا ۔