قوم کی فلاح و بہبود کیلئے علماء آگے آئیں: شفیق الرحمٰن

17

قوم کی فلاح و بہبود کیلئے علماء آگے آئیں: شفیق الرحمٰن

نئ دہلی21نومبر (نامہ نگار)حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ (م ۱۱۰ھ) فرماتے ہیں: حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی نیا "فتنہ” نمودار ہوتا ہے، تو عالم پہلے واقف ہوتا ہے جبکہ جاہل کو اس کے گذر جانے کے بعد معلوم ہوتا ہے ۔( مترجم: ابو عبد اللہ بلال حسین کشمیری۔بحوالہ- ابن سعد (7 / 166) شفیق الرحمٰن نے کہا کہ ادھر کچھ دنوں سے ‘لوجہاد’ کا لفظ خبروں کی زینت بنا ہوا ہے، یہ لفظ موجودہ دنوں کی ایک نئی ایجاد ہے،اس کے ایجاد کرنے والے اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں: جب کوئی مسلم لڑکا یا لڑکی کسی غیر مسلم سے شادی کر کے اسے مسلم بنا دیتے ہیں تو اسکے اس عمل کو "لو جہاد” کہتے ہیں۔ ان کے اس عمل کی وجہ سے ملک میں بہت سی جگہوں پر تشدد پھیلا ہے، اس پر اسلامی علماء خاموش ہیں،جبکہ انہیں اس پر بولنا چاہئے،انہیں یہ بات واضح کرنی چاہئے کہ زور زبردستی کسی کا مذہب تبدیل کرانا اسلام میں حرام ہے۔ اور پیغمبر صاحب نے اپنے زمانے میں کسی کو بھی اسلام قبول کرنے کے لئے مجبور نہیں کیا۔ایمان میں کوئی زور جبر نہیں ، سیدھے راستے کو غلط سے الگ کردیا گیا ہے ، لہذا جو بھی طاغوت سے کنارہ کرتا ہے اور اللہ پر یقین رکھتا ہے اس نے سچا ہاتھ پکڑ لیا ہے۔ اور اللہ سب سنتا اور جانتا ہے۔(۲/۲۵۰)قرآن کی آیتیں یہ واضح کرتی یں کہ کسی کو بھی دوسرے پر اسلام کو تھوپنے کا کوئی حق نہیں بلکہ اسلام پاک صاف روح کے ساتھ اپنایا جا سکتا ہے،آج آج انٹرنیٹ کا زمانہ ہے ایسے میں علماء کو قوم کی حفاظت کے لئے آگے آنا چاہئے اور سبھی عوامی پلیٹ فارم پر صحیح اوت درست پیغام دینا چاہئے۔“پیغمبر کا یہ فرض ہے کہ وہ محض یغام پہونچائے،اللہ سب جانتا ہے،کہ وہ کیا کہ رہے ہیں اور کیا چھپا رہے ہیں،(قراں ۵/۹۱)یہ آیت یہ صاف کرتی ہے کہ پیغمبر محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) کو بھی محض یہی حق حاصل تھا کہ وہ اسلامی علم کو دنیا تک لے کرجائیں ۔جہاں تک محبت کا سوال ہے توقرآن اور حدیثیں مسلمانوں پر یہ پابندی لگاتی ہیں کہ وہ غیر عورتوں کی طرف نگاہ نا اٹھائیں،انہوں نے مزیدکہا کہ علماء کو یہ بات سبھی کو بتانی چاہئے انہیں کہنا چاہئےکہ ” لوجہاد "کی اسلام میں کوئی جگہ نہیں ہے، اور اس سے ہونے والی اسلام کی بدنامی سے بچائیں،انہیں اسلام کےصحیح مطلب سب کےسامنے رکھنے چاہئیں تاکہ مسلم نوجوانوں کو بچایا جا سکے،