کورونا وبائی مرض کے نرغے میں نمازِ عیدالاضحی اور قربانی کے احکام

21

ارریہ(توصیف عالم مصوریہ)نوائےملت
کورونا وبائی مرض کے پھیلاؤ کے پیش نظر مرکزی وصوبائی حکومتوں کے فیصلوں کی وجہ سے عیدگاہ ومساجد میں نمازِ عیدالاضحی کے بڑے اجتماعات شاید نہ ہوسکیں، جس کی وجہ سے بعض جگہوں پر مسلمانوں کو عید الفطر کی طرح عید الاضحی کی نماز بھی گھروں میں ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ ہمیں کوشش یہی کرنی چاہئے کہ عیدالفطر اور عید الاضحی کی نمازیں عیدگاہ یا مساجد میں ادا ہوں۔ اگر کسی جگہ عیدگاہ یا مسجد میں نمازِ عید ادا کرنا ممکن نہ ہو تو پھر گھروں میں بھی ادا کی جاسکتی ہے، جس کے لئے امام کے علاوہ تین افراد کافی ہیں۔
عید الاضحی کی نماز: عید الاضحی کے دن دو رکعت نماز جماعت کے ساتھ بطور شکریہ ادا کرنا واجب ہے۔ عید الفطر کی نماز کا وقت طلوع آفتاب کے بعد سے شروع ہوجاتاہے، جو زوال آفتاب کے وقت تک رہتاہے، مگر زیادہ تاخیر کرنا مناسب نہیں ہے۔ عید کی نماز میں زائد تکبیریں بھی کہی جاتی ہیں جن کی تعداد میں فقہاء کا اختلاف ہے، البتہ زائد تکبیروں کے کم یا زیادہ ہونے کی صورت میں امت مسلمہ نماز کے صحیح ہونے پر متفق ہے۔ 80 ہجری میں پیدا ہوئے مشہور فقیہ ومحدث حضرت امام ابوحنیفہؒ نے 6 زائد تکبیروں کے قول کو اختیار کیا ہے۔ نماز جمعہ کے لئے اذان اور اقامت دونوں ہوتی ہیں، لیکن عیدکی نماز کے لئے اذان اور اقامت دونوں نہیں ہوتی ہیں۔ نمازجمعہ کے لئے جو شرائط ہیں وہی عیدین کی نماز کے لئے بھی ہیں، یعنی جن پر نماز جمعہ ہے انہی پر نماز عیدین بھی ہے، جہاں نماز جمعہ جائز ہے وہیں نماز عیدین بھی جائز ہے۔ جس طرح جگہ جگہ نماز جمعہ ادا کیا جاسکتا ہے اسی طرح ایک ہی شہر میں مختلف جگہوں بلکہ لاک ڈاؤن جیسے حالات میں گھروں میں بھی نماز عیدین ادا کرسکتے ہیں۔ گھروں میں ادا ہونے والی نمازِ عید میں گھر کی خواتین بھی شرکت کرسکتی ہیں۔
نمازِ عید پڑھنے کا طریقہ: سب سے پہلے نماز کی نیت کریں۔ نیت اصل میں دل کے ارادہ کا نام ہے، زبان سے بھی کہہ لیں تو بہتر ہے کہ میں دو رکعت واجب نمازِ عید چھ زائد تکبیروں کے ساتھ پڑھتا ہوں۔ پھر اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لیں اور ثنا یعنی سبحانک اللہم۔۔۔ پڑھیں۔ اس کے بعد تکبیر تحریمہ کی طرح دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھاتے ہوئے تین مرتبہ اللہ اکبر کہیں، دو تکبیروں کے بعد ہاتھ چھوڑدیں اور تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ باندھ لیں۔ ہاتھ باندھنے کے بعد امام صاحب سورہئ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھیں مقتدی خاموش رہ کر سنیں۔ اس کے بعد پہلی رکعت عام نماز کی طرح پڑھیں۔ دوسری رکعت میں امام صاحب سب سے پہلے سورہ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھیں مقتدی خاموش رہ کر سنیں۔ دوسری رکعت میں سورت پڑھنے کے بعد دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھاکر تین مرتبہ تکبیر کہیں اور ہاتھ چھوڑدیں۔ پھر بغیر ہاتھ اٹھائے اللہ اکبر کہہ کر رکوع کریں اور باقی نماز عام نماز کی طرح مکمل کریں۔ نماز عید کے بعد دعا مانگ سکتے ہیں لیکن خطبہ کے بعد دعا مسنون نہیں ہے۔
خطبہ عید الفطر: عید الفطر کی نماز کے بعد امام کا خطبہ پڑھنا سنت ہے، خطبہ شروع ہوجائے تو خاموش بیٹھ کر اس کو سننا چاہئے۔ لاک ڈاؤن میں مختصر نماز پڑھائی جائے اور مختصر خطبہ دیا جائے۔ دیکھ کر بھی خطبہ پڑھا جاسکتا ہے۔ اگر کسی جگہ کوئی خطبہ نہیں پڑھ سکتا ہے تو خطبہ کے بغیر بھی نماز عید ہوجائے گی کیونکہ عید کا خطبہ سنت ہے فرض نہیں۔ قرآن کریم کی چھوٹی سورتیں بھی خطبہ میں پڑھی جاسکتی ہیں۔ جمعہ کی طرح دوخطبے دئے جائیں، دونوں خطبوں کے درمیان تھوڑی دیر کے لئے امام صاحب ممبر یا کرسی وغیرہ پر بیٹھ جائیں۔
اگر کسی شخص کو نمازِ عید پڑھنے کا موقع نہ مل سکے تو پھر وہ دو دو رکعت کرکے چاشت کی چار رکعت ادا کرلے۔ صحابی رسول حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس کی عید کی نماز فوت ہوجائے تو وہ چار رکعت ادا کرلے۔
نماز عید کے بعد عید ملنا: نمازِ عید سے فراغت کے بعد گلے ملنا یا مصافحہ کرنا عید کی سنت نہیں ہے، نیز اِن دنوں کورونا وبائی مرض بھی پھیلا ہوا ہے، اس لئے نماز عید سے فراغت کے بعد گلے ملنے یا مصافحہ کرنے سے بچیں کیونکہ احتیاطی تدابیر کا اختیار کرنا شرعیت اسلامیہ کے مخالف نہیں ہے۔
عیدالاضحی کی سنتیں: عید کے دن غسل کرنا، مسواک کرنا، حسب استطاعت اچھے کپڑے پہننا، خوشبو لگانا، ایک راستہ سے عیدگاہ جانا اور دوسرے راستے سے واپس آنا، نماز کے لئے جاتے ہوئے تکبیر کہنا (اَللہُ اَکْبَر، اَللہُ اَکْبَر،لَا اِلہَ اِلَّا اللہُ، وَاللہُ اَکْبَر، اَللہُ اَکْبَر، وَلِلہِ الْحَمْد) یہ سب عید کی سنتوں میں سے ہیں۔
تکبیر تشریق: پہلی ذوالحجہ سے ہر شخص کو تکبیر تشریق پڑھنے کا خاص اہتمام کرنا چاہئے، تکبیر تشریق کے کلمات یہ ہیں: اَللہُ اَکْبَر، اَللہُ اَکْبَر،لَا اِلہَ اِلَّا اللہُ، وَاللہُ اَکْبَر، اَللہُ اَکْبَر، وَلِلہِ الْحَمْد۔ 9 ذی الحجہ کی فجر سے 13 ذو الحجہ کی عصر تک 23 نمازوں میں ہر فرض نماز کے بعد یہ تکبیر ضرور پڑھیں۔ 9 ویں ذی الحجہ کو روزہ رکھنے کی خاص فضیلت احادیث میں وارد ہوئی ہے۔
عیدالاضحی کی قربانی: قرآن وحدیث کی روشنی میں علماء کرام نے تحریر کیا ہے کہ ہر صاحب استطاعت پر قربانی واجب ہے۔ ایک گھر کے تمام افراد کی طرف سے ایک قربانی کافی نہیں ہے بلکہ ہر صاحب استطاعت (جس کے پاس تقریباً 35 ہزار روپئے ہوں) کو اپنی طرف سے قربانی کرنا چاہئے۔ کوئی شخص ایک سے زیادہ قربانی (نفلی) کرے تو بہتر ہے کیونکہ حضور اکرم ﷺ کے فرمان کے مطابق قربانی کے دنوں میں کوئی نیک عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک قربانی کا خون بہانے سے بڑھ کر محبوب اور پسندیدہ نہیں۔ بکرا، بکری، دنبہ اور بھیڑ میں ایک حصہ، جبکہ گائے، بیل، بھینس، بھینسا اوراونٹ اونٹنی میں 7 افراد شریک ہوسکتے ہیں۔ بکرا یا بکری ایک سال جبکہ گائے اور بھینس 2 سال اور اونٹ 5 سال کا ہونا ضروری ہے۔ جن جگہوں پر حکومت کی طرف سے گائے کی قربانی پر پابندی ہے وہاں گائے کی قربانی سے گریز کریں۔ 10 ذوالحجہ سے 12 ذو الحجہ کے غروب آفتاب تک دن رات میں کسی بھی وقت قربانی کی جاسکتی ہے، لیکن دن میں اور پہلے دن کرنا بہتر ہے۔ حضور اکرمﷺ  کے گھر میں اشیاء خوردنی نہ ہونے کی وجہ سے کئی کئی مہینے تک چولہا نہیں جلتا تھا، پھر بھی آپﷺ اہتمام سے ہر سال قربانی کیا کرتے تھے۔ نیز قربانی کے اسلامی شعار اور واجب ہونے کی وجہ سے ہر ممکن کوشش ہونی چاہئے کہ قربانی کے دنوں میں جانور ذبح کیا جائے۔ اگر کسی وجہ سے خود قربانی نہیں کرسکتے تو کسی دوسری جگہ کروادیں۔ اور اگر کوشش کے باوجود قربانی کے دنوں میں قربانی نہیں کی جاسکی تو پھر قربانی کی قیمت قربانی کے ایام گزرنے کے بعد غرباء میں تقسیم کردی جائے۔ قربانی ایک صدقہ ہے، جس طرح دیگر صدقے مرحومین کی طرف سے کئے جاسکتے ہیں اسی طرح مرحومین کی جانب سے نفلی قربانی بھی کی جاسکتی ہے، حضور اکرمﷺ کے چچازاد بھائی اور داماد حضرت علی رضی اللہ عنہ آپﷺکی وفات کے بعد سے پوری زندگی آپ ﷺ کی طرف سے ہر سال قربانی کیا کرتے تھے۔ قربانی کا جانور بے عیب اور تندرست ہونا چاہئے۔ شہروں میں نمازِ عید کے بعد ہی قربانی کریں، البتہ دیہات جہاں نماز عید نہیں ہوتی ہے وہاں قربانی صبح ہونے کے بعد کبھی بھی کی جاسکتی ہے۔ قربانی کے گوشت کے تین حصے کرنا ضروری نہیں ہے لیکن کرلیں تو بہتر ہیں: ایک اپنے گھر کے لئے، دوسرا رشتہ داروں اور تیسرا غرباء کے لئے۔ اسلام مذہب میں صفائی اور طہارت کی خاص تعلیمات دی گئی ہیں، لہذا اس موقع پر صفائی ستھرائی کا مکمل اہتمام کریں اور قربانی کے فضلات ایسی جگہ نہ ڈالیں جس سے کسی کو تکلیف ہو۔
قربانی کا طریقہ: جانور کو اچھے طریقہ سے بائیں پہلو پر قبلہ رخ لٹاکر ”بسم اللہ،اللہ اکبر“ کہتے ہوئے تیز دھار چھری سے جانور کو اس طرح ذبح کریں کہ چار رگیں کٹ جائیں۔ ”حُلقُوم“: سانس کی نلی، ”مرئی“: خوراک کی نلی، ”وَدجَین“: خون کی دو رگیں جن کو شہ رگ کہا جاتا ہے۔ ان چار رگوں میں سے اگر تین رگیں بھی کٹ گئیں تب بھی ذبیحہ حلال ہوجائے گا۔ ذبح کے وقت گردن کو پورا کاٹ کر الگ نہ کیا جائے۔ جانور کو ذبح کرنے کے بعد تھوڑی دیر چھوڑدیں تاکہ سارا خون باہر نکل جائے، پھر کھال اتاریں۔ ذبح کرنے سے قبل یہ دعا پڑھ لیں: إِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِیْفاً وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ۔ إِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ لاَ شَرِیْکَ لَہُ وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ۔ ذبح کرنے کے بعد یہ دعا پڑھیں: اَللّٰهُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّیْ کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ خَلِيْلِکَ اِبْرَاهِيْمَ عَلَيْہِ السَّلَام وَحَبِيْبِکَ مُحَمَّد صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّم۔ اگر قربانی کسی دوسرے کی طرف سے کریں تو ”منی“ کے بجائے ”من“کہہ کر اس کا نام لیں۔ اور اگر قربانی کے جانور میں 7 شریک ہوں تو اُن ساتوں کے نام لئے جائیں۔