ظلم تا دیر نہیں رہتا،صابرقاسمی

31

ظلم تا دیر نہیں رہتا،صابرقاسمی
ارریہ(توصیف عالم مصوریہ)نوائےملت
   آئے دن جس طرح کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے نہ کہ کمی کی خوش آئند خبر سنے کو مل رہی ہے ٹھیک اسی طرح ملک عزیز میں بد امنی ،فرقہ پرستی ،ماحول میں پراگندگی ، مکروفریب، فسطائیت ،جبروتشدد ، بھوک مری ، بےروزگاری، نسل نو کی تباہی کے اسباب،اقلیتوں پر ناجائزیورشیں، بے گناہوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بےجا دھکیلنے کا سلسلہ،حق کی آواز بلند کرنے والے کےخلاف مقدمہ، فقر وافلاس اور تنگدستی، مہنگائی،ذرائع آمدنی کی قلت اور خودکشی کی وارداتیں بڑھ رہی ہیں جب کہ ایسے حالات میں ذات پات کو چھوڑ کر انسانیت کو ترجیح دینے کو مقصد حیات سمجھنا چاہیے اور بد امنی کی جگہ امن وامان، فرقہ پرستی کے بجائے یگانگت،  جبروتشدد کو ختم کر کے عدل و انصاف، بے روزگاروں کو روزگار،نسل نو کی تعمیروترقی،اقلیتوں پر خاص دھیان ،اصلی مجرموں کو سزا،حق کی آوازکو بلند کرنے والے کی حوصلہ افزائی،ذرائع آمدنی کی فراوانی اور خود کشی کے واقعات کو روکنے پر توجہ دینا چاہیے ؛کیوں کہ یہ سب مہلک بیماریاں اور ظلم وستم ایک ایسا ناسور ہے جو معاشروں، خاندانوں ، سلطنتوں، شاہی نظاموں ، مملکتوں اور پرانی تہذیبوں کو لے ڈوبتےہیں اور اس کے مفاسد اور نقصانات اتنے عظیم ہیں کہ ظالم اور ان مہلک بیماریوں کا روگی اس کابرا انجام خود اپنی آنکھوں سے اسی دنیا میں دیکھ لیتا ہے اورہر خونخوار، فریبی اور مغرور کا سر نیچا ہوا ہے اور ہوتا رہے گا جیسا کہ ہوس کا شکار اور ناپاک عزائم دل میں لئے قابیل نے اپنے نیک اور پارسا بھائی کے خون سے اپنے ہاتھوں کو لت پت کیا، قتل کے بعد اسے ایک پل بھی سکون نہ آیا ،اس کے دل میں ندامت کی آگ سلگتی رہی اور قلبی اطمینان کو تباہ وبرباد کرتی رہی ، دنیائے انسانیت کے پہلے پیغمبر حضرت آدم علیہ السلام کے دل کو آزردہ کیا،بھائی بہنوں کی نفرت کو مزید ہوا دیا  اور اندرونی اضطرابی کیفیت مفت میں رہی ۔              

   ہابیل کے مڈر کےبعد قابیل کے لئے اس کی لاش کو ٹھکانے لگانے کا مسئلہ اہم تھا ، اسے اس کی عقل کی روشنی میں تدفین کا طریقہ سمجھ میں آ سکتا تھا لیکن اس کی نادانی اور نا سمجھی کا احساس دلانے کے لئے عیاری ومکاری اور دنائت میں مشہور پرندہ کوا کو رہنما بنایا گیا، جس پر قابیل نے بڑی حسرت سے کہا تھا : ” ہائے افسوس ! کیا میں ایسا گزراہوگیا کہ اس کوے جیسا نہ بن سکا ” ۔ 

  نیزفرعون نے بھی اپنی تباہی وبربادی سے چھٹکارا پانے کے لئے ایک مبہم خواب کی وجہ سے بنی اسرائیل کے بے شمار معصوم بچوں کو قتل کیا اور موسی علیہ السلام کی قوم کے مردوں کو غلام اور عورتوں کو لونڈی بنایا لیکن آخرش ایک دریا نے اپنے طلاطم خیز موجوں میں  اس کا قصہ تمام کردیا اور اس کے فوجی،سپاہی،غلام اور رعایا اس کی بے بسی کا منظر دیکھتے رہے اور اس کی چیخ و پکار اور توبہ کسی کام نہ آئی اور اسی طرح فرعون کا درباری ملازم ،نہایت گھٹیا درجے کا چاپلوس ، غریبوں کا خون چوس چوس کر دولت کا انبار لگانے والا ،سونے چاندی اور قیمتی ہیرے جواہرات کا ذخیرہ اندوزی کرنے والا قارون نہایت پر لے درجے ظالم و جابر تھا ، غریبوں،  یتیموں ، بے سہاروں اور کمزوروناتواں کے حقوق ہڑپ کر جانا اس کی عادت ثانیہ بن چکی تھی ، اسی چیز نے اس کو بہت بڑا سرمایہ دار اور صاحب ثروت بنادیا تھا ، اسی کے ساتھ وہ بڑا دیوث ، بے انتہا مغرور و متکبر، بخیل،سرکشی کا ایوارڈ پانے والا ناہنجار  بھی تھا نیز دولت کے نشہ میں چور ہونے کی وجہ سے اپنے اعزواقارب،  یتیموں، مسکنوں اور ہر کس و ناکس سےاپنے آپ کو بہت الگ سمجھتا تھا اور اپنے مقابلے دوسروں کو حقیر و ذلیل تصور کرتاتھا، حضرت موسی علیہ السلام نے اسے سمجھا یا کہ ظلم،تکبر،بخل اور فساد سے باز آجاؤ کیوں کہ یہ چیزیں اللہ کو پسند نہیں ہے اس کے باوجود اپنے رویے کو نہیں بدلا بالآخر اللہ کا عذاب آیا اور اس کو خزانے اور محلات سمیت زمین میں دھنسا کر تباہ وبرباد کردیا اور اس کا نام لینے والا بھی کوئی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اس کو اچھا کہنے والا موجود ہے ۔

آج کی تاریخ میں آر ایس ایس اور اس کے حامیین خاص کر مرکزی حکومت میں عہدوں پر قابض نکمے درندے اور عقل کے اندھے ،اس دنیائے انسانیت کا سب سے بڑا  ظالم و جابر ،قاتل اور انسانیت کا ننگا ناچ کرنے والے اپنے انجام کار سے بے خبر ہیں انہیں نہیں پتہ ہے کہ ہمیں بھی جمہوری ملک میں  رہنا ہے ، ہمیں بھی حالات کا سامنا کرنا ہے اور ایک ہمارا نام لینے کےلئے کوئی تیار نہ ہوگا اور ایک دن ان کا شیرازہ بکھر جائےگااور کس طرح ذ لیل و رسوا ہو کر ذلت کی موت مریں گے کہ دنیا کے لئے نشان عبرت ہوگا۔