ماحولیات کا تحفظ اور اسلامی تعلیمات

32

شادابی وہریالی رکھنے والی شئی ، پیڑ پودے نے اور نباتات نیچرل وجود اور فطری عناصر کی برقراری میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ نباتات ، پیڑ، پودے اور زندگی
کی ہریالی اور اس کرئہ ارضی پر زندگی کے سفر کو جاری رکھنے میں وہ حمد ومعاون بنتی اور اسے آگے سفر جاری رکھنے میں ممد بنتے ‘ ایندھن کا کام کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان پیڑ پودوں اور ہریالیوں کو عظیم نعمت قرار دیتے ہوئے احسان جتایا اور اس کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشادہے۔
وَہُوَ الَّذِیْ أَنشَأَ جَنَّاتٍ مَّعْرُوشَاتٍ وَغَیْْرَ مَعْرُوشَاتٍ وَالنَّخْلَ وَالزَّرْعَ مُخْتَلِفاً أُکُلُہُ وَالزَّیْْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُتَشَابِہاً وَغَیْْرَ مُتَشَابِہٍ کُلُواْ مِن ثَمَرِہِ إِذَا أَثْمَرَ وَآتُواْ حَقَّہُ یَوْمَ حَصَادِہِ وَلاَ تُسْرِفُواْ إِنَّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْن (سورہ انعام: 141)
اور وہی ہے جس نے باغات پیدا کئے وہ بھی جو ٹٹیوں پر چڑھائے جاتے ہیں اور وہ بھی جو ٹٹیوں پر نہیں چڑھائے جاتے اور کھجور کے درخت اور کھیتی جن میں کھانے کی چیزیں مختلف طور کی ہوتی ہیں اور زیتون اور انار جو باہم ایک دوسرے کے مشابہ بھی ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے مشابہ نہیں بھی ہوتے، ان سب کے پھلوں میں سے کھائو جب وہ نکل آئے اور اس میں جو حق واجب ہے وہ اس کے کاٹنے کے دن دیا کرو اور حد سے مت گزرو یقیناً وہ حد سے گزرنے والوں کو ناپسند کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب مقدس میں ان پیڑ پودوں میں سے بعض کے فوائد ومنافع بھی ذکر کئے اور اس سے مستفید ہونے کی طرف اشارہ کیا اوراسے ضیاع وبرباد کرنے سے بچنے کی تعلیم دی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
وَشَجَرَۃً تَخْرُجُ مِن طُورِ سَیْْنَاء تَنبُتُ بِالدُّہْنِ وَصِبْغٍ لِّلْآکِلِیْنَ (المومنون: 20)
ترجمہ:اور وہ درخت جو طور سینا پہاڑ سے نکلتا ہے جو تیل نکالتا ہے اور کھانے والے کے لئے سالن ہے ۔
اس کے علاوہ اور بھی بے شمار آیتیں ہیں جن میں انواع واقسام کے درختوں ، اس کی افادیت اور اس کے عظیم نعمت ہونے کا تذکرہ ہے۔ اسی طرح بے شمار احادیث نبویہ میں پیڑ پودوں کی اہمیت کا تذکرہ اور اس کی حفاظت کرنے کی تلقین کی ہے‘ کھیتی باڑی کرنے اور پودے لگانے سے متعلقہ حدیث کی کتابوں میں ایک مستقل کتاب ہے جو سینکڑوں ابواب پر پھیلا ہوا ہے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
ما من مسلم یغرس غرسا او یزرع زرعا فیاکل منہ طیر او انسان او بھیمۃ الا کان لہ بہ صدقۃ (بخاری حدیث نمبر 142)
جس کسی بھی مسلمان نے کوئی درخت لگایا یا کوئی کھیتی کی جس سے پرندے ، یا انسان یا چوپائے کچھ کھاتے اور اپنی بھوک مٹاتے ہیں، تو یہ اس کے لئے صدقہ ہوگا۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
من کانت لہ ارض فلیزرعھا ، فان لم یزرعھا فلیزرعھا اخاہ(مسلم)
جس کسی کے پاس قابل کاشت زمین ہو تو اسے اس میں ضرور کھیتی کرنی چاہیے ، وہ اگر اس میں خود کھیتی نہ کرسکتا ہو تو دوسرے بھائی کو اس میں کھیتی کرنی چاہیے۔
اسلام نے کھیتی کرنے ، پودے لگانے اور درخت اگانے کی بڑی تاکید کی ہے، بلکہ عمر کے آخری لمحات اور آخری سانس چلتے وقت بھی اگر اس کا موقع ملے تو ایسا کرلینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ کا ارشاد ہے۔
ان قامت الساعۃ وفی ید احدکم فسیلۃ فان استطاع الا تقوم حتی یغرسھا فلیغرسھا (بخاری479)
اگر قیامت قائم ہورہی ہو اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں کوئی پودہ ہو اور وہ قیامت قائم ہونے سے پہلے پہلے اسے لگا سکتا ہو تو اسے لگا دینا چاہیے۔
دوسری طرف اسلام نے کھیتوں کو تلف کرنے اور پیڑپودوں کو برباد کرنے سے سختی سے منع کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے بگاڑ پیدا کرنے والوں اور مفسدین کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے
وَإِذَا تَوَلَّی سَعَی فِیْ الأَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیِہَا وَیُہْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللّہُ لاَ یُحِبُّ الفَسَاد( البقرہ: 205)
جب وہ لوٹ کر جاتا ہے تو زمین میں فساد پھیلانے کی اور کھیتی اور نسل کی بربادی کی کوشش میں لگا رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ فساد کو ناپسند کرتا ہے۔
رسول ﷺ نے درختوں کو بلا وجہ کاٹنے اور پودوں کو اجاڑنے اور برباد کرنے سے سختی سے منع کیا اور سخت عواقب پر خبردار کیا ہے ۔ ارشاد ہے۔
جس نے بیری یا کسی اور درخت کو بلا وجہ وبے فائدہ کاٹا تو اللہ تعالیٰ اس کے سر کو جہنم کی آگ میںجھونک دے گا۔
اس تعلق سے تاریخ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اس وصیت وہدایت کو محفوظ رکھا ہے جو انہوں نے اپنی فوج کو اس وقت دی تھی جب انہیں ملک شام فتح کرنے کی مہم پر روانہ کیا تھا۔ خلیفہ اول نے اپنی فوج اور فوج کے سربراہ کو کہا تھا:
لا تعقروا نخلا ولا تحرقوہ ولا تقطعوا شجرۃ مثمرۃ ، ولا تذبحوا شاۃ ولابقرۃ ولا بعیرا الا لما کلہ (تاریخ الطبرانی)
کسی کھجور کے درخت کو نہ کاٹنا نہ نذر آتش کرنا ، نہ ہی کسی پھل دار درخت کو کاٹنا اور نہ کسی دودھ دینے والی گائے ، بکری اور اونٹ کو ذبح کرنا ، سوائے کھانے کیلئے۔
اس ہدایت ووصیت سے بھی یہ بات آشکارا ہوتی ہے کہ اسلام نے اس کرئہ ارضی پر موجود زندگی کی حفاظت کرنے کی دعوت دی اور پیڑ پودے ، جانور وچوپائے اور چرند وپرند کی حفاظت کرنے کی تاکید کی اور انہیں نقصان پہنچانے اور نیست ونابود کرنے سے منع کیا ہے، اس اعتبار سے کہا جاسکتا ہے کہ اسلام نے گویا ان کی حفاظت ونگہداشت کا قانون بنایا ہے، اسلام کا بنایا ہوا یہ قانون ان لوگوں کے برعکس ہے جو ماحولیات کی حفاظت کے نام پر ماحول کو برباد وآلودہ اور تباہ کررہے ہیں اور ہر طرح کی قتل وغارت گری، قطع وبرید اور آگ زنی ونذر آتش کرنے کے عمل کو اپنے لئے جائز قرار دے رکھا ہے، یہی ایک گوشہ اسلام کی عظمت وبلندی کو سمجھنے کیلئے کافی ہے۔ تھوڑا بھی عقل وشعور رکھنے والا اور اپنی آنکھوں پر پڑے تعصب کے پردوں کو ہٹا کر نگاہ دوڑانے والوں کیلئے یہ سمجھنا آسان ہے کہ دنیا کے تمام آسمانی وخود ساختہ وانسانی ہاتھوں کے بنائے قانون سے اسلام کا قانون برتر ، فطری اور ناقابل تسخیر اور ہرزمانے کے تقاضوں کے مطابق ہے، اور سلام ہی ماحولیات کے تحفظ کا صحیح وموثر محافظ ہے، آج سائنس وٹکنالوجی کافی ترقی کرچکی ہے اور اس ترقی کیساتھ ہی پیڑ پودوں اور ہریالیوں کی زندگیاںخطرے میں پڑ گئی ہیں کہ اس ترقی کے نام پر ماحولیات کو تباہ کیا جارہا ہے، درختوں کو کاٹا جارہا ہے ، جنگلوں کو اجاڑا اور ہریالیوں کو ویرانے وبنجر صحرائوں میں تبدیل کیا جارہا ہے، اور کیڑا مار دوائوں اور کیمیکل کے ذریعہ گھاسوں اور چھوٹے جانداروں کو ناپیدا کیا جارہا ‘ پہاڑوں کو کاٹ کر کالونیاں تعمیر کی جارہیں اور ندی نالیوں کے راستوں کو مسدود کیا جارہا ہے جبکہ ان کی موجودگی انسانوں اور ماحولیات کے لئے ضروری تھی۔
اسلام نے ماحولیات کی حفاظت ، راستوں ، گلیوں اور سڑکوں کی صفائی اور گھروں کو صاف ستھرا رکھنے کا حکم دیا ہے، اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے۔
ان اللہ طیب یحب الطیب النظیف یحب النظافۃ ، کریم یحب الکرم، جواد یحب الجود ، فنظفوا افنیتکم لا تشبھوا بالیہود (ترمذی)
اللہ اچھا ہے اچھوں کو پسند کرتاہے، پاک وصاف ہے ، پاکی وصفائی کو پسند کرتا ہے، مہربان ہے مہربانی کو پسند کرتاہے، سخی ہے ، سخاوت کو پسند کرتاہے، تو اپنے گھر کے صحن اور ارد گرد کو صاف ستھرا رکھو اور یہود کی مشابہت اختیار نہ کرو۔
ماحول کی صفائی وستھرائی اور اس سے گندگی وتکلف دہ چیزوں کو دور کرنے پر ملنے والے ثواب کی وضاحت کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اس راہ میں جو کوئی عمل کرتا خواہ کتنا ہی معمولی اور حقیر سا ہی عمل کیوں نہ ہو اللہ اس کو بھر پور بدلہ دے گا، یہاں تک کہ اگر کوئی راستے سے کانٹے کو ہی ہٹائے گا، تو اس پر وہ اللہ کی طرف سے اجر وثواب کا مستحق قرار پائے گا، اور اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے گا، اللہ کے نبی ﷺ کا ارشاد ہے۔
بینمارجل یمشی بطریق وجد غضن شوک علی الطریق فاخرہ، فشکرہ اللہ لہ فغفرلہ (بخاری ومسلم)
اسی دوران کہ کوئی شخص راستہ پر چل رہا ہو اور اس نے کانٹے کی ٹہنی راستے پر پایا اور اسے ہٹا دیا تو اللہ اس کا شکریہ ادا کرتا پھر اس کی مغفرت فرما دیتاہے۔
بلکہ روایتوں میں آتا ہے کہ اگر کوئی شخص گذر گاہوں سے تکلیف دہ چیزوں کو ہٹاتا اور دور کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بدلے میں جنت عطا فرماتا ہے، ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
لقد رأیت رجلا یتقلب فی الجنۃ فی شجرۃ قطعھا من ظہر الطریق کانت توذی المسلمین (مسلم)
میں نے جنت میں ایک شخص کو محض ایک درخت کاٹنے کی وجہ سے گھومتے دیکھا جو بیچ راستے میں تھا اور اس سے مسلمانوں(دوسروں) کو تکلیف ہوتی تھی۔
ماحول کو گندگی وآلودگی سے بچانے اور اس کی حفاظت کرنے کے مقصد سے ہی رسول اللہ ﷺ نے ان باتوں سے منع کیا ہے، جس کی وجہ سے کرنے والا لعنت کئے جانے کا مستحق بنتا ہے، اللہ کے نبی ﷺ کا ارشاد ہے۔
اتقوا الملاعن الثلاث ، البراز فی الموارد، وقارعۃ الطریق، والظل (ابوداؤد وابن ماجہ)
تین لعنت کئے جانے کے قابل عمل سے بچو ، یعنی پانی کے گھاٹ (جہاں سے پانی لیتے ہیں) راستے کے کنارے اور سائے میں بول وبراز کرنے سے ‘ جس طرح مادی وجسمانی ایذا رسانی سے لوگوں کو منع کیا گیا ہے اسی طرح صوتی ایذا رسائی سے بھی منع کیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشادہے۔
وَاقْصِدْ فِیْ مَشْیِکَ وَاغْضُضْ مِن صَوْتِکَ إِنَّ أَنکَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ (سورہ لقمان: آیت نمبر 19)
اپنی رفتار میں میانہ روی اختیار کر، اور اپنی آواز پست کر یقیناً آوازوں میں سب سے بدتر آواز گدھوں کی آواز ہے ۔
اسی طرح رسول ﷺ نے ٹھہرے ہوئے پانی میں بول وبراز کرنے سے بھی منع فرمایا ہے، جس کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ پانی صاف ستھرا اور قابل استعمال برقرار رہے، وہ خراب وبدبو دار ومتعفن اور ناقابل استعمال نہ ہوجائے کہ اس میں مکھی ، مچھر اور دوسرے مضر حشرات وجراثیم کی افزائش ہو اور آلودگی کی وجہ سے ایسی بیماریاں پیدا ہوں جو انسانوں کے لئے نقصان دہ ہوں بلکہ دوسرے جانوروں اور دیگر جانداروں کیلئے بھی مضر ہوں۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے۔
لا یبولن احدکم فی الماء الراکد ثم یغتسل فیہ (بخاری)
تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے کہ پھر اس میںغسل کرنے کی حاجت اسے پیش آجائے۔
ذخیرہ احادیث پر نظر ڈالنے سے ہمیں اس بات کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام نے انسانی زندگی اور جانداروں وپودوں کی حفاظت کرنے اور صحت وتندرسی پر توجہ دیتے رہنے کی بڑی تاکید کی اور اسے دوسری مخلوقات پر فوقیت وفضیلت بخش کر اس کی تکریم کی ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْ آدَمَ وَحَمَلْنَاہُمْ فِیْ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاہُمْ مِّنَ الطَّیِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاہُمْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلاً(سورہ اسراء ۷۰)
یقیناً ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی اور انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں اور انہیں پاکیزہ چیزوں کی روزیاں دیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر انہیں فضیلت عطا فرمائی ۔
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کیلئے ساری کائنات اور آسمانوں وزمین اور اس کی موجودات کو مسخر کردیا ہے، یہ اتنی بڑی نعمت ہے جس کا نہ اندازہ کیا جاسکتا اور نہ اسے شمار کیا جاسکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشادہے
أَلَمْ تَرَوْا أَنَّ اللّٰہَ سَخَّرَ لَکُمْ مَّا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الْأَرْضِ وَأَسْبَغَ عَلَیْْکُمْ نِعَمَہٗ ظَاہِرَۃً وَّبَاطِنَۃً وَّمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِیْ اللّٰہِ بِغَیْْرِ عِلْمٍ وَلَا ہُدًی وَّلَا کِتَابٍ مُّنِیْرٍ (سورہ لقمان ۲۰)
ترجمہ:کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان کی ہر چیز کو ہمارے کام میں لگا رکھا ہے اور تمہیں اپنی ظاہری وباطنی نعمتیں بھرپور دے رکھی ہیں، بعض لوگ اللہ کے بارے میں بغیر علم کے اور بغیر ہدایت کے اور بغیر روشن کتاب کے جھگڑا کرتے ہیں۔
ان اسلامی تعلیمات کا تقاضا بلکہ ہمارا فریضہ ہے کہ ہم ماحول کی حفاظت میں اپنا رول ادا کریں ، صاف ستھرے رہیں اور گرد وپیش کو صاف رکھیں، حکومت وقت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ انسانی ودیگر موجودات کی زندگی کی حفاظت میں اپنی ذمہ داری نبھائے، آج طرح طرح کی بیماریاں پھیل رہی ہیں، ہمارے ملک وشہر میں ڈینگو اور اس جیسے خطرناک بخار اور دوسری بیماریوں کا دور دورہ ہے جس کا سبب مچھر بتایا جاتا ہے، اور یہ وائرس ومچھرا یسے پانی جمع ہونے کی جگہوں میں پلتے ہیں جسے ہم نے گندا اور متعفن کردیا ہے، اس طرح کی بیماریوں کے سد باب کے لئے علاج وادویہ دریافت کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے بنیادی اسباب کا ازالہ کرنا چاہیے، ان اسباب وعوامل کا ازالہ کئے بغیر محض دوائوں کی ایجاد ومفید وکارگر وموثر ثابت نہیں ہوںگی۔

٭٭٭