عید قرباں ہم سے کیا چاہتی ہے؟

26

اسلام میں عید وتہوار عبادت وبندگی کی مظہر اور روحانیت کی پرتو ہوتی ہے ، ان ایام میں صاحب ایمان محسوس کرتا ہے کہ اللہ کی اطاعت وبندگی اور اس کی فرمانبرداری سے کس حد تک اس کا تعلق اور درسگاہ ایمان واعمال صالحہ سے کس قدر اس کی وابستگی ہے، وہ اسلامی شعائر کو انجام دے کر اور عبادت کے بتائے طریقوں پر عمل کرکے کس طرح اللہ کے نزدیک مقام ومرتبہ اور عزت وشرف حاصل کرسکتا ہے، کیونکہ یہ عبادت وشعائر اسلام اسی لئے مشروع کئے گئے ہیں کہ یہ احساس عبدیت کو جگاتے ، نفوس کو پاک وصاف کرتے اور اندرونی آلائشوں کو دھو کر اسے نکھارتے ہیں۔
عید قرباں بلا شبہ بڑی خوشی وشادمانی لے کر آتی ہے، یہ اور بات ہے کہ موجودہ حالات میں وباء کے پھیلائو کے وقت ہم اس کے کما حقہ اظہار سے قاصر اور شعائر اسلام کی ادائیگی سے بڑی حد تک بے بس وعاجز ہیں، مگر ہمیں اس بات پر خوشی ہے کہ ہم اسلام کی دولت سے مالا مال اور اس کے بتائے ہوئے قواعد وضوابط اور تعلیمات وہدایات پر عمل کرنے کیلئے پر جوش وحوصلہ مند ہیں۔
ہماری یہ عید درحقیقت ہمارے لئے انبیاء ورسل کے ساتھ کئے گئے عہد وفاء کی تجدید اور ان کی سیرتوں کو اپنانے کی تلقین ہے کہ کس طرح انہوں نے مشکل حالات کا مقابلہ کیا، راہ خدا میں مصائب وآلام برداشت کئے اور بلند حوصلے اور امید وبیم کیساتھ کس طرح حالات کا رخ موڑا اور مایوسی کو خوشی وشادمانی میں تبدیل کیا۔ انہوں نے اپنے عزم وحوصلے ، جانفشانی ، انتھک محنت اور کر گذرنے کی لگن کیساتھ لوگوں کو اور آنے والی نسل اور قیامت تک کیلئے بنی نوع انسان کو پیغام دیا کہ اگر انہیں کامیابی حاصل کرنی ہے تو وہ حالات کا مقابلہ کریں، انبیاء کی سیرتوں کو اپنے لئے مشعل راہ بنائیں، اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر قدم آگے بڑھاتے رہیں اور مایوسی وناامیدی کو اپنے اندر در آنے کا کبھی موقع نہ دیں۔
آج ہم اگر صحیح معنوں میں عید قرباں منانا چاہتے اور سنت ابراہیمی کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو ہمارا سب سے پہلا فریضہ ہے کہ ہم اپنے دلوں کو صاف کریں ، حق وصداقت پر جمے رہنے کا عزم کریں اور خود اپنے اندر غور کریں کہ ہمارا اعتماد وبھروسہ اللہ پر کس حد تک ہے، ہم اللہ کی وحدانیت کا کس حد تک عملی ثبوت پیش کررہے ہیں، ہم اللہ کی باتوں کو کتنا مان رہے اور اس کے مطابق عمل کررہے ہیں، ہم کس قدر آپس میں بھائی چارگی کو فروغ دے رہے ہیں، ہم کہاں تک اپنوں، رشتہ داروں اور عام مسلمانوں کے حقوق ادا کررہے ہیں۔ ہم کس قدر سماج کو جوڑنے اور انتشار سے دور رکھنے کا کام کررہے ہیں، ہم کس قدر اتحاد واتفاق قائم کرنے کیلئے کوشاں اور سماجی تعاون کو فروغ دینے کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ہم کس قدر یتیموں ، اسیروں، اور بیوائوں کا سہارا بن رہے ہیں۔ ہم کس قدر مظلوموں کی مدد کیلئے دست تعاون دراز کررہے اور فقراء ومساکین کی حاجت روائی کررہے ہیں، ہم کس حد تک چھوٹوں کیساتھ شفقت ورحمت کا برتائو کررہے اور بڑوں کی عزت وتوقیر کرتے ہوئے باہمی الفت ومحبت کو عام کررہے ہیں۔
ہم کہاں تک اس بات کے لئے کوشاں ہیں کہ مسلمانوں کے درمیان اخوت اور الفت ومحبت عام ہو، ان کے حالات کس طرح بہتر ہوں، انہیں کس طرح فائدہ پہنچایا اور مستغنی کیا جاسکتا ہے، انہیں کس طرح ظالموں کے ظلم سے بچایا جاسکتا ہے اور جابروں کے جبر کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔
ہماری عید خوشی کا پیغام اسی وقت لا سکتی ہے جبکہ ہمارے شب وروز اس طرح گزریں کہ ہم اللہ کی نافرمانی سے کنارہ کش ہوں، ہمارے قلوب آپسی کدورتوں سے صاف ہوں، ہم قطع رحمی سے تائب ہو کر صلہ رحمی کیساتھ زندگی گذار رہے ہوں، ہماری دونوں عیدیں بڑی عظیم الشان عبادتوں کے اختتام اور اس کے نچوڑ کے طور پر آتی ہیں، عیدالفطر رمضان کے روزوں کے بعد اور عید قرباں حج کے سب سے اہم اور بڑے رکن وقوف عرفہ کے بعد جس کا ایک اہم پیغام اور حکمت وموعظت سے لبریز اشارہ ہے۔
عید صرف اس کا نام نہیں کہ ہم نماز عید وقربانی جیسی بعض عبادتوں اور بعض دینی امور کو انجام دے کر فارغ ومطمئن ہوجائیں، اور قربانی پیش کرکے سمجھیں کہ ہم نے حق ادا کردیا، بلکہ ہماری عید اسی وقت صحیح معنوں میںعید ہوسکتی ہے جبکہ ہم اس کے اندر چھپے پیغام کو سمجھیں اور اس پر عمل پیرا ہوں، امت کے ہر فرد اور ہر جماعت وگروہ کے درمیان ہم اتحاد واتفاق پیدا کرنے کی کوشش کریں ، امت کے ادنیٰ سے اعلیٰ درجہ کے ہر فرد کے مسائل کو اپنے مسائل سمجھیں ، اسے حل کرنے کی مشترکہ جدوجہد کریں، ا مت کے درد کو اپنا درد سمجھیں، غریبوں ،یتیموں ، بیوائوں ، مظلوموں ، بے کسوں اور بے وزگاروں کی حاجت روائی کریں اور ان کا سہارا بنیں، اور رسول اللہ صلعم کی اس وصیت کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کریں جو آپ صلعم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا تھا اور ہر طرح کی گروہ بندیوں اور تفرقہ پردازیوں کا خاتمہ کیا تھا، ہماری یہ عید ہم سے متقاضی ہے کہ ہم اس موقع سے اللہ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کریں، اس کی توفیق ونعمتوں پر اس کا شکر بجا لائیں، صلہ رحمی کریں اور ارد گرد کے لوگوں کی خبر رکھیں ، اور اس کی دوسروں کو دعوت دیں۔
ہمیں سمجھنا چاہیے کہ ہماری یہ دونوں عیدیں دو اہم عبادتوں کی انجام دہی اور اس کے اختتام پر کیوں مشروع کی گئی ہیں، عید الفطر رمضان کے روزوں کے بعد ہے جس میں انسان اپنے نفس کے ساتھ بڑا مجاہدہ کرتا ، اپنی خواہشات ومرغوبات کو قربان کرتا اور حکم خداوندی کو نفسانی خواہشات اور جسمانی تقاضوں پر غالب کرتا ہے، اسی طرح عید قرباں وقوف عرفہ کے بعد آتی اور اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ انسان گویا دنیوی آلائشوں ، مادی وابستگیوں اور ساری دنیوی تعلقات سے آزاد ہو کر اللہ سے جڑ چکا ہے وہ توحید اور اخلاص وللہیت کا علمبردار بن چکا ہے اور اس کا عملی ثبوت جانور قربان کرکے دیتا ہے، جو اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ انسان کو جن جن چیزوں سے خاص تعلق ووابستگی ہوتی اور جن چیزوں سے والہانہ الفت ومحبت ہوتی ہے اسے بھی وہ رضائے الٰہی کے لئے قربان کرسکتا ہے، راہ خدا میں اگر مال ومتاع ، اولاد وقرابت ، دولت وثروت ، جاہ ومنصب بھی اگر حائل ہو تو وہ اسے بھی قربان کرسکتا، اور دنیا وآخرت میں اپنے پروردگار کی خوشنودی کیلئے کچھ بھی کر گذرنے کیلئے تیار ہے، خواہ اسے دنیا کی ہر چیز قربان کردینی پڑے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بڑے امتحانوں سے گذرنا پڑا، اور وہ ہر امتحان میں نہ صرف کامیابی حاصل کرتے رہے بلکہ قیامت تک آنے والی انسانیت کے لئے اسوئہ ونمونہ چھوڑ گئے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
واذ ابتلیٰ ابراہیم ربہ بکلمات فاتمھن قال انی جاعلک للناس اماما(البقرۃ:124)
اور جب ابراہیم علیہ السلام کو ان کے رب نے کئی کئی باتوں (یعنی احکام، مناسک، ذبح ولد، ہجرت ، نار نمرود، وغیرہ) سے آزمایا اور انہوں نے سب کو پورا کردیا تو اللہ نے فرمایا کہ میں تمہیں لوگوں کا امام بنا دوں گا۔
حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے خواب دیکھا کہ وہ اپنے صاحبزادے اسماعیل کو ذبح کررہے ہیں، اور انہوں نے اسے عملی جامہ پہنچانے کی کوشش کی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
پھر جب وہ بچہ اتنی عمر کو پہنچا کہ اس کے ساتھ چلے پھرے تو ابراہیم نے کہا کہ میرے پیارے بچے، میں خواب میں اپنے آپ کو تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، تو بتا کہ تیری کیا رائے ہے، بیٹے نے جواب دیا کہ ابا جو حکم ہوا ہے اسے بجا لائیں ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیںگے۔ (الصافات:102)
حضرت ابراہیم واسماعیل علیہما السلام کا یہ عمل جسے باری تعالیٰ بڑے شان سے قرآن میں ذکر کے امت محمدیہ کو اس جانب توجہ دینے واختیار کرنے کی ترغیب دلا رہے ہیں ، رب ذو الجلال اور خالق کائنات کی مشیت ومرضی پر کامل ایمان ومحکم یقین کی قابل فخر مثال ودلیل ہے۔ اللہ کا لطف وکرم ، رحمت وشفقت اور عنایت وفضل ہر انسان کے ساتھ عام ہوتا ہے، انسان جب سخت مشکل گھڑی میں گھرا ہوتا اور امتحان وابتلاء سے دو چار ہوتا ہے تو اس وقت بھی اللہ کا رحم وکرم شامل حال ہوتا ہے، حدیث قدسی میں ہے اللہ کے نبی صلعم نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ جب مخلوق کو پیدا کرکے فارغ ہوئے تو لوح محفوظ میں لکھ دیا جو عرش پر ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ ( بخاری 7404, 3194,7534، مسلم 2751)
انسان گر یہ ذہن میں رکھے کہ اس ابتلاء وآزمائش میں بھی اللہ کی حکمت ومصلحت ہے، اور وہ اس کے ذریعہ رحم وکرم اور لطف وعنایت کی بارش برسانا چاہتے ہیں تو بندہ آسانی کیساتھ آزمائش کے اس موج مارتے سمندر سے پار لگ سکتا ہے۔
آج ہمیں رسول اللہ صلعم کا حجۃ الوداع اور اس میں دیا گیا آپ کا نہایت بلیغ وجامع خطبہ یاد آرہاہے جس میں ساری انسانیت کے لئے سبق اور عبرت وموعظت ہے۔ اس خطبہ میں آپ صلعم نے دیگر باتوں کے علاوہ کتاب وسنت کو مضبوطی سے تھامنے اور اہل بیت کیساتھ اپنی وابستگی کو قائم رکھنے ، ان کے حقوق ادا کرنے اور ان سے محبت کرنے کی وصیت کی ہے۔
ہماری یہ عید ہم سے متقاضی ہے کہ ہم سماج کی بھلائی کیلئے قربانی دینے کے لئے تیار ہوں، ہم آپسی پھوٹ کو پس پشت ڈالیں، ہمارے دمیان جو حائل دیواریں ورکاوٹیں کھڑی ہیں، اسے دور کریں، ہم اپنے دوسرے مسلمانوں کے لئے امن وامان کے پیغامبر بنیں، اپنے قرابت داروں ورشتہ داروں کیساتھ صلہ رحمی کریں، اپنے پاس پڑوس کی خبر گیری کریں، ان کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھیں، ان کے مسائل کو اپنے مسائل باور کریں، سماج کو باہمی تعاون کے اسلامی اصول پر استوار کریں کہ ان میں میل ملاپ ، الفت ومحبت ، اتحاد واتفاق اور بھائی چارگی کا ماحول پیدا ہو۔ خیر خواہی کا جذبہ پروان چڑھے، آپسی رنجشوں ، کدورتوں ، بغض وحسد ، کینہ کپٹ، عداوت ودشمنی اور جذبہ انتقام کا خاتمہ ہو، اور عفو ودرگذر وایثار وقربانی ہمارا شعار بنے۔
ذرا غور کریں کہ کیا ہم مسلمان رسول اللہ صلعم کی ان احادیث اور ان ہدایات کے مطابق زندگی گذار رہے ہیں ، کیا ہم کتاب اللہ سے جڑے ہیں کیا ہم رسول اللہ صلعم کی سنت واحادیث پر عمل پیرا ہیں، کیا ہم نے اہل بیت کی سیرت کو اپنایا ہے، کیا ہمارا تعلق ان تعلیمات وہدایات کیساتھ گہرا ہے ، کیا دوسرے مسلمانوں کی جان ومال اور عزت وآبرو ہماری زیادتیوں و دست درازیوں سے محفوظ ہے؟
اگر ہم واقعی عید منانا چاہتے اور قربانی دے کر اللہ کا قرب حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم کتاب وسنت سے جڑیں، اہل بیت کی سیرت کو اپنائیں، اور ان تعلیمات پر عمل کریں جس کی وصیت رسول اللہ صلعم نے کی ہے۔ اس کے بغیر ہماری عید بے معنی اور ہماری قربانی بے قیمت ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلعم نے حجۃ الوداع میں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
قد یئس الشیطان بان یعبد بارضکم۔
شیطان مایوس ہوچکا ہے کہ تمہاری اس سرزمین میں اب اس کی عبادت کی جائے گی۔ مگر وہ اس بات سے خوش اور راضی ہے کہ اس کی اطاعت وفرمانبرداری کی جائے گی دیگر جگہوں پر ان امور میں جس کو تم معمولی سمجھتے ہو، اس لئے لوگو! تم لوگ اس سے آگاہ ومتنبہ اور ہوشیار رہو، میں نے تمہارے درمیان وہ چیز چھوڑی ہے کہ اگر تم نے اسے مضبوطی سے تھام لیا تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے، اور وہ چیز ہے اللہ کی کتاب اور اس کے نبی صلعم کی سنت، ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ کسی مسلمان کے لئے اپنے دوسرے مسلمان بھائی کا مال حلال نہیں ، سوائے اس کے جو وہ اسے خوش دلی سے دے، ایک دوسرے پر ظلم ، اور نا انصافی نہ کرنا، اور میرے بعد کافروں کی طرح نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔ (مستدرک حاکم، 318، سنن کبریٰ للبیہقی ، 20838 حدیث صحیح)
حضرت سلیمان بن عمرو بن الاحوص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلع کو حجۃ الوداع میں لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ آپ نے خطبہ کے دوران صحابہ سے سوال کیا:
یہ کون سا دن ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ یہ حج کا سب سے بڑا دن ہے، تو آپ صلعم نے فرمایا! تمہاری جان ، تمہارا مال اور تمہاری آبرو تمہارے اوپر حرام ہے، اس دن اور اس شہر کی حرمت کی طرح، خبر دار کوئی کسی پر ظلم وزیادتی نہ کرے، جو ظلم کرے گا اپنے اوپر ظلم کرنے والا ہوگا، کوئی والدین اپنی اولاد پر زیادتی نہ کریں، آگاہ رہنا کہ شیطان مایوس ہوچکا ہے کہ اب تمارے ان شہروں میں کبھی بھی اس کی عبادت کی جائے گی، البتہ اس کی اطاعت وپیروی کی جائے گی ان اعمال کے اندر جسے تم معمولی سمجھتے ہو ، وہ اس پر راضی و خوش رہے گا۔ (سنن ترمذی 2159، التمہید لابن عبد البر 331/24 ، صحیح الجامع للالبانی 2937، حدیث صحیح)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلعم نے حجۃ الوداع میں عرفہ کے اندر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:
میں تمہارے درمیان ثقلین ( دو وزنی چیز) چھوڑ کر جارہا ہوں، پہلی چیز تو کتاب اللہ ہے جس میں نور وہدایت ہے، اس لئے اللہ کی کتاب کو پکڑ لو، اور اسے مضبوطی سے تھام لو، پھر کتاب اللہ کے بارے میں خوب ترغیب دی اور اس پر عمل کرنے کے لئے لوگوں کو ابھارا، پھر فرمایا: اور دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں، میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں یاد دہانی کراتا ہوں ، یہ بات آپ صلعم نے تین بار دہراکر اہل بیت کے حقوق کا خیال رکھنے کی بار بار وصیت کی اور ان سے محبت کو ایمان کا حصہ قرا دیا۔ (صحیح مسلم 1218)
اس وقت ہند پاک ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میں جہاں کہیں بھی مسلمان ہیں اس پھیلی ہوئی وباء کے زمانہ میں بھی کعبۃ اللہ کے معمار اول اور بڑے موحد کی بڑی قربانی کی یاد منانے کی تیاریاں کررہے ہیں، بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح ان کی قربانی کو حسن قبول عطا فرمایا وہ ہماری قربانی کو بھی قبول فرما سکتے ہیں، بشرطیکہ ہمارے اندر بھی وہی اخلاص وللہیت اور ایمان ویقین ہو ، ہم اپنے اندر جھانک کر دیکھیں کہ کیا ہم نے اسے مقبول کرانے کی کوشش کی ہے؟ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ ہماری یہ قربانی بے حقیقت رسم نہیں کہ کچھ مال وزر خرچ کرکے اور ایک جانور خرید کر ذبح کردینے سے ادا ہوجاتی ہو، خلیل اللہ کی قربانی ایسی نہیں تھی بلکہ ان کا عمل وہ تھا جس کا ذکر خود باری تعالیٰ نے فرمایا ہے۔
میری نماز، اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے، جو سارے جہان کا مالک ہے۔ (الانعام:162)
ان کا اعتماد وایمان اللہ پر تھا، وہ حکم خدا وندی کے سامنے اپنی ساری محبتوں، الفتوں اور دلی خواہشات کو قربان کرنے والے تھے، وہ چہیتے اور بڑی تمنائوں ، آرزوئوں اور دعائوں کے بعد بڑھاپے میں ہونے والی اولاد کو خدا کی راہ میں چھری کے نیچے لے آنے والے تھے، ہم ذرا غور کریں کہ ہمارا عمل کیا ان کے اعمال سے کوئی مناسبت رکھتا ہے؟ وہ اولاد کو ذبح کرنے کے لئے تیار تھے مگر ہم اپنی اولاد کو مغربی تہذیب اور ان کے سانچے میں ڈھالنے سے روکنے کیلئے تیار نہیں ، ہم انہیں دین کی خدمت کرنے کیلئے تیار کرنے کیلئے راضی نہیں ، بلکہ اگر ہم سے کہا جائے کہ بچوں کو دینی تعلیم دیں ، یہود ونصاری کی روش اور ان کے لباس وپوشاک سے دور رکھیں ، ان کی تہذیب اختیار کرنے سے انہیں بچائیں تو کہنے والے کا ہی مذاق اڑایا جاتا ہے، بھلا اس کے باوجود ہماری یہ قربانی عند اللہ مقبول ہوسکتی ہے اور اس طرح کے بے روح قربانی کیا معنی رکھتی ہے؟ اگر ہم واقعی قربانی کرنا چاہتے ہیں تو پہلے ہم اپنی انا کو قربان کریں، ایثار وتحمل، بے نفسی وبے لوثی ، خدمت خلق وخلوص وخیر خواہی کو اپنائیں، انتقامی جذبات کو قربان کریں، اور اپنی عیش وعشرت کو راہ خدا میں قربان کریں۔ تب جا کر ہماری جانوروں کی قربانی حقیقی قربانی ہوگی۔
انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں میری بات