مسجد آیا صوفیا کی بازیابی – کیا مسلم ممالک کے حکمران خوش ہیں؟

13

یہ ایک حقیقت ہے کہ جب ابن آدم اپنی ہی نظروں سے گر جائے اور اپنی حیثیت دوسروں سے کم سمجھنے لگے تو پھر اس کا ضمیر مر چکا ہوتا ہے اور اس کے اندر کی خود اعتمادی، خودمختاری، ہمت و حوصلہ، قوت عزم وارادہ فوت ہوجاتی ہے اور اس کی مثال اس معمولی رسی سے بندھے اونٹ کی سی ہوجاتی ہے جسے اک چھوٹا سا معصوم بچہ بھی جہاں چاہتا ہے ہنکا لے جاتا ہے. اگر جغرافیائی اعتبار سے اندازہ لگایا جائے تو خالق ارض و سماوات نے مسلمانوں کے زیر قیادت زمین کے ان ٹکڑوں کو رکھا ہے جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور ان کے ہاتھ میں ایسی کنجی دی ہے کہ پوری دنیا کے کل کارخانے ، زراعت، کاروبار، تجارت و معیشت، آمدورفت کے وسائل یہاں تک کہ پوری دنیا کے انسانوں کا اک اک پل ان سے وابستہ ہیں. اگر دنیا ان قدرتی ذخائر و وسائل سے تہی دامن ہوجائے تو زندگی کی گاڑی کو ایسی بریک لگ جائے گا کہ ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکتی.
ہم نے بچپن میں اپنے بوڑھوں سے سنا تھا کہ اللہ جس کو زیادہ مال و دولت عطا فرماتے ہیں تو اس کی عقل سلب کر لی جاتی ہے، ایسا ہی کچھ نظارہ ان اسلامی خلیجی ممالک کا ہے جسے رب کائنات نے قدرتی ذخائر سے مالا مال کیا ہے.
عیش و آرام کی زندگی، دولت کا انبار، تیل کے کنویں، ہیرے جواہرات کی چمک، لعل و گوہر کی دمک، ریشمی لباس عالی شان محلات، یورپ اور لندن کے کالجوں کی تعلیم، سوئٹزرلینڈ کی سیاحت، بے دینی، گمراہ زندگی اور دنیا کی محبت نے اسلامی ملکوں کے حکمرانوں کو اندر سے مکمل طور پر کھوکھلا، بزدل، ڈرپوک، دینی غیرت و حمیت سے عاری اور خدا دوستی سے کوسوں دور کردیا ہے. سیکولرازم کے نام پر انہوں نے اسلامی تعلیمات، اصول حیات نبوی اور خدائی قوانین کو ایک ایک کر کے کھرچ کھرچ کر مٹانا شروع کر دیا ہے، اپنے دنیاوی آقاؤں اور باپوں کو خوش کرنے کے لئے وہ اپنے حقیقی آقا و مولا کو ناراض کر رہے ہیں. افسوس کا مقام ہے کہ کیا انہیں قرآن کی آیات اورنبوی پیشن گوئیوں پر یقین نہیں؟ کیا انہوں نے سورہ مائدہ کی آیت نمبر 82 نہیں پڑھی؟ اور احادیث نبویہ ان کی نظروں سے اوجھل ہو گئیں؟ یا وہ عرب ہو کر عربی زبان نہیں سمجھتے؟
جس قوم کو قرآن کریم اسلام کا سب سے بڑا دشمن کہہ رہا ہے وہ ان سے عاشقی لڑا رہے ہیں ان کے دسترخوان پر بیٹھ کر ڈنر کھا رہے ہیں اس سے بڑھ کر ضمیر فروشی اور کیا ہو سکتی ہے،
. جو بھی خدائی احکامات پر عمل پیرا ہونے پر رکاوٹ کا سبب بنے گا وہ ہمارا اور خدا کا دشمن ہے. جو اک بھی مسلمان کا قاتل ہے وہ سارے مسلمانوں کا بلا شک و شبہ دشمن ہے اور پوری مسلم قوم کو اس کے ساتھ دشمنی کا حق ادا کرنا دینی اور اسلامی فریضہ ہے. جو ہمارے بھائی کا دشمن وہ ہمارا دوست نہیں ہوسکتا وہ ہمارا دشمن ہے اور دشمن کے ساتھ ایسے حالات میں دشمنوں جیسا برتاؤ کرنا عین حق ہے تاکہ اس کو احساس ہو کہ وہ غلط کررہا ہے اور اسے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے. مسلم ممالک کے حکمرانوں کو اتفاق و اتحاد، یقین و اعتماد اور دوستی و اخوت کی اتنی مضبوط ڈور سے بندھ جانا ہوگا کہ دشمن کی لاکھ کوششوں کے باوجود ان کے اندر نااتفاقی اور ناچاقی پیدا نہ ہو، انھیں حضرت امیر معاویہ کے اس واقعہ سے اتحاد و اتفاق کا سبق لینا چاہیے کہ جنگ صفین کے بعد روم کے بادشاہ نے حضرت امیر معاویہ کو خط لکھا کہ علی کے خلاف جنگ کے لئے میں آپ کا ساتھ ہر طرح سے دینے کے لئے تیار ہوں ہم دونوں مل کر علی پر حملہ کرتے ہیں، تو اس کو حضرت امیر معاویہ نے جواب لکھا ” اے نصرانی کتے! اگر حضرت علی کا لشکر تیرے خلاف روانہ ہوا تو سب سے پہلے حضرت علی کے لشکر کا سپاہی بن کر تیری آنکھ پھوڑنے والا امیر معاویہ ہوگا” پوری اسلامی دنیا خلافت عثمانیہ کی تاریخ سے واقف ہے کہ جب اتحاد کے مالے میں ساری امت دانوں کی طرح پروئی ہوئی تھی تو دنیا ہمارے نام سے بھی کپکپاتی تھی چہ جائے کہ وہ دشمنی مول لینے کی غلطی کریں. آج آپسی ناچاقی اور نااتفاقی کی وجہ سے دشمن اک اک کو باری باری سے برباد کر رہا ہے اور دوسرا خوش ہے کہ وہ محفوظ ہے، مگر پھر اس کی باری بھی آجاتی ہے.
اگر یہ ذمہ داری کا احساس مسلم حکمرانوں پر ہوتا تو آج ایک کمزور اور نہتھے مسلم کو بھی ہاتھ لگانے سے پہلے پوری دنیا کی حکومتیں سو بار استخارہ کرتی.
اللہ تعالٰی کی یہ عادت ہے کہ ہر دور میں کوئی موسی بھیجتا ہے جو باطل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر صرف بات ہی نہیں کرتا بلکہ وقت آنے پر باز کی طرح باطل کی آنکھیں نوچ لیتا ہےرجبرجبرجب طیب اردگان اسلام کو وہ عزت بخشنا چاہتے ہیں تو خدا نے اسے عطا کیا ہے، کیونکہ کہ گیدڑ کی سوسالہ زندگی سے شیر کی اک دن کی زندگی کافی ہے.
انہوں نے خدا کےدشمنوں کے ساتھ وہی سلوک کیا اور کر رہے ہیں جو ان کے ساتھ ایک سچے مسلمان حکمران کو کرنا چاہیے، ان کا خدا کے قادر مطلق ہونے پر ایسا ہی یقین ہے جیسے لوگوں کو سورج کی موجودگی کا ہوتا ہے. یورپ اور امریکہ کی دوستی اور دشمنی ان کے نظروں میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی ان کی ترجیحات میں رب العزت کی خوشنودی اول ہے، قدم بھلے زمین پر ہے مگر اڑان آسمان پر ہے اور آیا صوفیا کی بازیابی ان کے اس کامیابی کا پیش خیمہ ہے. وقت آگیا ہے کہ تمام مسلم حکمران یورپ کے خداؤں کی اطاعت گزاری سے دامن جھاڑ کر ایک علم کے نیچے آئیں اور زمانے کی قیادت و سیادت کی ذمہ داری سنبھالیں.